وزیراعظم کا دفتر
گجرات کے کیوڑیا میں سردار پٹیل کے یوم پیدائش کے موقع پر ایکتا دِوس پریڈ سے وزیر اعظم کے خطاب کا متن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
31 OCT 2019 3:53PM by PIB Delhi
نئی دہلی،31؍اکتوبر:
میں کہوں گا سردار پٹیل-آپ سب دونوں ہاتھ اُوپر کرکے پوری طاقت سے بولیں گے-امر رہے- امر رہے۔
سردار پٹیل –امر رہے، امر رہے۔
سردار پٹیل –امر رہے، امر رہے۔
سردار پٹیل –امر رہے، امر رہے۔
ساتھیو!
ہم لوگوں نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کے خیالات ابھی ابھی سنے۔ ان کی آواز ہمارے کانوں میں گونجنا ، ان کے افکار کی موجودہ وقت میں اہمیت ، ہر لمحہ ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لئے سوچنا –یہ آج ان کے ایک ایک لفظ میں، ان کی آواز میں ہم محسوس کررہے تھے۔ ان کی آواز میں جو طاقت تھی، ان کے خیالات میں جو تحریک تھی، اسے ہر ہندوستانی محسوس کرسکتا ہے اور یہ بھی بہت خاص ہے کہ ہم سردار صاحب کی آواز انہی کے سب سے بلند مجسمے کے قریب سن رہے ہیں۔
ساتھیو!
جس طرح کسی جائے عقیدت پر آ کر ایک لامحدود سکون حاصل ہوتا ہے، ایک نئی توانائی ملتی ہے، ویسا ہی احساس مجھے یہاں سردار صاحب کے قریب آکر کے ہوتا ہے۔ لگتا ہے جیسے ان کے مجسمے کی بھی ایک اپنی شخصیت ہے، ایک اہلیت ہے، پیغام ہے، اتنا ہی عظیم، اتنا ہی دور اندیش اور اتنا ہی پاکیزہ ملک کے کے الگ الگ کونے سے ، کسانوں سے ملے لوہے سے ، الگ الگ حصوں کی مٹی سے اس عالیشان مجسمے کی تعمیر ہوئی ہے اور اس لیے یہ مجسمہ ہماری کثرت میں وحدت کی بھی زندہ علامت ہے، جیتا جاگتا پیغام ہے۔
ساتھیو!
آج سے ٹھیک ایک سال پہلے دنیا کے سب سے بلند مجسمے کو ملک کو وقف کیا گیا تھا۔ آج یہ مجسمہ صرف ہندوستان کے باشندوں کو ہی نہیں، بلکہ پوری دنیا کو راغب کررہا ہے، تحریک دے رہا ہے، آج اس جائے تحریک سے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو گلہائے عقیدت نذر کرتے ہوئے پورا ملک فخر محسوس کررہا ہے۔
اب سے کچھ دیر پہلے ہی قومی اتحاد کا پیغام دہرانے کے لئے، اتحاد کے اصول کو جینے کے لئے، اتحاد کے جذبے کو عملی شکل دینے کے لئے، اتحاد یہ ہمارے سنسکار ہیں، یہ ہماری سنکار سریتا ہے، اتحاد، یہ ہمارے مستقبل کے خوابوں کی سب سے بڑی طاقت ہے اور اسی کو دھیان میں رکھتے ہوئے رن فار یونٹی یعنی قومی اتحاد کے لئے دوڑ ہندوستان کے ہر کونے میں منعقد ہوئی۔ملک کے الگ الگ شہروں میں، گاؤں میں ، الگ الگ علاقوں میں ، ملک کے شہریوں نے، بچوں، بوڑھوں سب نے، مردوں ، عورتوں ہر کسی نے بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیا۔ یہاں بھی آج قومی اتحاد پریڈ کا انعقاد کیا گیا ہے۔ان شاندار پروگراموں میں حصہ لینے کے لئے میں اہالیان وطن کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ساتھیو!
