مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
693کروڑ روپئے کے 63 امرُت پروجیکٹوں کی تکمیل، ہریانہ میں 1875 کروڑ روپئے کے 73 پروجیکٹوں کا نفاذ کیا جارہا ہے
چنڈی گڑھ میں 57 کروڑ روپئے کی منظور شدہ ایس اے اے پی کے تحت 100 فیصد کانٹریکٹ دیئے گئے
امرُت قومی رینکنگ میں ہریانہ 12ویں، پنجاب 26ویں اور چنڈی گڑھ دوسرے مقام پر
ہریانہ میں نلوں کے 2.3 لاکھ کنکشن دیئے گئے، 11.95 لاکھ اسٹریٹ لائٹوں کو ایل ای ڈی لائٹوں میں بدلا گیا
مہم سے وابستہ ہریانہ اور پنجاب کے سبھی شہروں میں او بی پی ایس نافذ، چنڈی گڑھ ستمبر 2020 تک اپنے سبھی مشن سیٹیز میں او بی پی ایس نافذ کرے گا
مہم سے وابستہ سبھی شہروں کی کریڈٹ ریٹنگ کا کام مکمل، ہریانہ، پنجاب اور مرکز کے زیر انتظام علاقے چنڈی گڑھ کو آئی جی آر ملا
ہریانہ، پنجاب اور چنڈی گڑھ میں امرُت پروجیکٹوں کی پیش رفت کا جائزہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 SEP 2020 1:46PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 10 /ستمبر 2020 ۔ ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت کے سکریٹری جناب درگا شنکر مشرا کو جانکاری دی گئی کہ ہریانہ کے ذریعے شروع کئے گئے 136 امرُت (اے ایم آر یو ٹی) میں سے 63 پروجیکٹوں کا کام 693 کروڑ روپئے کی لاگت سے مکمل ہوچکا ہے اور 1875 کروڑ روپئے کے 73 پروجیکٹوں کا نفاذ کیا جارہا ہے۔ ریاست ہریانہ کے لئے کل 2566 کروڑ روپئے اسٹیٹ اینوول ایکشن پلان (ایس اے اے پی) کو منظوری دی گئی تھی۔ پنجاب، ہریانہ اور چنڈی گڑھ کے سینئر افسروں کے ساتھ ایک آن لائن جائزہ میٹنگ کے دوران جناب مشرا نے ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعے کی گئی پیش رفت کی ستائش کی اور ان سے پروجیکٹوں کو جلد نافذ کرنے کی درخواست کی تاکہ متوقع فوائد لوگوں تک وقت پر پہنچ سکیں۔ انھوں نے افسران سے مرکز کی جانب سے ملنے والی امداد حاصل کرنے کے لئے 31 مارچ 2021 تک توسیع شدہ مشن کی مدت کے اندر سبھی پروجیکٹوں کی تکمیل کا مشورہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے بعد آگے ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کو اپنے خود کے وسائل کے ساتھ ان پروجیکٹوں کی تکمیل کرنی ہوگی۔ میٹنگ میں ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت کے مشن ڈائریکٹروں کے علاوہ حکومت ہریانہ کی چیف سکریٹری محترمہ کیشنی آنند اروڑہ، حکومت پنجاب کی چیف سکریٹری محترمہ وِنی مہاجن اور چنڈی گڑھ کے ایڈمنسٹریٹر جناب منوج کمار پریدا بھی شامل تھے۔
چنڈی گڑھ میں 67 کروڑ روپئے کے منظور شدہ ایس اے اے پی کے سبھی 12 پروجیکٹوں کے لئے 100 کانٹریکٹ دیے جاچکے ہیں۔ پنجاب میں 2767 کروڑ روپئے کے 185 منظور شدہ ریاستی پروجیکٹوں میں سے 2132 کروڑ روپئے کے پروجیکٹوں کے لئے ٹھیکے دیئے جاچکے ہیں۔
جائزہ میٹنگ کے دوران یہ بتایا گیا کہ امرُت کی قومی درجہ بندی میں ہریانہ 12ویں، پنجاب 26ویں اور چنڈی گڑھ دوسرے مقام پر ہے۔ جناب مشرا نے ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعے کی گئی پیش رفت کی ستائش کرتے ہوئے ان سے اپنی کوششیں جاری رکھنے اور اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے کوشش کرنے کی درخواست کی۔
گھریلو نل کنکشن: ہریانہ نے اب تک 2.29 لاکھ نئے گھریلو گھر کے کنکشن دستیاب کرائے ہیں۔ چنڈی گڑھ میں نل کنکشن سے متعلق 20 ہزار کا ہدف مکمل کرلیا ہے۔ سکریٹری نے خراب پائپ لائن کی وجہ سے ہونے والے رساؤ کے مسئلے پر توجہ دینے پر زور دیا۔ انھوں نے اس کے لئے پلمبروں کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کا بھی مشورہ دیا۔
- سیوریج کنکشن: ہریانہ نے 2.22 لاکھ سیور کنکشن دیئے ہیں جبکہ پنجاب نے 1.75 لاکھ نئے کنکشن دیئے ہیں۔ چنڈی گڑھ نے 20 ہزار نئے سیور کنکشن کی سہولت دستیاب کرائی ہے۔
