سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

بایو ٹیکنالوجی کے محکمے نے ری کمبی نینٹ بی سی جی ویکسن کے افادی آزمائش کی حمایت کی، وی پی ایم 1002 نے تقریباً 6ہزار صحت ورکروں اور اعلیٰ خطرات کے حامل افراد کے اندراج کا کام پورا کیا

Posted On: 27 JUL 2020 4:55PM by PIB Delhi

بایو ٹیکنالوجی کے محکمے کے قومی بایو فارما مشن کے تحت ایک ری کمبی نینٹ وی سی جی ٹیکے کے امیدوار، وی پی ایم 1002 کے کثیر رخی ڈبل بلائنڈیڈپلیس بو-کنٹرولڈ مرحلہ سوم کے کلینکل ٹرائل شروع کرنے کے لئے سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا پرائیویٹ لمٹیڈ(ایس آئی آئی پی ایل)کو حمایت دی گئی ہے۔ اس آزمائش کا مقصد زیادہ عمر کے اعلیٰ خطرات کے حامل افراد یا پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا افراد یا اعلیٰ ترین خطرات کے حامل صحت کارکنوں(ایچ سی ڈبلیو)میں انفیکشن کے معاملات کو گھٹانے اور کووڈ-19کی سنگین نتائج کو کم کرنے میں وی پی ایم 1002 کی صلاحیت کا اندازہ لگانا ہے۔

وی سی جی کے ٹیکے کو باقاعدگی سے سبھی نوزائیدہ بچوں کی ٹیکاری کے قومی پروگرام کے ایک حصے کے طورپر دیا جاتا ہے، جو تپ دق (ٹی بی)کی بیماری کو روکنے کے لئے ہوتا ہے۔یہ بیماری عام طورسے پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والے بیکٹیریا کے سبب ہوتی ہے۔اس کے فائدہ مند بہترین اثرات والے توثیق شدہ اینٹی وائرل اور مدافعاتی خصوصیات ہے، جو تربیت یافتہ نوزائیدہ امیونٹی اور وسیع اثرات والے موافق قوت مدافعت کے ذریعے سے متعدی امراض سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔تقریباً6ہزار صحت کارکنان اور اعلیٰ خطرات کے حامل افراد ، جن میں کووڈ کے مریضوں کے قریبی رابطے میں آنے والے افراد شامل ہیں، کو ایک کلینکل ٹرائل میں یہ پتہ لگانے کےلئے اندراج کیاگیا ہے کہ ری کمبی نینٹ بے سیلس کیلمیٹ –گو ایرین(آر ڈی سی جی)وائرس سے لڑنے کے لئے قوت مدافعت میں اضافہ کر سکتا ہے یا نہیں۔

محکمہ بایو ٹیکنالوجی کی سیکریٹری اور بی آئی آر اے سی کی چیئرپرسن ڈاکٹر رینو سوروپ نے اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’بی جی سی کا  ٹیکا ایک جانچا پرکھا ہوا پلیٹ فارم ہے اور ٹی بی کے علاوہ دیگر بیماریوں کے لئے اس کے آف ٹارگیٹ اِفیکٹ کا استعمال کرنا ایک بہت ہی بہترین نظریہ ہے۔یہ ٹرائل مئی 2020ء میں شروع ہوا اور اس نے ملک بھر کے تقریباً 40 اسپتالوں میں 6ہزارلوگوں کا اندراج کیا ہے۔اس بیماری کو روکنے کے طریقے کی تلاش میں یہ ایک اہم سنگ میل ہے اور ہم اس اہم ٹرائل کے نتائج کا انتظار کررہے ہیں۔‘‘

سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا(ایس آئی آئی )کے مالک اور سی ای او جناب آدر پونہ والانے کہا ’’ ہم اس مطالعہ میں بایو ٹیکنالوجی کے محکمے(ڈی بی ٹی)- بی آئی آر اے سی کے ساتھ اشتراک قائم کرکے خوش ہیں اور آزمائش کے مثبت نتائج کا انتظار کررہے ہیں،جو اس سال کے ختم ہونے سے پہلے دستیاب ہوجانا چاہئے۔‘‘

