محنت اور روزگار کی وزارت

کووڈ-19 پر قابو پانے کے لیے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے سبب صنعت کاروں کو درپیش ملازمین کی کمی کے مسئلے کے حل کے لیے وزارت محنت وملازمت ہر ممکن اقدام کرے گی

ٹریڈ یونینوں سے ملاقات کے بعد جناب سنتوش گنگوار نے آج ملازمین کی تنظیموں کے ساتھ ایک ویبینار کا اہتمام کیا

Posted On: 08 MAY 2020 8:08PM by PIB Delhi

مرکزی وزارت محنت وملازمت نے  خوفناک عالمی وبا کووڈ-16 سے پیدا ہوئے حالات پر  غوروخوض اور مزدوروں اور معیشت پر  اس کے اثرات کو کم کرنے کی غرض سے پالیسی سازی  اور پالیسی ساز اقدامات مرتب کرنے کے لئے سماجی شراکت داروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزارت نے بین الاقوامی مزدور دن کے موقع پر سنٹرل ٹریڈ یونینوں اور ملازمین تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ یکم مئی 2020 کو بھی ویبنرز کا انعقاد کیا۔ اس کے علاوہ ، ایک اور ویبنار 6 مئی 2020 کو سی ٹی یو کے نمائندوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس عمل کو جاری رکھتے ہوئے ، وزیر محنت وملازمت (آزادانہ چارج) جناب سنتوش کمار گنگوار نے آج نئی دہلی میں اپنے دفتر سے ملازم تنظیموں کے ساتھ ایک ویبنار میں حصہ لیا۔  ویبنار کے دوران ان امور پر غور کیا گیا  (i) کووڈ-19 کے پیش نظر ملازمین اور مہاجر مزدوروں کے مفادات کا تحفظ، (ii) روزگار پیدا کرنے کے اقدامات، (iii) معاشی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات اور (iv) ایم ایس ایم ای کے لئے حالات کو بہتر بنانے کے اقدامات، تاکہ وہ لیبر قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں۔ ویبنار میں وزارت محنت و روزگار کے اعلی عہدیداروں ، ملازم تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

مرکزی وزیر موصوف نے اس موقع پر اپنی تقریر میں وزارت محنت و روزگار کی طرف سے کووڈ-19 کے دوران مزدوروں کی پریشانیوں پر قابو پانے کے لئے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کی بات کی، جس میں انہوں نے بتایا کہ ای ایس آئی سی اور ای پی ایف کے ضابطوں میں لچیلا پن، ملک بھر میں کنٹرول سنٹرز / ہیلپ لائنوں کا قیام وغیرہ  شامل ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ان کی وزارت صنعت کی ضروریات سے ہمدردی رکھتی ہے اور صنعت کی بحالی اور معیشت کو دوبارہ کھولنے کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت محنت و ملازمت ، صنعتوں خاص طور پر ایم ایس ایم ای سیکٹرکو درپیش مسائل کے حل کے لیے دیگر متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مشورہ کررہی ہے۔ انہوں نے ملازمین کی تنظیموں کے نمائندوں سے درخواست کی کہ وہ ایسے اقدامات تجویز کریں، جو موجودہ صورتحال سے نمٹنے اور تمام دعویداروں کے مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔

اس موقع پر ملازمین کے تنظیموں کے نمائندوں نے درج ذیل تجاویز پیش کیں۔

(i)  لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران چھٹنی کے معاملات سے نمٹنے کے لئے صنعتی تنازعات کے قانون کی دفعات میں لچک۔

(ii) صنعت کو درپیش مشکلات اور لیکویڈیٹی بحران کے پیش نظر ، کارکنوں کو دی جانے والی تنخواہ سی ایس آر فنڈ کے تحت حاصل کی جاسکتی ہے۔

(iii)  صنعت کو کھولنے کے بعد افرادی قوت کی زیادہ سے زیادہ افرادی قوت کو 33 فیصد سے کم سے کم 50 فیصد تک بڑھایا جائے، تاکہ سامان اور خدمات میں اضافے کی اجازت دی جاسکے۔

(iv) پی ایم جی کے وائی کی شرائط میں رعایت، جس میں ان اسکیموں کے تحت ایسے کاروباری اداروں کا احاطہ کیا گیا ہے، جن کے 90 فیصد یا اس سے زیادہ ملازمین کو 15000 روپے سے بھی کم تنخواہ مل رہی ہے ، تاکہ  اس اسکیم کے تحت مزید ملازمین کا احاطہ کیا جاسکے۔

(v) صنعت کو موجودہ بحران پر قابو پانے کے لئے کم سے کم اجرت ، بونس اور قانونی واجبات جیسی دفعات کو چھوڑ کر اگلے 2-3 سال کے لئے مزدور قوانین کی معطلی، جس سے صنعتوں کو درپیش موجودہ بحران سے ابھرنے کا سہارا مل سکے۔

(vi) کام  کے اوقات کو بڑھا کر 12 گھنٹے یومیہ کردیا جائے۔

(vii) صنعت کو مناسب پیکیج فراہم کرنا ، جس سے کاروبار میں استحکام پیدا ہوسکے اور روزگار کے مواقع کی کمی نہ ہو۔

(viii) صنعتوں کو سبسڈی والے نرخوں پر بجلی فراہم کی جائے۔

(ix) مہاجر مزدوروں کے سنگین حالات خاص طور سے خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں، ان مہاجر مزدوروں کو کام پر واپس لانے کے لئے ، کووڈ 19 سے متعلق ان کے خدشات ، ان کی آمد و رفت کے لئے مالی اعانت ، تقریبا چھ ماہ تک مفت گروسری کی سہولیات سے نمٹنے کے لئے ایک مشاورتی پروگرام بنایا جاسکتا ہے۔

 (x)  مہاجر مزدوروں کا ڈیٹا بینک تیار کیا جائے۔ غیر منظم شعبے کے کارکنوں اور روز مرہ کے مزدوروں کی مدد کے لئے ایک قومی وبائی فنڈ تیار کیا جانا چاہئے۔

(xi)  ملازمین اور آجر دونوں پر معاشرتی تحفظ کے اخراجات میں کمی۔

(xii)  مزدوروں اور سامان کے نقل و حمل کو آسان بنانے کے لیے ریڈ ، نارنگی اور سبز جیسے مختلف زون کی بجائے صرف کنٹرول زون ، نان کنٹرول زون اور نان کنٹرول زونز ہونے چاہئے۔ غیر کنٹرول علاقوں میں تمام سرگرمیوں کی اجازت ہونی چاہیے۔

وزارت محنت و ملازمت کے سکریٹری نے اس مباحثے کا اختتام کرتے ہوئے ملازمین تنظیموں سے اس مشورے پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب توجہ صنعت کی بحالی اور معیشت کے آغاز پر مرکوز ہونی چاہئے، تاکہ معاشی سرگرمیوں میں رفتار پیدا  ہوسکے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی  کہ وزارت محنت وملازمت ، صنعتوں کو درپیش کسی بھی مسئلے کے لیے ہر قسم کی مدد فراہم کرنے اور مزدوروں کے مفادات کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 م ن ۔س ش۔ ت ع۔

U-2435



(Release ID: 1622913) Visitor Counter : 30