پوری دنیا میں الگ الگ ملک ، الگ الگ مذہب، الگ الگ فکر ، الگ الگ زبان، طرح طرح کے رنگ اور شکلیں، دنیا میں ہر ایک ملک کے بننے میں لوگ جڑتے چلے گئے، کارواں بنتا چلا گیا، لیکن ہم یہ کبھی نہ بھولیں ، ہم کبھی کبھی دیکھ پاتے ہیں کہ یک رنگی ان ملکوں کی خصوصیت رہی ہے، پہچان رہی ہے اور اس کو ڈھالنے کی بہت ہی منصوبہ بند طریقے سے کوشش بھی کی گئی ہے۔اچھا ہو ، برا ہو، صحیح ہو، غلط ہو، تاریخ اپنا تجزیہ کرتی رہتی ہے، لیکن ہر ممکنہ کوشش کرنی پڑی ہے،لیکن ہندوستان کی شناخت الگ ہے۔ ہندوستان کی خصوصیات ہے ہندوستان کی گوناگونیت میں ایکتا۔ ہم گوناگونیت سےبھرے ہوئے ہیں۔ گوناگونیت میں ایکتا ہمارا فخر ہے،ہمارا فخر ہے، ہمارا وقار ہے، ہماری پہچان ہے۔ ہمارے یہاں گونا گونیت کوکثرت سے منایا جاتا ہے۔ہمیں گوناگونیت میں کبھی بھی، صدیوں سے گوناگونیت میں اختلاف کبھی نہیں دکھتا، لیکن ہمیں گوناگونیت کی ہی صلاحیت نظر آتی ہے۔
گوناگونیت کا جشن منانے میں گوناگونیت کی خوشی اس کے اندر چھپی ہوئی اتحاد کا احساس دلاتا ہے، اسے ابھار کرکے باہر لاتا ہے، جینے کی ترغیب ملتی ہے، جڑنے کا جذبہ دیتا ہے، منزل کے ساتھ اپنے اپنے مقصد جڑتے چلے جاتے ہیں اور منزلیں پار بھی ہوجاتی ہیں۔
جب ہم ملک کے الگ الگ زبانوں اورسینکڑوں بولیوں پر فخر کرتے ہیں تو بولیاں الگ ہونے کے باوجود بھی جذبات کا رشتہ بندھ جاتا ہے، تب ہم اپنے مختلف کھان پان، پوشاکوں کو اپنی وراثت سمجھتے ہیں تو اپنے پن کی مٹھاس اس میں آ ہی جاتی ہے۔ جب ہم الگ الگ علاقوں کے تہواروں میں شامل ہوتے ہیں تو ان کی خوشی اور بڑھ جاتی ہے اور نئے رنگ بھر جاتے ہیں اور نئی مہک آنے لگتی ہے۔
جب ہم مختلف ریاستوں کی روایات کو، خصوصیات کو، تہذیبوں کوان کی گوناگونیت کا لطف لیتے ہیں تو ہندوستانیوں کا وقار،ہندوستانی ہونے کا جذبہ چاروں طرف پھلتا ہے، پھولوتا ہے، کھلتا ہے، وقار بہت بڑھ جاتا ہے۔ جب ہم مختلف فرقے، ان کی تہذیبوں، عقیدوں کو ایک ہی طرح سے عزت کرتے ہیں تب ہم آہنگی، پیار، اس میں بھی کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے اور اس لیے ہمیں ہر پل گوناگونیت کے ہر موقعے کو منانا ہے، تہوار کی شکل میں اس کو منانا ہے، جی جان سے جڑنا ہے اور یہی تو ایک بھارت –شریسٹھ بھارت ، یہی تو قوم کی تعمیر ہے۔
ساتھیو!
