امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت

رام ولاس پاسوان نے بقیہ 14 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایک ملک ایک راشن کارڈ اسکیم شروع کرنے پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے خوراک وزیروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کاانعقاد کیا

جناب پاسوان نے خوراک اور سرکاری نظام تقسیم محکمے کو اس سال کے آخر تک ایک ملک ایک راشن کارڈ اسکیم کو پورا کرنے کیلئے کہا

دس ریاستوں نے مرکزی حکومت کو پی ایم جی کے اے وائی کے تحت مفت غذائی اجناس کی تقسیم کی توسیع کرنے کو کہا

Posted On: 18 JUN 2020 7:01PM by PIB Delhi

صارفین کے اُمور خوراک اور مرکزی نظام تقسیم کے مرکزی وزیر جناب رام ولاس پاسوان نے ایک ملک  ایک راشن کارڈ پروگرام کے ذریعے این ایف ایس اے راشن کارڈ کے حامل افراد کی ملک گیر منتقلی کے عمل کی پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے آج ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ایک میٹنگ منعقد کی۔ اس میٹنگ کا مقصد 14 ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام  علاقوں میں ایک ملک ایک راشن کارڈ کی سہولت کو نافذ کرنے  کو لیکر ان کی تیاری، ایکشن پلان  اور ایک ممکنہ مقررہ وقت کو سمجھنا تھا۔ پانچ ریاستوں/ مرکز کے زیرانتظام علاقوں آسام، چھتیس گڑھ، دہلی، میگھالیہ اور تملناڈو کے خوراک کے وزیروں نے میٹنگ میں حصہ لیا جبکہ دیگر ریاستوں / مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی نمائندگی متعلقہ ریاستوں کے خوراک سکریٹری نے کی۔

جناب پاسوان نے کہا کہ کووڈ-19 وبا کے ایام میں یہ اسکیم مائیگرینٹ مزدوروں، پھنسے ہوئے لوگوں نیز ضرورتمند افراد کیلئے ایک ملک ایک راشن کارڈ منتقلی کےذریعے غذائی اجناس کے ان کے کوٹے کی سہولت کو حاصل کرنے میں بیحد سودمند ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر 2020 تک تین دیگر ریاستوں اتراکھنڈ، ناگالینڈ اور منی پور قومی کلسٹر سے جڑ جائیں گے اور محکمہ اس سال کے آخر تک ایک ملک ایک راشن کارڈ کے تحت باقی سبھی 14 ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو شامل کرنے کیلئے  سبھی ضروری بندوبست کررہا ہے۔ جناب پاسوان نے کہا کہ بفر اسٹاک  میں مناسب مقدار میں غذائی اجناس دستیاب ہے اور انہوں نے یقین دلایا کہ کووڈ-19 وبا کے اس مشکل وقت میں کوئی بھی شخص بھوکا نہیں رہے گا۔ دریں اثناء جناب پاسوان نے مطلع کیا کہ تقریباً دس ریاستوں نے مرکزی حکومت کو پی ایم جی کے اے وائی کے تحت مفت غذائی اجناس کی تقسیم کی توسیع مزید تین مہینے کرنے کیلئے مکتوب لکھا ہے۔

بات چیت کے دوران بقیہ ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سے زیادہ تر نے اس کام کو ستمبر 2020 کے آخر تک پورا کرنے کےاپنے ایکشن پلان اور حکمت عملی کو ساجھا کیا جبکہ تین ریاستوں اروناچل پردیش، میگھالیہ اور مغربی بنگال نے دسمبر 2020 سے قبل اس کے نفاذ کو مکمل کرنے کیلئے ایک ممکنہ مقررہ اوقات کااشارہ دیا۔

جائزہ میٹنگ میں انڈمان ونکوبار جزائر ، اروناچل پردیش، لکشدیپ اور میگھالیہ پر مشتمل ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے دھیمے انٹرنیٹ یا محدود نیٹ ورک کنیکٹیویٹی سے متعلق چیلنجوں کو بھی اجاگر کیا۔ وزیر موصوف نے یقین دلایا کہ نیٹ ورک کنیکٹیویٹی سے متعلق چیلنجز کامناسب حل اور ملک بھر میں ایک ملک ایک راشن کارڈ کے آسان نفاذ کیلئے مواصلات کے محکمے کے سامنے اٹھائے جائیں گے۔

صارفین کے معاملے خوراک اور سرکاری نظام تقسیم کے وزیر مملکت جناب راؤ صاحب پاٹل ڈانوے نے بھی  بقیہ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایک ملک ایک راشن کارڈ اسکیم کو جلد سے جلد لاگو کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک ملک ایک راشن کارڈ اسکیم کے سبب ہی کئی مائیگرینٹ مزدور کووڈ-19 وبا کے مشکل وقت میں اپنے حصے کا غذائی اجناس حاصل کرنے میں کامیاب رہے  ہیں۔

اپنے اختتامی کلمات میں جناب پاسوان نے بقیہ ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بایومیٹرک اور ای پی او ایس کی تصدیق میں تیزی لانے کو کہا تاکہ مستفدین آسانی کے ساتھ  ملک بھر میں کہیں سے بھی  سبسیڈی والے غذائی اجناس کے اپنے حق کو حاصل کرسکیں۔

-----------------------

 

م ن۔م ع۔ ع ن

U NO: 3354



(Release ID: 1632523) Visitor Counter : 44