محنت اور روزگار کی وزارت

کووڈ-19 کی وبا کے دوران ملازمین اور آجرین کے ہاتھوں میں زیادہ نقدی یقینی بنانے کے لئے ای پی ایف او کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے ساتھ ای پی ایف سبسکرپشن کی شرح میں کمی کرکے اسے 10 فیصد کیا گیا

سرکاری شعبہ، ان کے پی ایس ای اور ایسے ادارے جن کا سبسکرپشن پی ایم جی کے وائی کے تحت مرکزی حکومت کے ذریعے برداشت کیا جارہا ہے، ان کے سبسکرپشن کی پرانی 12 فیصد کی شرح برقرار رہے گی
تخفیف شدہ شرحیں مئی، جون اور جولائی 2020 کے تنخواہی مہینوں پر نافذ ہوں گی

Posted On: 19 MAY 2020 6:32PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی، 19 مئی 2020 ۔ کووڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن اور اس وبا کے سبب دیگر طرح کی رخنہ اندازیوں سے پریشان ای پی ایف اور ایم پی ایکٹ 1952 کے تحت آنے والے اداروں کے آجرین اور ملازمین کو راحت پہنچانے کے لئے وقتاً فوقتاً متعدد تدابیر کا اعلان کیا گیا ہے۔

مرکزی حکومت کے ذریعے 13 مئی 2020 کو ای پی ایف اور ایم پی ایکٹ 1952 کے دائرے میں آنے والے اداروں نے سبھی زمروں کے لئے مئی 2020، جون 2020 اور جولائی 2020 کے لئے سبسکرپشن کی قانونی شرح کو 12 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسے آتم-نربھر بھارت پیکیج کے جزو کے طور پر نوٹیفائی کیا گیا ہے۔ دیکھیں ایس او 1513 (ای) مورخہ 18.05.2020،  جسے حکومت ہند کے گزٹ میں شائع کیا گیا ہے۔ یہ نوٹیفکیشن ای پی ایف او کی ویب سائٹ کے ہوم پیج پر ٹیب- کووڈ-19 کے تحت دستیاب ہے۔

سبسکرپشن کی شرح میں کی گئی مذکورہ تخفیف مرکزی و ریاستی حکومت کے پبلک سیکٹر کی کمپنیوں یا مرکزی حکومت یا ریاستی حکومت کی ملکیت یا کنٹرول والے کسی بھی دیگر ادارے پر نافذ نہیں ہے۔ یہ ادارے بیسک ویج اور مہنگائی بھتے کے 12 فیصد کا تعاون کرنا جاری رکھیں گے۔

تخفیف شدہ شرح پی ایم جی کے وائی کے مستفیدین کے لئے بھی نہیں ہے، کیونکہ پورا ای پی ایف تعاون (تنخواہ کا 12 فیصد) اور آجرین کا ای پی ایف اور ای پی ایف تعاون (تنخواہ کا 12 فیصد)، ماہانہ تنخواہ کے کل 24 فیصد کا تعاون مرکزی حکومت کے ذریعے کیا جارہا ہے۔

ای پی ایف کنٹری بیوشن کی شرح، بیسک ویج (بنیادی تنخواہ) اور مہنگائی بھتے کے 12 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کرنے کا مقصد 4.3 کروڑ ملازمین / اراکین، 6.5لاکھ  اداروں کے آجرین نقدی کے بحران سے نمٹنے کے لئے کچھ حد تک فوری فائدہ پہنچانا ہے۔

تعاون (کنٹری بیوشن) کی قانونی شرح کو 12 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد لے جانے کے نتیجے میں ملازمین کی تنخواہ سے ای پی ایف کنٹری بیوشن کے سبب ہونے والی تخفیف میں کمی ہونے سے وہ اپنے گھر زیادہ رقم لے جاسکیں گے اور آجرین کی بھی اپنے ملازمین کی تنخواہ پر قابل ادا رقم میں 2 فیصد تک کی کمی ہوجائے گی۔ اگر ماہانہ ای پی ایف تنخواہ 10000 روپئے ہے تو ملازم کی تنخواہ سے 1200 روپئے کے بجائے محض 1000 روپئے کاٹے جائیں گے اور آجر کو بھی ای پی ایف کنٹری بیوشن کے طور پر 1200 روپئے کی جگہ 1000 روپئے ہی ادا کرنے ہوں گے۔

کوسٹ ٹو کمپنی (سی ٹی سی) ماڈل میں اگر ماہانہ ای پی ایف تنخواہ سی ٹی سی ماڈل میں 10000 روپئے ہے تو ملازم کو آجر سے براہ راست 200 روپئے مزید ملتے ہیں، کیونکہ آجر کے ای پی ایف / ای پی ایس کنٹری بیوشن میں کمی آنے سے ان کی تنخواہ سے 200 روپئے کم کی کٹوتی کی جائے گی۔

ای پی ایف اسکیم 1952 کے تحت کسی بھی رکن کے پاس قانونی شرح (10 فیصد) سے زیادہ کی شرح کنٹری بیوشن کرنے کا متبادل ہوتا ہے اور ایسے ملازم کے سلسلے میں آجر اپنے کنٹری بیوشن کو 10 فیصد (قانونی شرح) تک محدود کرسکتا ہے۔

 

******

م ن۔ م م۔ م ر

U-NO. 2640



(Release ID: 1625241) Visitor Counter : 58