یہ وہ طاقت ہے جو پوری دنیا میں کسی اور ملک کی قسمت میں نہیں ملے گی۔یہاں جنوب سے نکلے آدی شنکراچاریہ شمال میں جاکرکے ہمالیہ کی گود میں پہنچ کرکے مٹھ قائم کرتےہیں، یہاں بنگال سے نکلے سوامی وویکا نند کو ملک کے جنوبی سمت، کنیاکماری میں نیا گیان حاصل کرتے ہیں، یہاں پٹنہ میں آنے والے، جنم لینے والے گروگووند سنگھ جی پنجاب میں جاکر ملک کی حفاظت کے لئے خالصہ پنتھ قائم کرتے ہیں۔ یہاں رامیشورم میں پیدا ہوئے اے پی جے عبدالکلام دہلی میں ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہوتے ہیں، گجرات کے پوربندر کی سرزمین میں پیدا ہوا موہن داس کرم چند گاندھی بہار کے چمپارن میں جاکر کے ملک میں بیداری پھیلانے کا بیڑا اٹھاتاتھا اور اس لئے میں مانتاہوں کہ اپنے اتحاد کی اسی طاقت کا تہوار مسلسل منانا بہت ضروری ہے۔
اتحاد کی یہ طاقت ہی ہے ، جس سے ہندوستانیت کا بہاؤ ہے، رفتار ہے، اتحاد ہی کی یہ طاقت ہی ہے ، جو صحیح معنوں میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے ذریعے لکھے گئے ہمارے آئین کی تحریک بھی ہے۔ وی دی پیپل آف انڈیا-ہم بھارت کے لوگ یہ تین چار لفظ نہیں ہیں، صرف ہمارے آئین کی شروعات نہیں ہے، یہ ہزاروں برسوں سے چلے آرہے ہندوستانیوں کے اتحاد کے جذبے کو لفظوں میں سجائی ہوئی ہماری قدیم ترین ثقافتی تاریخ ہے، روایت ہے، یقین ہے اور عکس ہے۔
ساتھیوں !
میں آپ کو کھیل کی دنیا سے ایک مثال دیتا ہوں۔ ہم جانتے ہیں جب گاؤں کے اندر کھیل کی شروعات ہوتی ہے، مقابلہ ہوتا ہے، تو اسی گاؤں کی دونوں ٹیمیں جیتنے کے لئے پوری طاقت لگا دیتی ہے۔ایک ہار تار اور ایک جیت جاتا ہے۔جیتنے والا تحصیل میں چلا جاتا ہے، جب تحصیل کے اندر کھیل کھیلا جاتا ہےتو ہارنے والی ٹیم سمیت اس گاؤں کے لوگ بھی اور تحصیل کے لوگ بھی اپنی ٹیم جیت جائے اس کے لئے متحد ہو کر کھڑے ہوجاتے ہیں، لیکن جب دوسری تحصیل ہار جاتی ہے، لیکن جب ٹیم ضلع میں جاتی ہے مقابلہ کرنے کے لئے تو ہارنے والا بھی ضلع کی جیت کے لئے جڑ جاتا ہے اور پورا ضلع ایک بن کرکے جیتنے کے لئے آگے آتا ہے اور جب ریاست کے ضلعوں کی مسابقت ہوتی ہے، تو ضلع آگے بڑھتا ہے، جب ملک کے اندر ریاستوں کا مقابلہ ہوتا ہے تو ریاست کی جیت کے لئے سب ایک ہوجاتے ہیں۔ہار جیت معنی نہیں رکھتی ہے۔
اتحاد کا احساس اور جب ہم بین الاقوامی سطح پر کھیلنے کیلئے جاتے ہیں تو سب بھول جاتے ہیں کہ ٹیم کہاں کی ہے ، کھلاڑی کہاں کے ہیں ، اس کی زبان کیا ہے ، اس نے مجھے ہرایاتھا۔ سب بھول جاتے ہیں اور جب وہ اپنے کندھے پر ہندوستان کا ترنگا اٹھاکر فتح کے لئے دوڑتا ہے تو پورا ہندوستان ساتھ ہوتا ہے ، ساتھ میں بھارت ماتا کی جے جے کار ہوتی ہے. یہ اتحاد کی وہ طاقت ہے جس کا ہم تجربہ کرتے ہیں۔
