صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

ڈاکٹر ہرش وردھن نے سنڈے سمواد ۔4 کے دوران سوشل میڈیا یوزرس سے بات چیت کی

’’حکومت 400 سے 500 ملین کووِڈ۔19 ویکسین خوراک حاصل کرنے اور استعمال کرنے کے لئے منصوبہ وضع کر رہی ہے‘‘
’’حکومت کا ہدف جولائی 2021 تک 20 سے 25 کروڑ افراد کا احاطہ کرنا ہے‘‘
’’ریاستوں کو ماہ اکتوبر کے آخر تک ترجیحی آبادی گروپ کے بارے میں تفصیلات ارسال کرنے کے لئے کہا گیا‘‘
’’کووِڈ۔19 حفاظتی ٹیکہ فراہم کرانے کے معاملے میں ہراول دستے کے صحتی کارکنان کو ازحد ترجیح دی جائے گی‘‘
’’ویکسین کی حصولیابی کا عمل مرکزی طور پر انجام دیا جا رہا ہے اور ہر ایک کھیپ کو صحیح وقت پر حاصل کیا جائے گا‘‘
’’بھارتی ویکسین مینوفیکچررس کو سرکاری مدد دی جارہی ہے‘‘
’’بھارت کووِڈ۔19 ہیومن چیلنج ٹرائلزشروع کرنے کا منصوبہ وضع نہیں کر رہا ہے‘‘
’’حکومت ویکسین تک مساوی طور پر رسائی کو یقینی بنانے کی غرض سے تمام اقدامات کرنے کے لئے عہدبستہ ہے‘‘

Posted On: 04 OCT 2020 2:26PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی، 03 ستمبر 2020: مرکزی وزیر برائے صحت و کنبہ بہبود، ڈاکٹر ہرش وردھن نے سنڈے سمواد کی چوتھی قسط کے تحت سوشل میڈیا انٹیرکٹرس کے ذریعہ پوچھے گئے سوالوں کے جواب دیے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے اس قسط کے لئے اپنے سوالات درج کرائے تھے، ان کے ذہنوں میں کووِڈ ویکسین کے بارے میں ہی باتیں تھیں۔ انہوں نے صبر  و اطمینان کا مظاہرہ کرتے ہوئے کووِڈ میں پلازما تھیریپی کے استعمال، کووِڈ کی روشنی میں 2025 تک تپ دق کا خاتمہ اور بھارت میں اسکول کھولے جانے سے متعلق سوالات کے تفصیلی انداز میں جوابات دیے۔

ویکسین کی تقسیم کاری سے متعلق ترجیح کے بارے میں سوال پر ڈاکٹر ہرش وردھن نے جواب دیا کہ وزارت صحت فی الحال ایک فارمیٹ تیار کر رہی ہے جس کے تحت ریاستیں ویکسین حاصل کرنے والے ترجیحی آبادی گروپ  کی فہرست فراہم کریں گی، اس میں کووِڈ۔19 کی انتظام کاری میں مصروف عمل ہراول دستے کے صحتی کارکنان کو خصوصی طور پر توجہ دی جائے گی۔ ہراول دستے کے صحتی کارکنان کی فہرست میں سرکاری اور پرائیویٹ شعبے کے ڈاکٹرس، نرسیں، نیم طبی عملہ، صفائی ستھرائی سے متعلق کارکنان، آشا کارکنان، نگراں افسران اور مریضوں کی تلاش، جانچ اور علاج کے عمل میں مصروف دیگر پیشہ وارانہ زمروں کے کارکنان شامل ہیں۔

یہ کام اکتوبر کے آخر تک مکمل کر لیے جانے کا ہدف ہے اور کولڈ چین سہولیات اور دیگر متعلقہ بنیادی ڈھانچے ، جو بلاک کی سطح تک درکا ر ہوگی، کےبارے میں تفصیلات داخل کرانے کے لئے ریاستوں کی قریب سے رہنمائی کی جا رہی ہے۔ مرکز ایچ آر، تربیت، دیکھ ریکھ وغیرہ میں صلاحیت سازی کے لئے بڑے پیمانے پر منصوبے وضع کر رہا ہےاور 400 سے 500 ملین ڈوز حاصل کرنے اور اس کے استعمال کا سرسری تخمینہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت جولائی 2021 تک تقریباً 20 سے 25 کروڑ افراد کا احاطہ کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت ان منصوبوں کو تیار کرتے ہوئے کووِڈ۔19 بیماری کے سلسلے میں قوت مدافعت سے متعلق اعداد و شمار پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔

جناب ہرش وردھن نے کہا کہ نیتی آیوگ رکن (صحت) جناب وی کے پال کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی پورے منصوبہ کا خاکہ تیار کر رہی ہے۔ ویکسین کی خریداری مرکزی طور پر کی جا رہی ہے اور جب تک سب سے ضرورت مند تک اس کی رسائی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، ویکسین کی ہر کھیپ صحیح وقت پر حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی ملک میں مختلف ٹیکوں کی فراہمی کی معینہ مدت کو سمجھنے کے لئے کام کر رہی ہیں اور بھارت کی تجارتی سامان کی فہرست اور سپلائی چین مینجمنٹ کے لئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں ویکسین کی خوراک دستیاب کرانے کے لئے ویکسین مینوفیکچررس سے عہد لے رہی ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ خطرے والے گروپوں کو بھی ترجیح دی جائے گی۔ اس کام میں پیش رفت ہو رہی ہے جسے ٹیکہ کاری پروگرام کے کام کو تیزی سے شروع ہونے کی یقینی دہانی کے لئے ٹیکہ تیار ہونے کے وقت تک پورا کر لیا جائےگا۔

پنجاب میں افواہ پھیلانے والوں کے ذہنوں میں بیٹھی گمراہ کن غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے ڈاکٹر ہرش وردھن نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی کہ کووِڈ۔19 وبائی مرض حکومت کی سازش تھی، جو صحت مند افراد کے جسمانی عضو حاصل کرنے کے لئے رچی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت عالمی بینک، ایشین انفراسٹرکچرل انویسٹمنٹ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے کووِڈ۔19 انتظام کاری کے لئے حاصل کیے گئے 15000 کروڑ روپئے کے قرض کے سلسلے میں کووِڈ۔19 ایمرجنسی ردعمل کی عمل آوری کے لئے مالی ایجنسیوں کے مالی غور و فکر کی بندشوں میں قید نہیں ہے۔

انہوں نے ایک اور جواب دہندہ کو یقین دہانی کرائی کہ ویکسین کی سپلائی میں بدانتظامی یا کالابازاری نہیں ہوگی۔ ویکسین پہلے سے طے شدہ، ترجیحی اور سلسلہ وار طریقے سے تقسیم کی جائے گی۔ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لئے پورے عمل کی تفصیلات آئندہ مہینوں میں شیئر کی جائیں گی۔ انہوں نے حفظانِ صحت سے متعلق کارکنان، بالغوں یا جن کی صحت ٹھیک نہیں ہے، انہیں ترجیح دیے جانے پر زور دیا۔

