صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

مرکزی وزارت صحت کی ’ای سنجیونی‘ ٹیلی میڈیسن سروس نے 3 لاکھ ٹیلی – کنسلٹیشن کے ہندسے کو چھوا


ایک لاکھ ٹیلی- کنسلٹیشن صرف 20 دن میں ہی پورے ہوگئے ہیں

Posted On: 08 SEP 2020 1:46PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  8 /ستمبر 2020 ۔ وزارت صحت کے پلیٹ ’ای سنجیونی‘ ٹیلی میڈیسن سروس کے تحت اب تک 3 لاکھ ٹیلی- کنسلٹیشن مکمل ہوگئے ہیں، اس سروس کے تحت ٹیلی- کنسلٹیشن کی سہولت دستیاب کرائی جاتی ہے۔

صحت و کنبہ بہبود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے اس پلیٹ فارم کے تحت 1.5 لاکھ ٹیلی کنسلٹیشن مکمل ہونے پر 9 اگست کو منعقدہ ایک میٹنگ کی صدارت کی تھی۔ اس پلیٹ فارم میں اس وقت سے لے کر اب تک ایک ماہ کے اندر ہی ٹیلی – کنسلٹیشن کے ہندسے کو کامیاب طریقے سے دوگنا کردیا ہے۔ ان میں سے ایک لاکھ ٹیلی کنسلٹیشن تو گزشتہ 20 دنوں میں ہی پورے ہوگئے ہیں۔ اس پلیٹ فارم نے پہلا ایک لاکھ ٹیلی کنسلٹیشن 23 جولائی 2020 کو مکمل کیا تھا اور اس کے بعد کے ایک لاکھ ٹیلی کنسلٹیشن 26 دنوں کے اندر ہی 18 اگست کو مکمل ہوگئے تھے۔

ٹیلی میڈیسن سروس سماجی یا جسمانی دوری کو یقینی بناتے ہوئے ڈاکٹروں کو مریضوں سے جوڑتی ہے۔ یہ ایسے اہم وقت میں ضروری صحت خدمات دستیاب کرارہی ہے، جب متعدی بیماری کے سبب روایتی طریقۂ علاج کو جوکھم بھرا کام خیال کیا جارہا ہے۔

ای سنجیونی پلیٹ فارم دو طرح کی ٹیلی میڈیسن خدمات یعنی ڈاکٹر سے ڈاکٹر کنیکٹ (ای سنجیونی) اور مریض سے ڈاکٹر کنیکٹ (ای سنجیونی اوپی ڈی) نے ضروری تعاون دے رہا ہے۔ ڈاکٹر سے ڈاکٹر کا رابطہ (ای سنجیونی) دراصل آیوشمان بھارت ہیلتھ اینڈ ویلنیس سینٹر (اے بی – ایچ ڈبلیو سی) پروگرام کا ایک اہم ستون ہے۔ اس کا آغاز نومبر 2019 میں ہوا تھا۔ اس کا ہدف دسمبر 2022 تک ’ہب اینڈ اسپوک‘ ماڈل کے تحت سبھی 1.5 لاکھ ہیلتھ اینڈ ویلنیس سینٹر میں ٹیلی کنسلٹیشن کو نافذ کرنا ہے۔ ریاستوں کو میڈیکل کالجوں اور ضلع اسپتالوں میں خصوصی ’ہب‘ کی نشان دہی کرنے اور اسے قائم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ’اسپوک‘ یعنی ایس ایچ سی اور پی ایچ سی میں ٹیلی کنسلٹیشن خدمات دستیاب کرائی جاسکیں۔

وزارت صحت نے کووڈ-19 کی وبا کو پیش نظر رکھتے ہوئے 13 اپریل 2020 کو دوسری ٹیلی کنسلٹیشن سروس ’ای سنجیونی اوپی ڈی‘ شروع کی، جس کے تحت مریض سے ڈاکٹر ٹیلی میڈیسن کنیکٹ کی سہولت دستیاب کرائی جاتی ہے۔ یہ کووڈ کے پھیلاؤ کو روکنے میں انتہائی مفید ثابت ہوئی ہے۔ یہی نہیں اس کے تحت غیر کووڈ ضروری صحت خدمات بھی دستیاب کرائی جارہی ہیں۔

ای سنجیونی کو اب تک 23 ریاستوں میں نافذ کیا گیا ہے اور دیگر ریاستیں بھی اس کی شروعات کرنے کی تیاری میں ہیں۔ صرف تمل ناڈو نے 97204 کنسلٹیشن کا تعاون دیا ہے اور یہ سبھی ای سنجیونی اوپی ڈی ایپ پر ہیں۔ کل 65173 کنسلٹیشن کے ساتھ اترپردیش دوسرے مقام پر ہے۔

ہماچل پردیش نے 30869 تبادلہ خیال کے ساتھ ای سنجیونی کے سب سے زیادہ اے بی- ایچ ڈبلیو سی ٹیلی کنسلٹیشن کرائے ہیں۔ کل 31689 ٹیلی کنسلٹیشن کے ساتھ یہ ریاست تیسرے نمبر پر ہے۔ اسی طرح آندھرا پردیش اور کیرالہ نے بالترتیب 30189 اور 28173 ٹیلی کنسلٹیشن کرائے ہیں۔

ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی آبادی یا لوگوں کے ذریعے ای سنجیونی کا استعمال کئے جانے کو پیش نظر رکھتے ہوئے تیسری سطح کے اداروں جیسے کہ لیڈی ہارڈن میڈیکل کالج اور متعلقہ اسپتال، ایمس بھٹنڈا، ایمس بی بی نگر، ایمس رشی کیش نے بھی ای سنجیونی کو اپنالیا ہے۔ ان اہم اداروں نے ای سنجیونی او پی ڈی پر خصوصی اوپی ڈی کا نظم کیا ہے اور مریضوں نے ای سنجیونی او پی ڈی کے ذریعے اپنی خدمات لینی شروع کردی ہیں۔ حکومت ہند کی سینٹر گورنمنٹ ہیلتھ اسکیم (سی جی ایچ ایس) کے تحت 26 اگست سے ہی ای سنجیونی اوپی ڈی کے ذریعے دہلی میں اس کے مستفیدین کے لئے خصوصی صحت خدمات کی پیشکش کی جانے لگی ہے۔ سی جی ایچ ایس کے تحت ای سنجیونی او پی ڈی پر ای این ٹی، میڈیسن، امراض چشم اور ہڈی کے امراض سے متعلق چار خصوصی اوپی ڈی کا نظم کیا گیا ہے۔

******

م ن۔ م م۔ م ر

U-NO. 5190



(Release ID: 1652528) Visitor Counter : 134