جب غیر ملکی سرزمین پر تمغہ جیتنے کے بعد ترنگا لہرایا جاتا ہے تو ہر ہندستانی کشمیر سے لے کر کنیاکماری تک ، مہاراشٹرا سے منی پور تک ، ہر ایک میں جوش وخروش میں ہوتا ہے۔
دوستو ،
جب سردار ولبھ بھائی پٹیل 500 سے زیادہ سلطنتوں کو متحد کرنے کیلئےصبرآزما کام کے لئے نکلے تو یہ ان کی مقناطیسی قوت تھی جس میں بیشتر راجے راجواڑے اسی جذبے کے ساتھ کھنچے چلے آئے تھے۔ اس وقت ، ہر رجواڑے اور وہاں کے لوگوں میں ہندوستانییت کا احساس پایا جاتا تھا۔ سیکڑوں سالوں کی غلامی کے دور میں ، ہندوستانیت کا یہ اظہارراجے رجواڑوں میں ظاہر ہوسکتا ہویا نہ ہو ، اس کا اظہار وہ کر پائے ہوں یا نہ کرپائے ہوں ، لیکن ہندوستانیت کا یہ احساس ، صدیوں کی غلامی کے باوجود ، یہاں تک کہ ہر طرح کے بحرانوں ، ہر طرح کے لالچ کے باوجود ، ہندوستانیت کا یہ احساس ہندوستان کے کسی بھی کونے میں کبھی نہیں کھویا اور اسی طرح سردار پٹیل جب اتحاد کا منتر لے کر نکلے تو سب اس کی سر پرستی میں کھڑے ہو گئے.
بھائیو اور بہنوں !
ہمیں ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ صدیوں پہلے ، تمام شاہی ریاستوں کو ساتھ لے کر ، مختلف روایات کے ساتھ ، تنوعکے ساتھ ، ہندوستان کا خواب دیکھ کر ، قوم کی بحالی میں کامیاب ہونے کی کوشش کر کے ، تمام سلطنتوں کو ساتھ لے کر، ہماری تاریخ کا ایک اور نام تھا اور یہ نام چانکیہ تھا۔ چانکیا نے ، صدیوں پہلے ، اپنے دور میں ملک کی طاقت کو متحد کرنے کی کوشش کی تھی۔ چانکیا کے بعد ، اگر کوئی یہ کام صدیوں کے بعد بھی کرسکتا تھا، تو وہ ہمارے سردار ولبھ بھائی پٹیل ہی کر سکتے تھے۔ ورنہ انگریز چاہتے تھے کہ ہمارا ہندوستان آزادی کے ساتھ الگ ہوجائے، لیکن اپنی مرضی سے ، سردار پٹیل نے مل کر ملک کو متحد کرکے تمام ملک دشمن قوتوں کو شکست دی۔
بھائیو اور بہنو !
آج ہمارا اثر و رسوخ اور ہم آہنگی میں عالمی سطح پردونوں میں اضافہ ہورہا ہے ، لہذا ہمارا سبب ہمارا اتحاد ہے۔ تنوع میں اتحاد - یہ ہماری شناخت ہے۔ آج پوری دنیا ہندوستان کو سنجیدگی سے سنتی ہے ، اس کی وجہ کشمیر سے کنیاکماری ، اٹک سےکٹک - ایک قوم ، ایک عظیم قوم ، ایک عظیم ثقافت ، ایک عظیم روایت - یہی ہماری طاقت ہے اور یہی ہماری وجہ ہے۔
آج ، ہندوستان اپنا صحیح مقام حاصل کرتے ہوئے ، دنیا کی بڑی معاشی قوتوں میں شامل ہو رہا ہے۔ وجہ اقتصادیات کی ہوگی ، معاملہ روپے ، ڈالر اور پاؤنڈ کا ہوگا ، لیکن اس کے پیچھے اصل طاقت ملک کی یکجہتی ، وطن عزیز کا عزم ، وطن عزیز کی کاوش ، عدم استحکام ، انتھک کوشش اور حکمرانی ہے کہ ہم وطنوں کے عزم کو ثابت کریں۔ دنیا اس تنوع کو ہماری حیرت ، اس کا جادو سمجھتی ہے ، لیکن ہمارے ہندوستانیوں کے لئے ، یہ ہماری زندگی کا جابلا آب و ہوا ہے۔ یہ وہی زندگی ہے جو زمانے سے ہی ہماری سانچارتا سریتا بن کر ہمارے ذہن کے مندر سے مستقل طور پر بہتی ہے ، وقت پر اس میں نئی چیزوں کو جوڑتی رہتی ہے ، جس زندگی پر سردار پٹیل کا اٹل عقیدہ تھا۔