اسی طرح کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی دیگر کے مقابلے دوسری ویکسین کی خوبی پر تبصرہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ حالانکہ اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ خواہ ہمارے پاس کئی ٹیکے موجود ہوں، تاہم وہ سبھی محفوظ ہوں گے اور وہ سبھی کورونا وائرس کے خلاف متوقع حفاظتی نظام کو متاثر کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین بھارت کے باہر کلینکل تجربات میں محفوظ، مدافعتی نظام اور مؤثر ثابت ہونے والی سبھی ویکسینوں کو بھارتی آبادی میں اپنی حفاظت اور قوت مدافعت ثابت کرنے کے لئے سخت تجربے سے گزرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ یہ تجربہ بہت چھوٹے نمونوں پر بہت تیزی سے کیے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے مختلف کلینکل تجربات کی سطح  کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں سبھی مجوزہ کلینکل تجربات کو طے شدہ اصولوں پر عمل کرتے ہوئے کیا گیا  ہے اور اس کا سخت جائزہ ڈرگ کنٹرول جنرل آف انڈیا کے ذریعہ تشکیل شدہ ماہرین کی کمیٹی کے ذریعہ کیا گیا۔ ابھی حال ہی میں ڈی سی جی آئی نے بھارت میں کووِڈ۔19 ٹیکہ لائسنس کے لئے ریگولیٹری ضروریات پر رہنما خطوط کا مسودہ تیار کیا ہے۔ بھارت میں روس کی ’’اسپتنک ۔ وی‘‘ ویکسین کے تیسرے مرحلے کے کلینکل تجربات کے تعلق سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈاکٹر ہرش وردھن نے واضح کیا کہ یہ معاملہ ابھی بھی زیر غور ہے اور تیسرے مرحلے کے تجربات کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ ٹیکہ کاری کے بعد رونما ہونے والے واقعات عام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکہ کاری کے بعد ہونے والے ردعمل کے طور پر سوئی لگنے والی جگہ پر درد، ہلکا بخار اور سرخی، گھبراہٹ، کنکپی، بے ہوشی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ واقعات، عارجی اور خود تک ہی محدود ہیں اور ویکسین کے تحفظی عمل کو متاثر نہیں کرتے ہیں۔ ایک متعلقہ سوال پر انہوں نے ہیومن چیلنج تجربے سے وابستہ اخلاقی مسائل کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ ’’بھارت  اس طرح کا تجربہ کرنے کا تب تک کوئی منصوبہ نہیں بنا رہا ہے جب تک یہ عالمی تجربات کی بنیاد پر مستقل طور پر فائدہ مند ثابت نہ ہو۔ بھارت میں ٹیکے کی یقین دہانی کے لئے بہتر طریقہ کار ہیں جو کلینکل ٹرائلز  کو کامیابی کے ساتھ پورا کرتے ہیں اور نووَل کورونا وائرس کے خلاف محفوظ اور مؤثر ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’جب یہ کیا جاتا ہے، تو ہیومن چیلنج تجربہ بہتر پیش گوئی، احتیاط اور نگرانی کے ساتھ کیا جانا چاہئے۔ حاصل ہونے والی معلومات کی اہمیت اس سے انسانوں کو لاحق خطرے کے حساب سے واضح طور پر طے کی جانی چاہئے۔

ایک خوراک کے بجائے ویکسین کی دوگنی خوراک دینے کے بارے میں اپنے خیالات ساجھا کرتے ہوئے ڈاکٹر ہرش وردھن نے تسلیم کیا کہ وبائی مرض پر فوری طور پر قابو پانے کے لئے ایک ہی خوراک دینا لازمی ہے۔ حالانکہ، ایک خوراک کا استعمال کرکے درکار قوت مدافعت حاصل کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درکار قوت مدافعت حاصل کرنے کے لئے مناسب ہے کیونکہ پہلی خوراک سے کچھ قوت مدافعت حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوراک اس میں اضافہ کرتی ہے۔

انہوں نے اسکولوں کے کھلنے پر وزارت داخلہ کے ذریعہ جاری کردہ رہنما خطوط کا ذکر کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ طلبا صرف والدین کی اجازت کے بعد اسکول میں حاضر ہو سکتے ہیں اور طلبا کے لئے حاضری کو لازمی نہیں کیا جائے گا۔ جن اسکولوں کو کھولنے کی اجازت ہے، انہیں حکومت کے ذریعہ طے شدہ ایس او پی پر لازمی طور پر عمل کرنا ہوگا۔

