الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت

پی ایل آئی اسکیم سے موبائل فون اور الیکٹرانک آلات وکل پرزوں کو تیار کرنے میں ایک نئے دور کی شروعات

اگلے 5 سال میں 11.50 لاکھ کروڑ روپے کی پیداوار اور 7 لاکھ کروڑ کی برآمد کی امید: روی شنکر پرساد

وزیر اعظم نریندر مودی کے میک ان انڈیا اور آتم نربھر بھارت کے لئے ایک بڑی تقویت

Posted On: 01 AUG 2020 1:44PM by PIB Delhi

نئی دہلی یکم،اگست 2020

پیداوار سے جڑی ترغیباتی اسکیم (پی ایل آئی) کے تحت اپلیکشن ونڈو کے اختتام کے موقع پر ایک پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے افراد سے خطاب کرتے ہوئے الیکٹرانکس اور آئی ٹی، مواصلات وقانون اور انصاف کے مرکزی وزیر جناب روی شنکر پرساد نے کہا کہ پی ایل آئی اسکیم اپلیکیشنس کے معاملے میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے جو عالمی کے ساتھ ساتھ موبائل بنانے والی ملکی (گھریلو) کمپنیوں اور الیکٹرانک کا سامان تیار کرنے والی کمپنیوں سے حاصل ہوئی ہیں۔ صنعت نے ایک عالمی نوعیت کے مینوفیکچرنگ منزل کے طور پر ہندوستان کی زبردست ترقی میں اپنا اعتماد قائم کیا ہے اور یہ آتم نربھر بھارت، ایک خود کفیل ہندوستان کے وزیر اعظم کے واضح اپیل کے ساتھ زبردست طور پر گونجتا ہے۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ ہم پر امید لوگ ہیں اور عالمی ویلیو چین کے ساتھ مربوط ہورہے ہیں تاکہ ملک میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کو مستحکم کیا جاسکے۔

پرساد.jpg

بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ (الیکٹرانکس سامان کی تیاری) کے لئے پیداوار سے جڑی ترغیباتی اسکیم (پی آئی ایل) یکم اپریل 2020 کو نوٹیفائی کی گئی تھی۔ پی آئی ایل اسکیم ٹارگیٹ سیگ مینٹ یعنی علاقوں کے تحت بھارت میں تیار کردہ اور سامان کی اضافی فروخت (بنیادی سال پر)ہر مجاز کمپنیوں کو بنیادی سال (مالی سال 20-2019) کے بعد پانچ سال کی مدت کے لئے 4 فیصد سے 6 فیصد تک کی ترغیب رقم دینے کی یہ اسکیم 31 جولائی 2020 تک درخواستیں داخل کرنے کے لئے کھلی تھی۔ اسکیم کے تحت یہ ترغیب یکم اگست 2020 سے نافذ ہے۔

کل 22 کمپنیوں نے پی ایل آئی اسکیم کے تحت اپنی درخواست داخل کی ہے۔ موبائل فون تیار کرنے والی بین الاقوامی کمپنیوں میں جنہوں نے موبائل فون (ان وائس ویلیو آئی این آر 15000 اور اس سے زیادہ) کے تحت درخواست دی ہے وسیمسنگ فوکس کون ہون ہائی رایزنگ اسٹار وس ٹرون اور بیگاٹرون شامل ہیں۔ ان میں سے 3 کمپنیاں فوکس کون ہائی وس ٹرون اور پیگ ٹرون ایپل فون کے لئے کنٹریکٹ مینوفیکچررس ہیں۔ ایپل (37 فیصد) اور سیمسنگ (22 فیصد ) مل کر موبائل فون کی سالانہ فروخت کے محصول کا تقریباً 60 فیصد ہے اور اس اسکیم سے ملک میں ان کے مینوفیکچرنگ بنیاد میں کئی گنا اضافہ ہونے کی امید ہے۔

موبائل فون (گھریلو کمپنیوں) علاقوں کے تحت ہندوستانی کمپنیوں نیز لاوا، ڈکسن ٹیکنالوجیز، بھگوتی (مائیکرومیکس) پیڈگیٹ الیکٹرانکس جو مینو فیکچرنگ سروسز اور اوپٹی مس الیکٹرانس نے اس اسکیم کے تحت درخواست دی ہے۔ توقع ہے کہ یہ کمپنیاں ایک خاطر خواہ ڈھنگ سے اپنی مینوفیکچرنگ سرگرمیوں میں اضافہ کریں گی اور موبائل فون تیار کرنے میں قومی چمپئن کمپنیوں کی طرح ابھریں گی۔ مخصوص کئے گئے الیکٹرانکس آلات سیگ نیٹ کے تحت جن 10 ےکمپنیوں نے درخواستیں داخل کی ہیں ان میں اے ٹی اینڈ ایس ایسنٹ سرکٹس، وس کون، وال سن، ساہسرا، ویٹسکون اور نیولینک شامل ہیں۔ اگلے 5 سالوں میں اس اسکیم سے فائدہ آئی این آر 1150000کروڑ (آئی این آر) 11.5 لاکھ کروڑ کی کل پیداوار ہونے کی امید ہے۔ کل پیداوار میں سے موبائل فون (ان وائس ویلیو آئی این آر 15000 اور اس سے زیادہ سیگ مینسٹ کے تحت کمپنیوں نے آئی این آر 900000 کروڑ سے زیادہ کے پیداوار کی تجویز کی ہے۔ اس اسکیم سے برآمدات کو کافی فروغ ملے گا۔ بھارت میں الیکٹرانک کی مانگ سال 2025 تک کئی گنا بڑھنے کی امید ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ ایکٹرانکس مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لئے پی ایل آئی اسکیم اور دیگر اقدامات ہندوستان کو الیکٹرانکس کی مینوفیکچرنگ کے لئے ایک اونچا مقام دلانے میں مدد کریں گے اور آتم نربھر بھارت کو تقویت دیں گے۔ اس اسکیم کے تحت الیکٹرانک سامان کی تیاری میں گھریلو چمپئن کمپنیوں کے قائم ہونے سے عالمی سطح کا ہدف رکھتے ہوئے ملک میں تیار کردہ چیزوں کے استعمال کو فروغ ملے گا۔

 

...............................................................

                                                                                                                                                  م ن، ح ا، ع ر

U-4288



(Release ID: 1643121) Visitor Counter : 11