کامرس اور صنعت کی وزارتہ

ہندوستانی مصنوعات دیگر ملکوں میں باہمی بنیاد پر مناسب رسائی کے قابل ہیں

یہ ہندوستانی صنعت کیلئے مل جل کر کام کرنے اور یکساں مواقع یقینی کرنے کا وقت ہے:پیوش گوئل

Posted On: 10 AUG 2020 5:18PM by PIB Delhi

نئی دہلی:10  اگست ، 2020:

تجارت وصنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج پہلے پانچ روز ورچوول ایم ایف سی جی سپلائی چین ایکسپو 2020 کا افتتاح کیا۔

اس موقع پر جناب گوئل نے کہا کہ ہمیں کووڈ-19 وبا کے بعد کی حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا، دنیا بدل گئی ہے، ا س کووڈ تجربے سے دنیا نے بہت کچھ سیکھا ہے اور بہت سی چیزیں ترک کردی ہیں۔ انہوں نے کہا ‘‘ہم صاف ستھرے طریقے سے جینا سیکھیں گے اور استعداد کیلئے ٹیکنالوجی کااستعمال سیکھیں گے۔ ہم اپنی کاروباری سرگرمیوں میں زیادہ محتاط اور چوکس رہنا سیکھیں گے’’۔ جناب گوئل نے کہا کہ نئے زمانے کی سبھی نئی چیزیں ہمیں ہندوستان کے مستقبل کو  پھر سے طے کرنے اور ہمیں  ذمہ دار شہری بننے میں مدد کریں گی، ہم سماج کےکمزور طبقے لوگوں کی دیکھ بھال کریں گے۔

گھریلو صنعت کا تعاون کرنے اور درآمدات میں کمی لانے کی کوشش کرنے کیلئے کچھ لوگوں کے ذریعے کی جارہی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے جناب گوئل  نے کہا کہ ہم اپنی صنعتوں کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہمیں یکساں موقع اورمناسب رسائی حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کے ساتھ مساوی، شفاف اور باہمی تجارت چاہتا ہے۔ ہم کئی ملکوں اور علاقوں کے ساتھ متوازن تجارت کی جانب بڑھ رہے ہیں، یہ بھی ایک سبب ہے کہ ہندوستان نے آر سی ای  پی میں شامل نہیں ہونے کا متبادل چنا، کیوں کہ یہ پوری طرح سے غیرمساوی بندوبستی ملکوں کو مرحلہ وار طریقے سے مصنوعات کیلئے ہندوستان کو سورسنگ کے طور  پر دیکھنا چاہئے۔ ہندوستان میں اپنی مصنوعات کو ترقی دینی چاہئے اور 1.3  بلین  ہندوستانی عوام کےذریعے پیش کیے جارہے بڑے تجارت کے موقع کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں  سرمایہ کرنے والوں کو صرف تیار کٹوں کو جوڑنے یا درآمدات محصول کی رعایتیں حاصل کرنے پر دھیان نہیں دیناچاہئے بلکہ انہیں اختراعی ٹیکنالوجی اور بہترین طریقہ کار کو لاناچاہئے اور مصنوعات کی قدرافزائی کرنی چاہئے۔