دوستو ،
اکیسویں صدی میں ہندوستان کا یہ اتحاد ، ہندوستانیوں کا یہ اتحاد ، بھارت کے مخالفین کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ آج قومی یکجہتی کے دن ، میں ہر شہری کو ملک کے سامنے اس چیلنج کی یاد دلاتا ہوں۔ بہت آئے ، بہت گئے۔ بڑے خواب بڑے مقاصد کے ساتھ آئے تھے اور پھر بھی صرف ایک ہی چیز سامنے آئی ہے - یہ ایسی چیز ہے جس سے انسان ختم نہیں ہوتا ہے۔
بھائیو ،
جو لوگ جنگ نہیں جیت سکتے وہ ہمارے اتحاد کو للکار رہے ہیں ، ہمارے اتحاد کے مابین سوراخ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ، علیحدگی کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں ، ہمارے اتحاد کی روح کو چیلنج کررہے ہیں۔ صدیوں سے ہمارے اندر موجود اتحاد کو چیلنج کیا گیا ہے ، لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ صدیوں کی اتنی کوششوں کے باوجود ، کوئی بھی ہمیں مٹا نہیں سکتا ، ہمارے اتحاد کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔
اسی طرح دوستو ،
جب ہمارے تنوع کے دوران اتحاد پر زور دینے والی باتئیں ہوتی ہیں، تووہ ان قوتوں کو مناسب جواب دینے کی طاقت رکھتی ہیں اور انھیں جواب بھی مل جاتا ہے۔ جب ہم اپنی کثرت کے دوران اتحاد کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں تو ، یہ قوتیں بکھر جاتی ہیں اور اسی وجہ سے ہمیں 130 کروڑ ہندوستانیوں کو متحد ہو کر ان کے خلاف لڑنا ہوگا اور یہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کو حقیقی خراج تحسین ہے۔ ہمیں اس کے ہر امتحان میں کامیاب ہونا ہے۔
بھائیو ، بہنو!
سردار صاحب کے آشرواد سے ، ملک نے چند ہفتوں قبل ہی ان قوتوں کو شکست دینے کا ایک بہت بڑا فیصلہ لیا ہے۔ دوستو ، آرٹیکل 370 نے جموں و کشمیر کو علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ پورے ملک میں جموں وکشمیر واحد جگہ تھی جہاں آرٹیکل 370 نافذ تھا اور پورے ملک میں جموں وکشمیر واحد جگہ تھی جہاں تین دہائیوں میں دہشت گردی نے 40 ہزار سے زیادہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بہت سی ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے ، بہت ساری بہنیں اپنے بھائیوں سے محروم ہوگئیں ، بہت سے بچے اپنے والدین سے محروم ہوگئے۔
دوستو ،
کب تک؟ کب تک ملک معصوموں کی موت کا شاہد رہے گا؟ دوستو ، اس آرٹیکل 370 نے کئی دہائیوں سے ہم ہندوستانیوں میں عارضی دیوار بنا رکھی تھی۔ ہمارے بھائی بہن جو اس عارضی دیوار کے دوسری طرف تھے ،وہ بھی الجھ گئے۔ وہ دیوار جو کشمیر میں علیحدگی پسندی اور دہشت گردی میں اضافہ کررہی تھی ، آج میں سردارصاحب کے اس شاندار مجسمے کے سامنے کھڑا ہوں ، اور سر جھکا رہا ہوں ، میں پوری عاجزی کے ساتھ سردار صاحب کو حساب دے رہا ہوں۔ یہ سردار صاحب۔ آپ کا جوخواب ادھورا تھا - اب وہ دیوار منہدم کردی گئی ہے۔
