وزارت خزانہ

وزیر خزانہ نے ترقی کے نئے افق کا اعلان کیا ؛ آٹھوں شعبوں میں آتم نربھر بھارت کے لئے راہ ہموار کرتے ہوئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا اعلان کیا

Posted On: 16 MAY 2020 8:47PM by PIB Delhi

 نئی دلّی  ،  17  مئی  / اِن اعلانات کے اہم نکات یہ ہیں :

  • کوئلے کے سیکٹر میں تجارتی کانکنی  متعارف کرائی گئی  
  • کوئلے کے سیکٹر میں  متنوع مواقع 
  • کوئلے کے سیکٹر میں  نرم روی
  • معدنیات کے سیکٹر میں  پرائیویٹ سرمایہ کاری میں اضافہ اور پالیسی اصلاحات
  • دفاعی پیداوار میں  خود کفالت  میں اضافہ 
  • دفاعی پیداوار میں پالیسی اصلاحات 
  • شہری ہوا بازی کے لئے مناسب فضائی   حدود کا بندوبست
  • پی پی پی کے ذریعے  عالمی درجے کے مزید ہوائی اڈے
  • بھارت طیاروں کی دیکھ بھال ، مرمت  اور اوور آلنگ  کے لئے عالمی مرکز بنے گا
  • بجلی کے شعبے میں شرحوں  کی پالیسی میں اصلاحات  ، مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بجلی کی تقسیم  کی نجکاری
  • سماجی سیکٹر میں  وائبیلٹی  گیپ فنڈنگ کے ذریعے پرائیویٹ سرمایہ کاری میں اضافہ
  • خلائی  سرگرمیوں میں پرائیویٹ  ساجھیداری میں اضافہ
  • ایٹمی توانائی کے سیکٹر میں اصلاحات

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 12 مئی ، 2020 ء کو 20 لاکھ کروڑ روپئے کے خصوصی اقتصادی  جامع پیکیج کا اعلان کیا تھا ، جو بھارت کی  جی ڈی پی  کے 10 فی صد کے برابر ہے ۔  انہوں نے  آتم نربھر بھارت  ابھیان  یا  خود کفیل بھارت تحریک   کی اپیل کی تھی ۔ انہوں نے آتم  بھارت   کے  پانچ   ستون  گنوائے تھے ، جن میں معیشت    ، بنیادی ڈھانچہ  ، نظام  ، متحرک آبادی  اور مانگ شامل ہے ۔

خزانے اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے  اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ  آج کی پریس کانفرنس میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  بہت سے شعبوں میں  پالیسی کو آسان  بنانے کی ضرورت ہے   تاکہ لوگوں کے لئے  یہ سمجھنا آسان ہو سکے  کہ  کون سا سیکٹر  کیا دے سکتا ہے اور  ساجھیداری کی سرگرمیوں میں شفافیت پیدا کی جائے  ۔  وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ایک مرتبہ ہم  شعبوں  کو  صاف کر سکیں گے تو ہم  ترقی کے لئے  اِن شعبوں میں تیزی لا سکیں گے ۔

وزیر خزانہ نے  مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی  کا  نظام میں زبردست اصلاحات کا ایک مضبوط ریکارڈ ہے ، جس میں  انہوں نے لوگوں کو براہ راست رقم  پہنچانے کے لئے   فوائد کی براہ راست منتقلی ( ڈی بی ٹی ) ، ایک ملک ایک مارکیٹ کے لئے جی ایس ٹی  ، دیوالیہ پن کے معاملے کو حل کرنے کے لئے  دیوالیہ پن اور دیوالیہ ہونے سے متعلق کوڈ  ( آئی بی سی ) اور کاروبار میں آسانی کے لئے کئے گئے  اقدامات کا حوالہ دیا ۔