اعلیٰ خطرات کے حامل صحت ورکروں(ایچ سی ڈبلیو)جو اس وبا سے لڑنے میں سب سے آگے ہیں، کووڈ پازیٹیو مریضوں کے گھریلو رابطوں، نیز کووڈ-19 ہاٹ اسپاٹ؍ متاثرہ علاقوں میں رہنے اور کام کرنے والے دیگر لوگوں، جن کے لئے کووڈ-19کے انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہے، کی حفاظت اور ان کی صحت کو یقینی بنانے کی فوری ضرورت ہے۔ پال ایہرلچ انسٹی ٹیوٹ (پی ای آئی)اور ہیلتھ کینیڈا نے بھی آر بی سی جی کے اس قسم کے ٹرائلز کو منظوری دی ہے۔

ڈی بی ٹی کے بارے میں

 محکمہ برائے بایو ٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی)سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت کے تحت زراعت، صحت خدمات، جانوروں سے متعلق سائنسز، ماحولیات اور صنعت کے شعبوں میں بایو ٹیکنالوجی کے ترقی اور ایپلی کیشن سمیت ہندوستان میں بایو ٹیکنالوجی کی ترقی کو فروغ اور رفتار فراہم کرتا ہے۔

بی آئی آر اے سی کے بارے میں

بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنٹ کاؤنسل (بی آئی آر اے سی)بایو ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی بی ٹی)، حکومت ہند کے ذریعے قائم کردہ قومی سطح پر مانویت کے حامل پیداوار کی ترقی کی ضرورتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسٹیٹجک ریسرچ اور اختراع کی سمت میں بایو ٹیکنالوجی صنعتوں کو مضبوط اورمستحکم بنانے کے لئے ایک غیر منافع بخش سیکشن 8 ، شیڈیول بی پبلک سیکٹر کی ایک صنعت ہے۔

قومی بایو فارمامشن کے بارے میں

بایو فارما پیوٹکل کی جلد ترقی کے واسطے دریافت سے متعلق تحقیق میں تیزی لانے کے لئےکل 250 ملین امریکی ڈالر کی لاگت والی کابینہ کے ذریعے منظورشدہ اور عالمی بینک کے ذریعے 50 فیصد امداد والے محکمہ برائے بایو ٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی)حکومت ہند کی صنعتی- تعلیمی باہمی اشتراک و تعاون مشن بایو ٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنٹ کاؤنسل(بی آئی آر اے سی)میں نافذ کیا جارہا ہے۔ یہ پروگرام ہندوستان کی آبادی کے صحت معیارات میں بہتری لانے کے مقصد سے ملک کو کفایتی پیداوار کرنے کے لئے پوری طرح وقف ہے۔

ٹیکے، طبی آلات، ڈائگنوسٹکس اور بایو تھیرپیوٹکس اس کے کچھ سب سے اہم ڈومین ہے ۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد ملک میں کلینکل آزمائش کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی کے منتقلی کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہے۔

ایس آئی آئی پی ایل کے بارے میں

سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا پرائیویٹ لمٹیڈ دنیا بھر میں پیداکئے جانے والے اور فروخت کئے جانے والے خوراک کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ٹیکہ(ویکسن)مینوفیکچررر ہے، جس میں پولیو کے ٹیکے کے ساتھ ساتھ ڈپتھیریا ، ٹیٹن ، پٹوسس، ایچ آئی بی، بی سی جی، آر –ہیپیٹائٹس بی، خسرہ، منپس اور روبیلا کے ٹیکے شامل ہیں۔سیرم انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے تیار کردہ ٹیکے  عالمی صحت ادارہ، جنیوا کے ذریعے تسلیم شدہ ہے اور ان ٹیکوں کا دنیا بھر کے تقریباً 170ملکوں میں ان کے قومی ٹیکاکاری پروگراموں میں استعمال کیا جارہاہے، جس سے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کی جان بچتی ہے۔

(مزید جانکاری کے لئے :ڈی بی ٹی؍  بی آئی آر اے سی کے رابطہ سیل سے رابطہ کریں

@DBTIndia @BIRAC_2012·

www.dbtindia.gov.in www.birac.nic.in)

-----------------------

م ن۔م ع۔ ن ع

U NO: 4200



(Release ID: 1641975) Visitor Counter : 10