بھائیو ، بہنو،
ایک بار سردار پٹیل نے کہا تھا کہ اگر مسئلہ کشمیر ان کے پاس رہتا تو اس کو حل کرنے میں اتنا زیادہ وقت نہ لگتا۔ انہوں نے ملک کو متنبہ کیا کہ جموں و کشمیر کا ہندوستان میں مکمل انضمام ہی واحد حل ہے۔ آج ، ان کی یوم پیدائش پر ، میں آج اس شاندار مجسمے کے سامنے ، جہاں بھی سردارصاحب کی روح ہوگی ، آرٹیکل 370 کو ہٹانے کا فیصلہ کرتا ہوں ، ہندوستان کی پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت کے ساتھ ، 5 اگست کو اتحاد کے ساتھ زبردست فیصلہ میں نے اس عظیم فیصلے کو سردارصاحب کے لئے وقف کردیا ہے۔ یہ ہم سب کی خوش قسمتی ہے کہ ہمیں سردار صاحب کے ادھورے خواب کو پورا کرنے کا موقع ملا ہے۔ ہمیں یہ بھی خوشی ہے کہ آج سے جموں و کشمیر اور لداخ ایک نئے مستقبل کی طرف گامزن ہیں اور یہ بھی خوشی ہے کہ لداخ ، جموں وکشمیر اتحاد کے پجاری سردار صاحب کی برسی کے موقع پر ہیں۔
میرے بھائیوں بہنو!
حال ہی میں، صرف پچھلے ہفتے بلاک ڈویلپمنٹ کونسل کے انتخاب میں ... اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جمہوریت کی بہت سی چیزیں آزادی کے بعد بہت سالوں سے ہوچکی ہیں لیکن جموں و کشمیر کے شہریوں کو جمہوریت کا یہ حق مل گیا ہے ، جو انہیں نہیں مل سکا تھا، دفعہ 370 کوبہانے کے طور پر استعمال کیا گیا ، بی ڈی سی انتخابات کبھی نہیں ہوئے۔ آزادی کے بعد پہلی بار بی ڈی سی انتخابات ہوئے ، جس پنچوں اور سرپنچوں نے ووٹ ڈالے ہیں۔ انتخابات گذشتہ ہفتے ہی ہوئے تھے ، جن میں 98فیصد پنچ، سرپنچوں نے ووٹنگ کی تھی۔ یہ شراکت داری اپنے آپ میں اتحاد کا پیغام ہے ، سردارصاحب کی ایک مقدس یاد ہے۔
اب جموں و کشمیر میں سیاسی استحکام ہوگا ، اب ذاتی مفاد کے لئے حکومتیں بنانے اور گرانے کا کھیل ختم ہو جائے گا ، اب خطے کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور شکایات کا خاتمہ ہوگا ، اب کوآپریٹیو فیڈرلزم کی اصل شراکت - وکاس یاترا ، اکٹھے چلنے کےدور کا آغاز ہوگا۔ نئی شاہراہیں ، نئی ریلوے لائنیں ، نئے اسکول ، نئے کالج ، نئے اسپتال ، جموں و کشمیر اور لداخ کے عوام کو ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جائیں گے۔
ساتھیو!
اگست کے مہینے میں قوم کے نام خطاب میں میں نے جموں و کشمیر کے لوگوں سے ایک اور وعدہ کیا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ ریاست کے ملازمین کو ، جموں و کشمیر پولیس کو دوسرے مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کے ملازمین کے برابر ،مرکز کے زیر انتظام خطے کے ملازمین کے برابر سہولتیں ملیں گی۔مجھے خوشی ہے کہ آج سے جموں کو کشمیر اور لداخ کے سبھی ملازمین کو ساتویں تنخواہ کمیشن کےذریعے منظور شدہ بھتّوں کا بھی فائدہ ملنا شروع ہو جائےگا۔
دوستو!