اپنی پریس کانفرنس کے دوران محترمہ سیتا رمن نے  سرمایہ کاری میں تیزی لانے کے لئے پالیسی اصلاحات کی ضرورت  کو اجاگر کرتے ہوئے  ، اس سلسلے میں حکومت کےذریعے کئے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا ۔  انہوں نے کہا کہ  سکریٹریوں کے  با اختیار گروپ ( ای جی ایس )  کے ذریعے  ہر وزارت میں  ایک پروجیکٹ ترقیاتی  شعبہ   قائم کیا جائے گا ، جو  مرکزی اور ریاستی  سرکاروں  اور سرمایہ کاروں کے درمیان  پروجیکٹوں کے لئے تال میل فراہم کرے گا ۔

وزیر خزانہ نے آتم نربھر بھارت   کے تئیں کوششوں کے لئے مندرجہ ذیل پالیسی اصلاحات کا اعلان کیا :

  1. ای جی ایس کے ذریعے  سرمایہ کاری کی منظوری میں تیزی لائی جائے گی ۔
  2. ہر وزارت میں  سرمایہ کاری کے قابل  پروجیکٹوں   کی فہرست تیار کرنے  اور مرکزی / ریاستی حکومتوں اور سرمایہ کاروں کے درمیان تال میل کے لئے  پروجیکٹ  ترقیاتی سیل  قائم کیا جائے گا ۔
  3. نئی سرمایہ کاری کے لئے  سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی خاطر ریاستوں کی درجہ بندی کی جائے گی ۔
  4. شمسی پی وی مینو فیکچرنگ   اور جدید سیل بیٹری اسٹوریج   وغیرہ  جیسے  شعبوں میں نئے  چیمپئن شعبوں کو فروغ دینے کے لئے ترغیبی اسکیمیں شروع کی جائیں گی ۔

محترمہ سیتا رمن نے  اعلان کیا کہ یہ اسکیم صنعتی کلسٹر  کو بہتر بنانے  کے لئے  چیلنج موڈ  پر نافذ کی جائے گی ۔ نئی سرمایہ کاری کو فروغ دینے  اور  جی آئی ایس میپنگ کے ساتھ  صنعتی معلوماتی نظام ( آئی آئی ایس )  پر معلومات  کی دستیابی  کے لئے صنعتی اراضی / لینڈ بینکس   دستیاب کرائے جائیں گے ۔ آئی آئی ایس پر  3376 صنعتی پارک  / اسٹیٹس / ایس ای زیڈ  کے نقشے  فراہم کئے گئے ہیں ۔ سال 21-2020 ء کے دوران تمام صنعتی پارکوں کی درجہ بندی کی جائے گی ۔

وزیر خزانہ نے  کوئلہ  ، معدنیات ، دفاعی پیداوار ، شہری ہوا بازی  ، بجلی کے سیکٹر ، سماجی بنیادی ڈھانچہ ، خلاء اور ایٹمی توانائی سمیت 8 شعبوں میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا اعلان کیا  :

   

( اے ) کوئلہ سیکٹر

1 ۔ کوئلہ سیکٹر میں تجارتی کانکنی کا تعارف

          حکومت  کوئلہ سیکٹر میں مندرجہ ذیل اقدامات کے ذریعے  مقابلہ آرائی ، شفافیت  اور پرائیویٹ سیکٹر کی ساجھیداری کو متعارف کرائے گی۔

  1. روپئے / ٹن  کے نظام کے بجائے مالیہ میں ساجھیداری کا میکنزم   ۔ کوئی بھی پارٹی  کوئلہ بلاک کے لئے  بولی لگا سکتی ہے اور کھلی مارکیٹ میں فروخت کر سکتی ہے ۔
  2. داخلے کے ضابطوں میں نرمی کی جائے گی  ۔ تقریباً 50 بلاکوں کی  فوری طور پر  پیشکش کی جائے گی ۔
  3. پوری طرح  تلاش کردہ کوئلہ بلاکوں  کی نیلامی  کے پہلے  ضابطے کے بجائے  جزوی طور پر تلاش کردہ  کوئلہ بلاکوں کے لئے  تلاش اور پیداوار  نظام  شروع کیا جائے گا ۔ اس سے پرائیویٹ سیکٹر کوئلے کی تلاش میں  ساجھیداری  کر سکے گا ۔ 
  4. مالیہ میں حصہ داری میں چھوٹ کے ذریعہ  وقت سے پہلے پیداوار  کرنے کی ترغیب دی جائے گی ۔