- پانی کی نکاسی: ہاؤسنگ اور شہری امور کے سکریٹری نے حکومت ہریانہ کی 300 مقامات پر آبی جماؤ کو ختم کرنے کے لئے عزت افزائی کی۔
- اسٹریٹ لائٹوں کو ایل ای ڈی لائٹوں میں بدلنا اور پانی کے پمپوں کی بجلی کھپت کی آڈیٹنگ: ہریانہ نے اب تک 1.95 لاکھ اسٹریٹ لائٹس کو، پنجاب نے 2.51 لاکھ لائٹوں کو اور چنڈی گڑھ نے 43853 لائٹوں کو ایل ای ڈی لائٹوں میں بدل دیا ہے۔ ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اسٹریٹ لائٹوں کو ایل ای ڈی لائٹوں سے بدلنے کے کام میں اور تیزی لائیں۔
- آن لائن بلڈنگ پرمیشن سسٹم (او بی پی ایس): دونوں ریاستوں نے امرت مہم سے وابستہ اپنے شہروں میں یہ نظام نافذ کردیا ہے۔ چنڈی گڑھ نے یقین دلایا کہ وہ مہم سے وابستہ اپنے سبھی شہروں میں یہ نظام 30 ستمبر 2020 نافذ کردے گا۔
- کریڈٹ ریٹنگ: دو ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں امرُت مہم والے سبھی شہروں کی کریڈٹ ریٹنگ کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ ہریانہ اور پنجاب میں سے ہر ایک کے ایسے پانچ شہروں اور چنڈی گڑھ کو آئی جی آر ریٹنگ مل چکی ہے۔
میٹنگ کے دوران یہ بتایا گیا کہ وزارت کے ذریعے چلائی جارہی سبھی مہموں کے لئے ایک مربوط ڈیش بورڈ بنایا گیا ہے جہاں سبھی ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور شہروں سے متعلق معلومات دستیاب ہوگی۔ مہموں میں ہورہی پیش رفت کی نگرانی کے لئے ریاست / مرکز کے زیر انتظام علاقے اس سہولت کا استعمال کرسکتے ہیں۔ جناب مشرا نے ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے درخواست کی کہ وہ مشنوں کی تفصیلات کو ریگولر طریقے سے اس پورٹل پر اپڈیٹ کرتے رہیں تاکہ پورٹل / ڈیش بورڈ پر تازہ ترین معلومات دستیاب رہیں۔ اس کا استعمال ریاستوں کی پیش رفت سے متعلق ماہانہ درجہ بندی کی نگرانی، جائزہ اور تجزیے کے لئے کیا جاتا ہے۔
اٹل مشن فار ریجووینیشن اینڈ اربن ٹرانسفارمیشن (اے ایم آر یو ٹی) کی شروعات وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ذریعے 25 جون 2015 کو ملک بھر میں 500 شہروں میں کی گئی تھی۔ ملک کی 60 فیصد شہری آبادی کو اس کے دائرے میں لایا گیا۔ یہ ایک لاکھ کروڑ روپئے کے صرفے کے ساتھ مرکز کے زیر اہتمام چلائی جانے والی اسکیم ہے، جس میں پانچ برسوں یعنی مالی سال 2015-16 سے مالی سال 2019-20 تک کی مدت کے لئے 50 ہزار کروڑ روپئے کی مرکزی امداد کا التزام بھی شامل ہے۔ اس مہم کے تحت شہروں میں پانی کی سپلائی، سیوریج اور فضلات کی نکاسی کا بندوبست، پانی کی نکاسی، ہری بھری جگہوں اور پارک اور موٹر کے بغیر چلنے والی شہری ٹرانسپورٹیشن سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔ بنیادی ڈھانچوں کے فروغ کے ساتھ ہی اس میں چار برسوں کے دوران کی جانے والی اصلاحات کا ایجنڈہ بھی شامل ہے۔
اس مہم کے تحت کل 77640 کروڑ روپئے، اسٹیٹ اینوول ایکشن پلان (ایس اے اے پی) میں سے پانی کی سپلائی کے شعبے کو 39011 کروڑ روپئے (50 فیصد)، سیوریج اور سیویج بندوبست کے شعبے کے لئے 32456 کروڑ روپئے (42 فیصد)، پانی کی نکاسی کے پروجیکٹوں کے لئے 2969 کروڑ روپئے (4 فیصد)، موٹر کے بغیر چلنے والے شہری ٹرانسپورٹ کے لئے 1436 کروڑ روپئے (2 فیصد) اور سرسبز مقامات اور پارکوں کی تعمیر کے لئے 1768 کروڑ روپئے (2 فیصد) مختص کئے گئے ہیں۔ کل 80428 کروڑ روپئے کے پروجیکٹوں کے لئے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) کو منظوری دی جاچکی ہے، جن میں سے 66077 کروڑ روپئے کے پروجیکٹوں کے لئے ٹھیکے دیئے جاچکے ہیں، جس میں سے 11523 کروڑ روپئے کے پروجیکٹ مکمل بھی ہوچکے ہیں۔
******
م ن۔ م م۔ م ر
U-NO. 5257
10.09.2020
(ریلیز آئی ڈی: 1653228)
وزیٹر کاؤنٹر : 187