جموں و کشمیر اور لداخ میں نئے انتظامات زمین پر لکیر کھینچنے کے لئے نہیں ہیں ، یہ میں بہت ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔ یہ ہمارا فیصلہ زمین پر لکیریں کھینچنے کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ ایک مضبوط کڑی بنانے کے لئے کیا گیا بامعنی آغاز ہے۔ یہی یقین ہے جس کی خواہش سردار ولبھ بھائی پٹیل نے بھی جموں و کشمیر اور لداخ کیلئے کی تھی۔ اور میں ایک بار پھر دوہراؤں گا ۔ ہم ملک کے اتحاد ، ملک کے اتحاد پر ہر حملے کو شکست دیں گے ، اور ہم اس کا منھ توڑ جواب دیں گے۔ ملک کے اتحاد کو توڑنے کی کوشش کو ۔ جمہوریت کی طاقت اتنی بڑی ہوتی ہے ، عوامی جذبات اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
دوستو!
سردار صاحب کی ترغیب سے ہی ہم مکمل بھارت کے جذباتی،معاشی اور آئینی انضمام پر زور دینے کی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ وہ کوشش ہے جس کے بغیر 21 ویں صدی کو دنیا میں بھارت کی مضبوطی کا تصور ہم نہیں کر سکتے ۔
ساتھیو اور بہنوں!
یاد کریئے ایک وقت تھا جب شمال مشرق اور باقی ہندوستان کے درمیان اعتماد کی کھائی اتنی گہری ہوتی جا رہی تھی ۔ وہاں کی جسمانی رابطے اور جذباتی رابطے دونوں کے بارے میں سنجیدہ سوال بار بار کھڑے ہوتے تھے۔ لیکن اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہیں۔ آج شمال مشرق کا الگاؤ –لگاؤ تبدیل ہو رہا ہے۔ دہائیوں پرانے مسائل اب ایک حل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تشدد اور رکاوٹ کے ایک لمبے عرصے سے پورے شمال مشرق کو آزادی مل رہی ہے اور یہ بھی ڈنڈے کے زور پر نہیں ، ان کے ساتھ جذباتی روابط جوڑ کر ۔ ملک میں یکجائی کی دیگر کوشش بھی –یہ ہمارا مسلسل چلنے والا عمل ہے، اور سبھی اہل وطن کی بھی ذمہ داری ہے۔
اور اس لئے بھائیو -بہنو،
مسلسل ہماری کوشش ہےاور آپ دیکھ رہے ہیں آدھار کی چرچا ہے، آگے آدھار ہے کیا۔ آدھار یعنی ایک ملک ایک پہچان ہو۔ جی ایس ٹی یعنی ایک ملک ایک ٹیکس ہو۔ ای – نام یعنی ایک ملک ایک زرعی بازار ، ہو۔ بجلی اور گیس کے لئے ایک ملک ایک گریڈ ہو۔ ایک ملک ایک موبیلیٹی کارڈ ہو، ایک ملک ایک آپٹیکل فائبر نیٹ ورک ہو، یا پھر ایک ملک ایک راشن کارڈ ہو۔ یہ سبھی ایک بھارت شریشٹھ بھارت کے ویژن کو مضبوط کرنے کا ہی کام کر رہے ہیں۔
بھائیو اور بہنو،
سردار ولبھ صاحب کہتے تھے۔ بھارت میں استحکام کے لئے بہت ضروری ہے، اتحاد کا مقصد ، مقاصد کا اتحاد اور اتحاد کی کوشش۔ ہمارے مقاصد میں برابری ہو، ہمارے ہدف میں مساوات ہو اور ہماری کوششوں میں اتحاد ہو۔
بھائیو اور بہنو!