 

2 ۔ کوئلہ سیکٹر میں وسیع مواقع

  1. مالیہ کی ساجھیداری میں  چھوٹ کے ذریعے  کوئلے  کو     گیس / رقیق میں تبدیل کرنے کو ترغیب دی جائے گی ۔ اس کے نتیجے میں ماحولیات پر کم سے کم اثر ہو گا  اور بھارت کو   گیس پر  مبنی معیشت   میں منتقلی میں مدد ملے گی ۔
  2. کول انڈیا لمیٹیڈ ( سی آئی ایل ) کے 24-2023 ء تک  ایک ارب ٹن  کوئلے کی پیداوار  کو بڑھانے کے لئے   50000 کروڑ روپئے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں  لگائے جائیں گے ۔ اس میں   مشینوں کے ذریعے کوئلے کی منتقلی   کی خاطر  18000 کروڑ روپئے  کی سرمایہ کاری شامل ہے  ۔ اس اقدام سے ماحولیات  پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا جا سکے گا ۔

 

3 ۔ کوئلے کے سیکٹر میں نرم روی

  1. کول انڈیا لمیٹیڈ کی کوئلہ کانوں سے  نکلنے والی  کول  بیڈ متھین  ( سی بی  ایم ) کے حقوق کی نیلامی کی جائے گی ۔
  2. کاروبار میں آسانی  کے اقدامات ، کانکنی منصوبے  کو آسان بنانے جیسے اقدامات کئے جائیں گے ۔ اس سے پیداوار میں خود بہ خود 40 فی صد کا ضافہ ہو گا ۔
  3. سی آئی ایل کے صارفین  کے لئے شرطوں میں نرمی کی جائے گی ۔  ( 5000 کروڑ روپئے  کے راحت کی پیشکش ) ۔

 

( بی )  ۔ معدنیاتی سیکٹر

1 ۔  معدنیات کے سیکٹر میں پرائیویٹ ساجھیداری میں اضافہ کرنا

          مندرجہ ذیل اقدامات کے ذریعے ترقی  ، روز گار  میں اضافہ کرنے   کے لئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات   اور  جدید ترین ٹیکنا لوجی   کو فروغ دیا جائے گا  :

  1. جامع تلاش اور  کانکنی اور پیداوار  نظام  کو متعارف کرانا ۔
  2. کھلے اور شفاف   نیلامی کے ذریعے  کانکنی  کے 500 بلاکوں کی پیشکش کی جائے گی ۔
  3. باکسائٹ اور کوئلہ  بلاکوں کی مشترکہ نیلامی  کی جائے گی تاکہ ایلومینیم کی صنعت   میں مسابقت کو متعارف کرایا جا سکے اور بجلی کی لاگت کو کم کیا جا سکے ۔

 

2 ۔ معدنیات کے سیکٹر میں پالیسی اصلاحات

          کانکنی کے پٹے کی منتقلی  اور  اضافی غیر  استعمال شدہ معدنیات  کی فروخت  کی  اجازت دینے کے لئے کھلی اور بند کانوں    کے فرق   کو متعارف کرانا تاکہ پیداوار میں  آنے والی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے ۔ کانکنی کی وزارت  مختلف معدنیات کے لئے  منرل انڈیکس   تیار کر رہی ہے ۔

 

( سی )  دفاع کا سیکٹر

1 ۔ دفاعی  پیداوار  میں خود کفالت   کو بڑھاوا  دینا

  1.  دفاعی پیداوار میں خود کفالت کے لئے میک اِن انڈیا کو  مختلف قسم کے  ہتھیاروں   / پلیٹ فارمس   کی ایک فہرست  کو نوٹیفائی  کیا جائے گا ، جن کی در آمد پر   پابندی عائد کی گئی ہے  اور ان میں  ایسے کلپرزے بھی شامل ہیں  ، جنہیں ملک میں ہی تیار کیا جانا چاہیئے ۔ اس سے دفاع کی درآمد  پر  ہونے والے اخراجات میں زبردست کمی ہو گی ۔
  2. آرڈیننس فیکٹری بورڈ کو  کارپوریٹ شکل دے کر  آرڈیننس کی سپلائی   میں  خود کفالت   ، جوابدہی  اور   کارکردگی  میں بہتری ہو گی ۔  