جناب گوئل نے کہا کہ ہماری صنعت مزید مسابقتی بننے اور مساوی اور مناسب شرطوں پر دنیاکے ساتھ اشتراک کرنے کی کوششوں کررہی ہے، صنعتوں کی اس کوشش میں ہماری حکومت کندھے سے کندھا ملاکر کھڑی ہے۔ مہاتماگاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا ‘‘جب ہم دنیا کے ساتھ مساوی اور باہمی تجارت کی مانگ کرتے ہیں تو ہمیں سب سے غریب اور سب سے کمزور شخص کا چہرہ یاد کرنا ہوگا جسے ہم نے دیکھا ہو اور خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا ہم جو قدم اٹھانے جارہے ہیں اس شخص کا کچھ بھی بھلا ہوگا’’۔ وزیراعظم جناب نریندر مودی نے پچھلے چھ برسوں میں سماج کے محروم طبقات پر اپنا دھیان مرکوز کیا ہے۔ان کی تمام سماجی فلاح وبہبود کی اسکیمیں ہندوستان کے سب سے کمزور اور غریب لوگوں کیلئے ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی نے پچھلے چھ برسوں میں سماج کے محروم طبقات کے بہتر معیار زندگی کیلئے کی جانے والی کوششوں پر توجہ مرکوزکیا ہے۔ گیارہ کروڑ بیت الخلاؤں کی تعمیر اور ملک کے کونے کونے میں براڈ بینڈ ا ور دیگر فلاحی اقدامات انہیں مکمل طور سے تصویر بدلنے والا کہا جاسکتا ہے۔ اس نے قومی منظرنامے کو پوری طرح سے بدل دیا ہے اور دنیا کی سب سےخطرناک وبا سے لڑنے کیلئے ہندوستان کو تیار کیا ہے۔ وزیراعظم کی حوصلہ افزا قیادت اور صنعتی تنظیموں کے مضبوط اِن پُٹ سے ملک میں بڑے پیمانے پر کی گئی کوششوں کے سبب وبا سے لڑنے میں مدد ملی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے جب ملک دنیا کے سب سے سخت لاک ڈاؤن کو نافذ کرکے لوگوں کو ان کے گھروں  میں رکھنے اور ملک کے ہر ایک حصے میں ہر شہری کو کھانا اور دیگر بنیادی ضرورتوں کو مہیا کرانے کے قابل ہواہے۔ ریلوے اور خوراک اور سرکاری تقسیم کے محکمے نے لوگوں کو کھانا، کھاد، دودھ اور دیگر ضرورتوں کو یقینی بنانے کیلئے لاک ڈاؤن کے دوران اجتماعی طور پر انتھک کوشش کی۔ جناب گوئل نے کہا کہ فکی انڈیا کی یہ پہل اندرون ملک تیار کردہ پلیٹ فارم پر منعقد کی جارہی ہے جو صحیح معنوں میں آتم نربھر بھارت کی ایک مثال ہے۔ انہوں نےمزید کہا کہ وباکے ذریعے ہوئی تبدیلی سے بہت ساری مثبت چیزیں آئیں گی جو ہمیں ملک کے دوردراز علاقوں کی ترقی کرنے میں مدد کریں گی اور اس میں ملک بھر کے لوگ شامل ہوں گے کیوں کہ جب ہم ٹیکنالوجی کو اپناتے ہیں تو ہم عالمی سپلائی چین کا ایک قابل اعتماد حصہ بن جاتے ہیں۔ جناب گوئل نے کہا ‘‘جب ہم تبدیلی کو اپناتے ہیں تو ہم انسان کی ترقی اور بہتری کو آگے لے جاسکتے ہیں، ہم جو کام کررہے ہیں وہ مقامی اور عالمی سپلائی چین میں ہندوستان کی صورتحال کو نئے طریقے سے قائم کرنے میں ہماری مدد کریگا’’۔ جناب گوئل نے دوہرایا کہ ہندوستان عالمی سپلائی چین کا حصہ ہوسکتا ہے، لاکھوں لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرسکتا ہے اور دنیا کے ساتھ ہمارے بڑھتے باہمی تعلقات کا حصہ بننے کیلئے لوگوں کو اہل بناسکتا ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ ہندوستانی معیشت تیزی سے احیاء کے راستے پر ہے، جیسا کہ مختلف انڈیکیٹرس کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے۔ ریل میں ماڈل ڈھلائی اور بجلی کی کھپت پچھلے برس کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس سال جولائی میں برآمدات پچھلے سال کی سطح کا 91 فیصد ہے اوردرآمدات بھی لگ بھگ 79 فیصد ہے۔

جناب گوئل نے ہندوستانی صنعت کو ایک ساتھ آگے بڑھنے، ایک دوسرے کا تعاون کرنے اور ایک مستحکم ہندوستان کی سمت میں  نیز آئندہ نسلوں کے بہتر مستقبل کیلئے کام کرنے کیلئے مدعو کیا۔

 

-----------------------

 

م ن۔م ع۔ ع ن

U NO: 4444



(Release ID: 1644993) Visitor Counter : 33