گذشتہ برسوں میں ہم نے نئےہندوستان کے ایک ہی مقصد کے ساتھ بھارت کی اجتماعیت کو ، ہماری اصلی طاقت کو اور مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ عام انسان کی زندگی سے حکومت کو کم کرنے کے بھارت کے مستقبل کا حصہ دار بنایا ہے۔ آج وہ اپنے افسروں کے تئیں تو آگاہ ہیں ہی، اپنے کاموں کو لے کر بھی آج ہندوستان کا شہری زیادہ متحرک اور باشعور ہے۔ سووچھتا کا وہ آج قوم کے تئیں اپنی ذمہ داری نبھانے ، ہندوستان کا ہر شہری آگے آیا ہے، وہ اپنا کام ماننے لگا ہے۔ جب میں فٹ انڈیا کی بات کرتا ہوں ، فٹنیس کو بھی وہ ملک کے لئے اپنے تعاون کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ پانی کی بچت کو وہ اپنا قومی فریضہ ماننے لگا ہے۔ قانون و قاعدے پر عمل کرنے کو کبھی وہ مجبوری سمجھتا تھا آج وہ اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر نبھا رہا ہے۔ اب وہ گھر سے نکلتا ہے اور اپنے ساتھ کپڑے کا ایک تھیلا بھی رکھ لیتا ہے تاکہ پلاسٹک کا استعمال کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
ساتھیو!
میں پورے ملک سے اپیل کرتا ہوں کہ آیئے ہم اس قدیم اعلان کویاد کرتے ہوئے آگے بڑھیں جس میں ہمیں ہمیشہ تحریک دی ہے۔ کئی بار ہم نے سنا ہے ، کئی بار سمجھنے کی کوشش کی ہے ، لیکن ملک جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے اب ہر ہندوستانی کو ا س منتر کو اپنی زندگی میں اتارکر کے ملک کو آگے بڑھانا ہے۔
सं गच्छ-ध्वं, सं वद-ध्वं, सं वो मनांसि जानताम्
یعنی ہم سبھی ساتھ مل کر کے چلیں ، ایک آواز میں بات کریں، ایک من کے ساتھ آگے بڑھیں۔
ساتھیو!
اتحاد کا یہی وہ راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے ایک بھارت شریشٹھ بھارت کا عزم پورا ہوگا۔ نئے بھارت کی تعمیر ہوگی۔
آخر میں پھر ایک بار سبھی کو پورے ملک کو راشٹریہ ایکتا دوس کی بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں اور میں آج محسوس کر رہا ہوں کہ سردار صاحب کا شاندار مجسمہ- یہ صرف دیکھنے کا مقام نہیں ہے بلکہ ترغیب حاصل کرنے کی جگہ ہے۔ اور مجھے عقیدت ہے کہ آج سردار صاحب کی آتما جہاں بھی ہوگی اتحاد کے جس بیج کو انہوں نے بویا تھا آج ہندوستان کے ہر کونے میں اتحاد کا وہ بیج عظیم درخت بن کر کے پھل پھول رہا ہے۔ اور اس کے سائے میں 130 کروڑ خواب پنپ رہے ہیں۔ جس کی قابلیت سے دنیا کو یقین ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا میں ایک نیا اعتماد پیدا ہوتا جا رہا ہے اور اس لئے سردار صاحب نے جو بیج بویا ہے اس بوئے بیج کو ہم نے اپنی محنت سے ہمارے اپنے خوابوں سے ، ہمارے اپنے عزائم سے ہمیں اور مالا مال بنانا ہے۔ اور طاقتور بنانا ہے۔ اور عوامی بہبود سے دنیا کی بہبود کا راستہ ہمیں آگے لے کر بڑھنا ہے۔
میری طرف سے آج میں پھر ایک بار ہم وطنوں کی طرف سے ، بھارت سرکار کی طرف سے ،ذاتی طور پر میری طرف سے سردار صاحب کے یوم پیدائش پر سر جھکا کر کے احترام کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ آج سب کا بہت بہت شکریہ ، پوری طاقت سے دونوں مٹھی بند کر کے میرے ساتھ بولئے۔
بھارت ماتا کی –جے
بھارت ماتا کی –جے
بھارت ماتا کی –جے
بہت بہت شکریہ۔
****************
م ن۔م م۔و۔اگ۔ن ع۔ک ا۔ م ف
U: 4866
(ریلیز آئی ڈی: 1589859)
وزیٹر کاؤنٹر : 345