ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت

ملک میں گزشتہ 8 برسوں کے دوران شیروں کی موت پر وضاحت

میڈیا رپورٹس غیر متوازن ، سنسنی خیز اور گمراہ کن

Posted On: 06 JUN 2020 4:59PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،6جون 2020/میڈیا کے کچھ گروپوں کے ذریعہ  ملک میں شیروں کی موت  کے اعدادوشمار   کچھ اس طرح پیش کئے جانے کا معاملہ روشنی میں آیا ہے، جو ملک میں شیروں کے ریزرو کے تئیں   غیر متوازن   نظریہ رکھتا ہے اور  وضاحتی طور پر اس سلسلہ میں  حکومت ہند کی کوششوں کو ناکام کرنے  اور اس معاملے کو   سنسنی خیز بنانے کی کوشش کررہا ہے۔

ماحول  ، جنگلا ت اور   تبدیلی آب و ہوا    کی وزارت   کے قانونی ادارے  نیشنل  ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی (این  ٹی سی اے)  درج حقائق پیش کرنا چاہتی ہے:

 حکومت ہند کی کوششوں کی بدولت  نیشنل سائبر کنزرویشن اتھارٹی کے ذریعہ  شیروں کو   تقریباً غائب  ہونے کی کگار  کے یا واپس حاصل کرنے کو  یقینی بنانے کے لئے  ایک طے شدہ راستے پر لایا گیا ہے،  جو 2006 ، 2010، 2014 اور 2018 میں  کئے گئے   چار سال میں   ایک بار ہونے والے ہندستانی شیر وں کی اندازاً تعداد کے نتائج سے واضح ہے۔ یہ نتائج شیروں کی  چھ فی صد  صحتمند  سالانہ    شرح نمو    ظاہر کرتے ہیں، جو ہندستانی  تناظر میں  قدرتی نقصان کی کمی کو پورا کرتے ہیں  اور شیروں کی رہائش کی صلاحیت  کی سطح پر   بنائے رکھتے  ہیں۔  2012 سے 2019 کی مدت کے دوران   دیکھا جاسکتا ہے کہ   ملک میں  ہر سال  شیروں کی  موت  اوسطاً  تقریباً 94 کے آس پا س رہی ہے، جو کہ سالانہ سطح پر    قدرتی طور پر  ان کی تعداد بڑھنے سے  توازن میں رہتی  ہے۔ جیسا کہ   اس مضبوط  شرح نمو سے اجاگر ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ، نیشنل    ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی  نے حال ہی میں  جاری  مرکز کی  اسکیم  پروجیکٹ ٹائیگر  کے تحت   غیر قانونی شکایتیں   قابو پانے کے لئے  کئی اقدام اٹھائے ہیں ،  جن کو کافی حد تک اس طرح قابو پایا جاچکا ہے،  جیسا کہ   شکار  اور ضبط کے  مصدقہ معاملے بھی دیکھے گئے۔

 نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی نے   اپنی  ویب سائٹ کے ساتھ ساتھ   پورٹل  - www.tigernet.nic.in, کے ذریعہ    شیروں کی  موت سے اعدادوشمار   دستیاب کرانے کے لئے   اعلی ترین  معیاروں کو   برقرار رکھا ہے،  لوگ اگر چاہیں تو     ان کی دانشمندی  کا جائزہ لے سکیں۔  8 برسوں  کے لمبے  عرصے کے اعدادوشمار  کو پیش کرنا  بڑی تعداد بتاکر  بھولے بھالے  قاریوں کے دل میں ناچاہتے ہوئے بھی ڈر پیدا کرنے کی  منشا کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ   ان میں  اس حقیقت کو    مناسب طریقے سے  شامل نہیں کیا گیا ہے کہ   ہندستان میں 60 فی صد شیروں کی موت کا  سبب   شکار نہیں ہے۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی   مناسب ہوگا کہ   این ٹی سی اے  میں  ایک وقف  کے معیار پر عمل کرنے کے  کسی   شیر کی موت کا  سبب   بتانے کے لئے  ایک سخت  پروٹوکول موجود ہے، جسے ریاست کے ذریعہ  تصویروں  اورایکولوجیکل   حیاتیاتی ثبوتوں   کے علاوہ   لاش کی جانچ رپورٹ  پیتھولیجکل    اور فورنسنک    جانچ  پیش کرنے کے ذریعہ  ثابت نہیں کئےجانے تک  غیر قدرتی مانا جاتا ہے۔  ان دستاویزوں کی تفصیلی جائزوں کے  بعد ہی   شیر کی موت کا   سبب بتایا جاتا ہے۔

حالانکہ اس بات کی ستائش کی جاتی ہے  کہ ان رپورٹوں میں  این ٹی  سی اے کی ویب سائٹ پر  دستیاب اور  آر ٹی آئی کے جواب میں  دستیاب کرائے گئے   اعدادوشمار کا  استعمال  کیا گیا ہے،  لیکن  ان میں جس طرح سے پیش کیا گیا ہے  ، وہ  ڈر پیدا کرنے کی وجہ بنتا ہے۔  ملک میں  شیروں کی موت کے سلسلہ میں  اپنائے جانے والے   عملوں اور ٹائیگر کنزرویشن کے تحت ہوئی ان کی  تعداد میں   اضافہ کو  دھیان میں نہیں رکھا  گیا ہے،   جو حکومت ہند کی   مرکزی  اسکیم ٹائیگر پروجیکٹ کے تحت   این ٹی سی اے کے چلائے جانے والی   مسلسل   تکنیکی اور مالی   مداخلت کا نتیجہ ہے۔

 میٖڈیا سے امید کی جاتی ہے کہ و ہ ملک کو   مذکورہ بالا حقائق ادارے میں  معلومات فراہم کریں،   تاکہ اس معاملہ کو  سنسنی خیز نہ بنایا جائے   اور شہریووں کو   ایسا نہ لگے کہ   کوئی خطرے کی بات ہے۔

 

م ن۔ ش ت ۔ ج

Uno-3112



(Release ID: 1630090) Visitor Counter : 73