2 ۔ دفاعی پیداوار میں پالیسی اصلاحات

  1. دفاعی ساز و سامان کی تیاری میں ایف ڈی آئی کی حدمیں  خود کار طریقے سے  اضافہ کرکے  49 فی صد سے  74 فی صد کیا جائے گا ۔
  2. پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ ( پی ایم یو ) قائم کرکے  کنٹریکٹ بندوبست  میں مدد کے لئے   مقررہ  نظام الاوقات میں  دفاعی  خریداری کے عمل کو  پورا کرنے اور تیزی سے فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی ۔

 

( ڈی ) شہری ہوا بازی کا سیکٹر

1 ۔ شہری ہوا بازی کے لئے  فضائی حدود کا موثر بندوبست

          بھارتی فضائی حدود کے استعمال پر   پابندیوں میں نرمی کی جائے گی تاکہ شہری  طیاروں کی آمد و رفت میں اضافہ ہو سکے   ۔ اس سے  شہری ہوا بازی کے سیکٹر میں  ایک ہزار کروڑ سالانہ کا فائدہ ہو گا ۔ اس سے فضائی حدود کے استعمال میں بہتری آئے گی ، ایندھن کے استعمال میں کمی ہو گی اور  ماحولیات پر اس  کا اچھا اثر پڑے گا ۔

2 ۔ پی پی پی کے ذریعے عالمی سطح کے مزید  ہوائی اڈے

          سرکاری پرائیویٹ ساجھیداری  ( پی پی پی ) کی بنیاد پر آپریشن اور  دیکھ بھال کے لئے  دوسرے راؤنڈ کی نیلامی   کے لئے 6 مزید ہوائی اڈوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔  پہلے اور دوسرے راؤنڈ میں پرائیویٹ کمپنیوں کے ذریعے اضافی سرمایہ کاری  سے  تقریباً 13000  ہزار کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کی امید ہے ۔  نیلامی کے تیسرے راؤنڈ میں مزید 6 ہوائی اڈوں  کی  پیشکش کی جائے گی  ۔

3 ۔ بھارت طیاروں کی  دیکھ بھال ، مرمت  اور اوور آلنگ   ( ایم آر او )  کا عالمی مرکز   بنے گا

          ایم آر او  کے ماحول کے لئے  ٹیکس نظام کو معقول بنایا گیا ہے  ۔ ہوائی جہازوں کے  کلپرزوں  کی مرمت ، ڈھانچے کی دیکھ بھال   کے لئے 800 کروڑ  روپئے سے بڑھا کر 2000 کروڑ روپئے کر دیئے گئے ہیں ۔ امید ہے کہ دنیا کی  انجن بنانے  والی بڑی کمپنیاں  آنے والے برسوں میں بھارت میں ہی انجنوں کی مرمت  کی سہولیات قائم کریں گی، جس سے ایئر لائنوں کے رکھ رکھاؤ کی لاگت میں  کمی آئے گی ۔

 

( ای ) بجلی کا سیکٹر

1 ۔ بجلی کی شرحوں کے لئے مندرجہ ذیل اصلاحات کی جائیں گی :

( i ) صارفین کے حقوق

  1. بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں ( ڈسکوم ) کی  خراب  کارکردگی  کا صارفین پر بوجھ نہیں پڑے گا  ۔
  2. ڈسکوم کے لئے  خدمات   کے معیارات اور جرمانے  ۔
  3. ڈسکوم کو  مناسب بجلی  کی ترسیل کو یقینی بنانا ہو گا  ۔ لوڈ شیڈنگ   پر جرمانہ عائد کیا جائے گا ۔

( ii ) صنعتی  فروغ

  1. کراس سبسڈی میں  رفتہ رفتہ کمی ۔
  2. کھلی رسائی  کے لئے   مقررہ وقت میں  منظوری ۔
  3. بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے پروجیکٹوں کا مقابلہ جاتی انتخاب ۔