وزیر موصوف نے معمر شہریوں کی مدد کے لئے حکومت کے ذریعہ کیے گئے اقدامات کے بارے میں بات چیت کی۔ سبھی سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتالوں کو ترجیحی بنیاد پر کسی بھی ممکنہ کورونا متاثر بزرگ کے علاج اور جانچ کے سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ سرکار کے کال سینٹروں کو کہا گیا ہے کہ وہ بزرگوں کی شکایتوں کو سنجیدگی سے سننے اور انہیں فوری طور پر صلاح دینے کے لئے کہا گیا ہے۔ وزارت صحت نے معمر شہریوں کے لئے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ وبائی مرض کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ سبھی اولڈ ایج ہومز کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ کورونا سے بزرگوں کی حفاظت کے لئے تمام تدابیر کریں اور ایک نوڈل افسر تعینات کرے۔ 60 برس یا اس سے زیادہ عمر کے سی جی ایچ ایس مستفیدین کو سیدھے ان کے گھر پر مفت ادویہ فراہم کی گئیں۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے کووِڈ وبائی مرض کے دور میں ٹی بی کے معاملے میں سخت محنت کے بعد حاصل ہوئے فوائد کی حفاظت کے لئے اٹھائے اقدامات کے بارے میں بتایا۔اس دوران مرکزی ٹی بی ڈویژن، صحت و کنبہ بہود کی وزارت کے ذریعہ ایڈوانس ہدایات جاری کی گئی تھیں اور ٹی بی سہولیات کی جاری رکھنے کو یقینی بنانے کے لئے ریاستوں / اضلاع کے ساتھ با ت چیت کی گئی۔ وبائی مرض کے دوران مصروف عمل بنے رہنے کے لئے ٹی بی تشخیصی تجربہ گاہ کے لئے رہنمائی فراہم کی گئی۔ دواہوں کی توسیعی مدت، تپ دق کے مریضوں کے لئے اضافی احتیاط پر جاری گھر گھر ڈلیوری اور صلاح کار کے لئے سہولت فراہم کی گئی۔ نئی نگرانی حکمت عملی تیار کی گئی۔  تپ دق روک تھام سہولتوں کا فائدہ اٹھایا گیا اور ادارہ جاتی بنیاد پر اسکریننگ کے لئے مدد فراہم کی گئی۔ بیداری سے متعلق سرگرمیاں شروع کی گئیں جو بیماری کے پھیلاؤ، روک تھام اور اس پر قابو پانے سے متعلق کاموں پر مرتکز تھیں۔وزیر موصوف نے کہا کہ تپ دق کی وجوہات جیسے غریبی، سوئے تغذیہ، گھر کی ناقص حالت، کمیونٹی صفائی ستھرائی اور صحت سے متعلق خراب رویہ کے باوجود 2025 تک تپ دق کو ختم کر دیا جائے گا۔

تیوہار کے موسم سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر موصوف نے عزت مآب وزیر اعظم کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’جان ہے تو جہان ہے‘‘۔ ہم تیوہاروں کا لطف تبھی لے سکتے ہیں جب ہم صحت مند ہوں۔ آنے والے تیوہاروں کے موسم میں پوجا پنڈالوں کو اجازت دینے کا معاملہ ریاستی حکومتوں پر منحصر ہے۔ مہاراشٹر نے نوراتری تیوہار کے لئے ایڈوائزری جاری کی ہے جس کے تحت ریاست میں گربا اور ڈانڈیا مہوتسو کو منسوخ کر دیا ہے۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے ’بے احتیاطی ‘ کے بجائے کووِڈ پر مناسب رویہ نہ اپنانے کے لئے طبی اصطلاح ’پری وینشن فٹیگ‘یعنی احتیاطی تدابیر سے بیزاری استعمال کی۔ جب وہ لگاتار احتیاط برتتے ہیں تو لوگ تھک جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ مختلف وجوہات کی بنا پر بھی احتیاط برتتے ہیں۔ سبھی کے لیے میرا یہ پیغام ہے کہ ہم سبھی کو محتاط رہتے ہوئے احتیاط برتنی چاہئے۔ انہوں نے تمام لوگوں سے تیوہار کے موسم میں کووِڈ پر صحیح رویہ اپنانے کی درخواست کی۔ انہوں نے ذمہ دار شہری بننے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے سبھی لوگوں سے انفرادی، سماجی، آرڈبلیواے، کالونی اور دفاتر میں اپنی سطح پر ذمہ داری لینے کی بھی درخواست کی۔

’سنڈے سمواد‘ کی چوتھی قسط دیکھنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیں:

ٹوئیٹر: https://twitter.com/drharshvardhan/status/1312659867224612864

فیس بک: https://www.facebook.com/watch/?v=3281142565296376

یو ٹیوب: https://www.youtube.com/watch?v=fF1Vpsn4Z2w

ڈی ایچ وی ایپ : http://app.drharshvardhan.com/download

http://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00100L0.jpg

****

م ن۔ ا ب ن

U:6084



(Release ID: 1661643) Visitor Counter : 113