سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
ڈی ایس ٹی جشن زریں مباحثہ سیریز کے ایک جزوکے طورپر معززین نے ‘وباء کا دوسراپہلو’ کے موضوع پر غوروخوض کیا
ڈی ایس ٹی جوکہ اپنے قیام کا 50واں سال منارہاہے ، نے گزشتہ 50برسوں کے مقابلے میں گزشتہ 5برسوں کے دوران زیادہ مواقع ، زیادہ انکیوبیٹراورزیادہ اسٹارٹ اپس کی تخلیق کی :پروفیسرآشوتوش شرما،
سکریٹری ، ڈی ایس ٹی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 SEP 2020 4:51PM by PIB Delhi
نئی دہلی ،28ستمبر: محکمہ سائنس وٹکنالوجی (ڈی ایس ٹی)کے 50سال پورے ہونے پرڈی ایس ٹی جشن زریں مباحثہ سیریز کے ایک جزوکے طورپر منعقدہ ‘وباء کا دوسراپہلو’کے موضوع پر ایک آن لائن پینل ڈسکشن میں معززین نے کووڈ ۔19کی وباء کے سبب درپیش چیلنجوں اور مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔
محکمہ سائنس وٹکنالوجی ( ڈی ایس ٹی ) کے سکریٹری پروفیسر آشوتوش شرما نے بتایاکہ اس موضوع کے دوالگ الگ پہلوہیں ۔ ایک یہ ہے کہ اس وباء سے ہمیں جوبڑے سبق سیکھنے کو ملے ہیں انھیں کیسے سائنس ، ٹکنالوجی اور اختراعات کی مشق میں کیسے تبدیل کرنا ہے ، اوردوسراہے چیلنجزاور مواقع ۔ وباء کا دوسراپہلو ان مواقع کی طرف ہماری توجہ مبذول کراسکتاہے جن پر ہم ساتھ مل کر اختراعات کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اورہمیں ان مواقع کا فائدہ اٹھاتے رہنا ہے ۔
آن لائن پینل ڈسکشن کا انعقاد حال ہی میں مشترکہ طورپر حکومت ہند کے سائنس وٹکنالوجی محکمے کے نیشنل کونسل فارسائنس اینڈ ٹکنالوجی کمیونکیشن اوروگیان پرساد کے ذریعہ کیاگیاتھا۔
جناب شرما نے کہاکہ گزشتہ چارمہینوں میں کووڈ -19کی وباء سے حاصل ہوئے اہم اسباق میں ایک سبق یہ رہاہے کہ جہاں وباء کے ابتدائی دنوں میں این ۔95ماسک سے لے کر پی پی ای ، وینٹلیٹر اوردیگر متعلقہ اشیاء کا امپورٹ کیاگیا ، تین مہینوں کے اندر ہم خود اپنا عالمی معیارکا وینٹی لیٹربنانے کے اہل ہوگئے ۔ اس کے پیچھے وجہ ایک واضح مقصداورتصور رہی ہے ۔ تعلیمی دنیا سے لے کر صنعتوں تک حصص داروں کے ایک سلسلے ، ملکیت اور حکومت سے مدد نیزلچیلے پن نے اسے ممکن بنایا۔ ورنہ اسے حاصل کرنے میں برسوں لگ جاتے ۔
پروفیسرآشوتوش شرمانے ذکرکیاکہ خاص طورپر گزشتہ 5برسوں کے دوران اختراعاتی ماحولیات کے ہرایک پہلوپرتوجہ دینے کے ذریعہ ڈی ایس ٹی جو اپنا 50واں سال تاسیس منارہاہے ، نے گذشتہ 50برسوں کے مقابلے میں زیادہ مواقع ، زیادہ انکیوبیٹروں اور زیادہ اسٹارٹ اپ کی تخلیق کی ہے ۔
پروفیسرشرمانے اس بات کا بھی ذکرکیاکہ ڈی ایس ٹی حکومت کی واحد ایسی تنظیم ہے جس میں محدود طریقے سے کسی ایک شعبہ یا لیب کے گروپوں پر توجہ مرکوز نہیں کی ہے اوراس کے پاس کسانوں ، چھوٹے شہروں میں رہنے والی خواتین سے لے کر چوٹی کے سائنس دانوں ، اسکولی طلباسے لے کر پی ایچ ڈی کے طلباء تک ایک بہت وسیع حصص داروں کی بنیاد اوریہ ایٹم سے لے کر ایسٹروفزکس تک اوران کے درمیان سبھی چیزوں کے ممکنہ شعبے کا احاطہ کرتاہے ۔
وزارت خزانہ میں پرنسپل اقتصادی مشیر ، جناب سنجیوسانیال نے کہاکہ کووڈ کے بعد کی دنیا میں تعمیر نوکی بات کرتے وقت ہمیں ذہن میں رکھنا ہوگا کہ ہم کووڈ سے پہلے کی دنیا میں نہیں لوٹ رہے ہیں ۔ انھوں نے بتایاکہ کووڈ کے دھچکے کے نتیجے میں کئی چیزیں بدل جائیں گی ۔ جیوپالیٹکس ، سپلائی چین ، ٹکنالوجی اور صارفین کے برتاو میں تبدیلیاں آئیں گی اور ہمیں نئے طریقوں ، نئی پالیسیوں کے بارے میں سوچنا ہوگا، اپنے سائنس دانوں کو ، ان کی ٹکنالوجی کو بازارمیں لے جانے کے لئے حوصلہ افزائی کرنی ہوگی ۔ ہمارے ٹکنالوجی کے ماہرین کو اضافی مصنوعات کی قیادت کرنے کے لئے خطرات اٹھانے والا بناناہوگا۔
آل انڈیا انسٹی آف میڈیکل سائنسز ( ایمس ) کے ڈائرکٹر ڈاکٹررندیپ گلیریا نے عوامی صحت نظام کو زیادہ لچیلا بنانے اور یہ یقینی بنانے کے لئے کہ کووڈ کی وباسے ایک سبق کے طورپر آنے والے برسوں میں کسی بھی مرض کے بڑے قہراور وباکے چیلنجوں کا سامنا کرسکتے ہیں ، کی وکالت کی ۔ انھوں نے بچاو سے متعلق صحت دیکھ بھال پر توجہ مرکوز کرنے پرزوردیااورکہاکہ ماسک کا استعمال کرنے اور ہاتھ دھوتے رہنے کے ذریعہ ہم نہ صرف کووڈ کو کم کرسکتے ہیں بلکہ سانس سے متعلق بیماریوں سے بھی بچ سکتے ہیں ۔
نیسکام کی صدرمحترم دیب جانی گھوش نے کہاکہ آئی ٹی صنعت کے لئے 100برسوں میں آنے والا ایک موقع ہے کہ وہ ایک بار اپنے آپ کو پوری طرح سے تبدیل کرلے ۔ انھوں نے کہاکہ کووڈ کے بعد یہ ایک ہائیپر۔ڈیجیٹل او ر کانٹکٹ لیس دنیا ہونے والی اورایسی دنیا میں 4بنیادی بلاک جو کسی صنعت کی کامیابی کو ڈیفائن کریں گے ۔ یہ ہوں گے بھروسہ ، صلاحیت ، اختراعات اور سبک رفتاری اوران سب کے لئے ہمیں اختراعات پرتوجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ اختراعات سے بھارت کے مستقبل کا تعین ہوگا۔
***************
)م ن۔ م م۔ ع آ:)
U-5944
(ریلیز آئی ڈی: 1660001)
وزیٹر کاؤنٹر : 137