( iii ) سیکٹر  کی پائیداری

  1. کوئی ریگو لیٹری اثاثے نہیں ۔
  2. بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں ( جینکوس ) کی وقت پر ادائیگی  ۔
  3. سبسڈی  کے لئے  ڈی بی ٹی  : اسمارٹ پری پیڈ  میٹر ۔

 

2 ۔ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کاری کی نجکاری

          مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بجلی کے محکموں / اکائیوں کی نجکاری کی جائے گی ۔  اس سے صارفین کے لئے خدمات  میں بہتری ہو گی اور  تقسیم کاری میں  آپریشن اور مالی کارکردگی  میں اضافہ ہو گا ۔   یہ پورے ملک میں  دوسری اکائیوں کے لئے ایک ماڈل فراہم کرے گا ۔

 

( ایف ) سماجی بنیادی ڈھانچہ : فنڈ میں کمی  کو پورا کرنے  کی اسکیم کے ذریعے  پرائیویٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری  میں تیزی لانا  - 8100 کروڑ

          حکومت کل پروجیکٹ  لاگت  پر مرکزی اور ریاستی / قانونی اکائیوں  کے ذریعے  وی جی ایف کے طور پر وائیبلٹی گیپ فنڈنگ  ( وی جی ایف ) میں 30 فی صد تک کا اضافہ کرے گی ۔  دوسرے سیکٹرون کے لئے وی جی ایف کی موجودہ شرح  ، جو حکومتِ ہند اور ریاستی  / قانونی اداروں سے 20 فی صد تک ہے   ، جاری رہے گی ۔  اس کے لئے کل 8100 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔   مرکزی وزارتوں / ریاستی سرکاروں / قانونی اداروں  کے ذریعے پروجیکٹوں کی تجویز  پیش کی جائے گی ۔

( جی )  خلاء کا سیکٹر : خلائی سرگرمیوں میں پرائیویٹ ساجھیداری کو  فروغ دینا

          سیٹلائٹ  کے لانچ   اور خلاء پر مبنی  خدمات کے لئے  پرائیویٹ کمپنیوں کو برابر  کا موقع دیا جانا چاہیئے ۔ اس لئے  پرائیویٹ اداروں کو    پہلے طے شدہ پالیسی اور  ریگو لیٹری نظام فراہم کیا جائے گا ۔  پرائیویٹ سیکٹر کو اسرو کی سہولیات کا استعمال کرنے اور  اپنی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے  دیگر متعلقہ اثاثوں کے استعمال   کی اجازت دی جائے گی ۔  ٹیکنا لوجی  سے متعلق  صنعت کاروں کو  ریموٹ سینسنگ ڈاٹا فراہم کرنے کے لئے  جیو – اسپیشیل ڈاٹا پالیسی میں نرمی کی جائے گی  ۔

( ایچ ) ایٹمی توانائی سے متعلق اصلاحات

          کینسر اور دیگر بیماریوں کے قابل برداشت علاج  کے ذریعے انسانیت کی فلاح و بہبود کو فروغ دینے کی خاطر   میڈیکل آئیسوٹوپس تیار کرنے کے لئے  پی پی پی موڈ  طریقے پر  ریسرچ  ری ایکٹر  قائم کئے جانے چاہئیں  ۔ پی پی پی موڈ پر  تیار سہولیات کو    خوراک کے تحفظ کے لئے   تابکاری ختم کرنے کی ٹیکنا لوجی  کا استعمال کیا جائے گا  تاکہ  کسانوں    کو  مدد فراہم کی جا سکے ۔ اس کے لئے  بھارت کے  جامع اسٹارٹ اَپ نظام کو نیو کلیئر سیکٹر سے جوڑا جائے گا  تاکہ  تحقیقی سہولیات اور  ٹیکنالوجی کی صنعت کاری  کے درمیان  تال میل میں اضافہ کیا جا سکے ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( م ن ۔ و ا ۔ ع ا ) (17-05-2020)

U. No.2582

 



(Release ID: 1624619) Visitor Counter : 296