ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت

کابینہ نے ماحولیات کے شعبوں میں تعاون کے لئے ہند- بھوٹان مفاہمت نامے کو منظوری دی

Posted On: 03 JUN 2020 5:10PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  3/مئی 2020 ۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے ہندوستان اور بھوٹان کے درمیان ماحولیات کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمت نامے پر دستخط کرنے کو اپنی منظوری دے دی ہے۔

تفصیلات:

یہ مفاہمت نامہ دونوں ملک میں نافذ قوانین اور قانونی التزامات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایکویٹی ، ایک دوسرے کے ساتھ تعامل اور باہمی مفادات کی بنیاد پر دونوں ملکوں کو ماحولیات کے تحفظ اور قدرتی وسائل کے بندوبست میں گہرے اور طویل مدتی تعاون کے قیام اور اسے مستحکم کرنے کا کام کرے گا۔

فریقین نے دو فریقی مفادات اور باہمی رضامندی والی ترجیحات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ماحولیات کے درج ذیل شعبے کو شامل کرنے کے لئے ایک مفاہمت نامے پر غور کیا ہے:

  • ہوا
  • کچرا
  • کیمیاوی بندوبست
  • آب و ہوا کی تبدیلی
  • ایسے دیگر شعبے جن پر مشترکہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہو

یہ مفاہمت نامہ دستخط کی تاریخ سے نافذ ہوگا اور 10 سال کی مدت تک نافذ رہے گا۔ شرکاء کو مفاہمت نامے کے مقاصد کی تکمیل کے لئے تعاون سے متعلق سرگرمیاں شروع کرنے کے مقصد سے سبھی سطحوں پر تنظیموں، نجی کمپنیوں، سرکاری اداروں اور دونوں جانب کے تحقیقی اداروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگا۔ شرکاء نے سرگرمیوں کی پیش رفت کا جائزہ اور تجزیہ کرنے کے لئے مشترکہ ورکنگ گروپ  قائم کرنے / دو فریقی میٹنگوں کا انعقاد کرنے کے تئیں بھی عہد بستگی کا اظہار کیا۔ دونوں فریق اپنے متعلقہ وزارتوں / ایجنسیوں کو پیش رفت اور حصول یابیوں کی باقاعدہ جانکاری بھی دیتے رہیں گے۔

روزگار کی تخلیق کے امکانات سمیت اہم اثرات:

مفاہمت نامے کے تحت سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے ذریعے تجربات بہترین طریقہ کار اور تکنیکی معلومات کا لین دین کرنے کے ساتھ ساتھ پائیدار ترقی میں تعاون دیا جائے گا۔ مفاہمت نامہ باہمی مفادات کے شعبوں میں مشترکہ پروجیکٹوں کے لئے بھی امکانات پیدا کرتا ہے۔ حالانکہ اس میں کسی اہم روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا تصور شامل نہیں کیا گیا ہے۔

اخراجات:

مجوزہ مفاہمت نامے کے مالی مضمرات دو فریقی میٹنگوں/ مشترکہ ورکنگ گروپ کی میٹنگوں تک محدود ہیں، جو ہندوستان اور بھوٹان میں یکے بعد دیگرے ہوں گی۔ وفد بھیجنے والا فریق ان پر آنے والا خرچ برداشت کرے گا، جبکہ میزبانی کرنے والا فریق میٹنگوں اور دیگر انتظامات کا خرچ اٹھائے گا۔ یہ مجوزہ مفاہمت نامے کے محدود مالی مضمرات ہیں۔

پس منظر:

حکومت ہند کے ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وزارت (ایم او ای ایف سی سی) کے مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) اور حکومت بھوٹان کے قومی ماحولیات کمیشن (این ای سی) کے درمیان 11 مارچ 2013 کو ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے گئے تھے۔ یہ مفاہمت نامہ 10 مارچ 2016 کو اختتام کو پہنچ گیا۔ سابقہ مفاہمت ناموں کے فوائد کو پیش نظر رکھتے ہوئے دونوں فریقوں نے ماحولیات کے شعبے میں تعاون اور اشتراک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

**************

م ن۔ م م۔ م ر

U-NO. 3021

03.06.2020



(Release ID: 1629260) Visitor Counter : 57