جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جناب پرلہاد جوشی نے بی آر ای سمٹ اور ایکسپو 2026 کے دوران عالمی شمسی تعاون کے لیے عزم کا اعادہ کیا

ہندوستان مسلسل تیسری مدت کے لیے بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے) کا صدر منتخب

شمسی توانائی اور زرعی- فوٹو وولٹک نظام (ایگری- پی وی) کے ذریعے 30 لاکھ کسانوں کو بااختیار بنایا گیا: جناب جوشی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 NOV 2026 4:31PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر برائے نئی اور قابلِ تجدید توانائی، تعلیم، امورِ صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم، جناب پرہلاد جوشی نے آج یہاں بھارت قابلِ تجدید توانائی سمٹ اور ایکسپو 2026 کے دوران منعقدہ پریس کانفرنس میں ذرائع ابلاغ سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی شمسی تعاون کو فروغ دینے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا کہ ترقی کے ثمرات منصفانہ طور پر سب تک پہنچیں۔

مرکزی وزیر نے اس بات کو اجاگر کیا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں ہندوستان، ’’بااختیار بنانے کے لیے توانائی‘‘ کے تصور اور ’’ایک سورج، ایک دنیا، ایک گرڈ‘‘ کے اصول کے تحت بین الاقوامی شمسی تعاون کو فروغ دینے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔ ہندوستان مسلسل تیسری مدت کے لیے بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے )  کا صدر منتخب ہوا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ اسی پختہ عزم کے تحت ہندوستان اور فرانس نے 2015 میں بین الاقوامی شمسی اتحاد قائم کیا تھا۔ آج آئی ایس اے کے 130 دستخط کنندہ اور رکن ممالک کے ساتھ یہ تصور بین الاقوامی تعاون ،خصوصاً عالمی جنوب  کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

بھارت قابلِ تجدید توانائی سمٹ اور ایکسپو 2026  کا افتتاح معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 2 نومبر 2026 کو کیا تھا اور یہ 5 نومبر 2026 کو اختتام پذیر ہوگا۔ جناب جوشی نے کہا کہ گزشتہ دو  دنوں اور آئندہ دو  دنوں کے دوران ہونے والے مباحثے اس واضح ترجیح کو مزید مستحکم کریں گے کہ شمسی توانائی سے متعلق وعدوں کو سرمایہ کاری میں، شراکت داریوں کو منصوبوں میں اور بلند عزائم کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جائے۔

اتحاد کی اہم ترجیحات کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں شمسی توانائی کی تنصیب کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہاں اس کے لیے مالی وسائل فراہم کرنا نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 200 ملین امریکی ڈالر کا افریقہ سولر فنڈ، افریقہ کے تقسیم شدہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ہندوستان کی جانب سے تقریباً 225 کروڑ روپے (25 ملین امریکی ڈالر) کی مالی اعانت کے عزم نے اس بات کو مزید تقویت دی ہے کہ محروم طبقوں تک کفایتی  شمسی توانائی کی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 300 ملین امریکی ڈالر کا نائجیریا ڈسٹری بیوٹڈ رینیوایبل انرجی فنڈ، پورے براعظم میں اس طریقۂ کار کو وسعت دینے کے لیے ایک نمونہ فراہم کرتا ہے۔

 

شمسی توانائی کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کے کردار پر زور دیتے ہوئے، جناب جوشی نے بڑے پیمانے پر حل فراہم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ فجی، مڈغاسکر، کوموروس اور سیشلز میں بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے) کے تعاون سے شروع کیے گئے اقدامات اس بات کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ شمسی توانائی کے ذریعے صحت کی سہولیات اور اسکولوں کو بجلی فراہم کرکے، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور زرعی پیداوار کے لیے سرد ذخیرہ گاہوں کی معاونت کرکے لوگوں کے ذرائع معاش اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت کو کس طرح مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اتحاد شمسی توانائی اور توانائی ذخیرہ کرنے کے مشترکہ مواقع کو فروغ دے رہا ہے، جس کا آغاز ماریشس سے کیا جا رہا ہے، تاکہ چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک کے لیے قابلِ توسیع نمونے تیار کیے جا سکیں۔

مرکزی وزیر نے شمسی توانائی کے ذریعے 30 لاکھ کسانوں کو بااختیار بنانے اور زرعی فوٹو وولٹک نظام (ایگری – پی وی) کو فروغ دینے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا پی ایم-کُسم ( پی  ایم- کسم) اقدام اس بات کا مظاہرہ کرتا ہے کہ شمسی توانائی سے چلنے والی زراعت آبپاشی کے اخراجات میں کمی لانے اور آمدنی کے اضافی مواقع پیدا کرنے میں کس طرح مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے ) کے ذریعے رکن ممالک، خصوصاً افریقی ممالک میں اس نمونے کو اپنانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں، تاکہ توانائی کی منتقلی کے عمل میں کسانوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔

جناب جوشی نے قومی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے حوالے سے، 17 شمسی ٹیکنالوجی ایپلی کیشن ریسورس سینٹرز، گلوبل کیپبیلٹی سینٹر–شائن (اختراع اور عمل درآمد کا اسٹریٹجک مرکز) اور مصنوعی ذہانت سے لیس آئی ایس اے  اکیڈمی کے قیام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ توجہ اداروں کو مضبوط بنانے، مہارتوں کو فروغ دینے اور شمسی توانائی کے استعمال کو تیز کرنے کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے پر مرکوز ہے۔

 

تکنیکی ترقی کے تناظر میں صاف توانائی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ جس طرح مصنوعی ذہانت معیشتوں کی تشکیلِ نو کر رہی ہے، اسی طرح سستی، قابلِ اعتماد اور صاف بجلی تک رسائی ایک اور بھی زیادہ اہم اسٹریٹجک ضرورت بن جائے گی۔

 

جناب جوشی نے اس بات پر زور دیا کہ اسمبلی کا پیغام واضح ہے: شمسی توانائی کا مستقبل مشترکہ ذمہ داری، مسلسل سرمایہ کاری اور اجتماعی اقدامات کے ذریعے تعمیر کیا جانا چاہیے۔

 

حکومتِ ہند کی جانب سے انہوں نے تمام رکن ممالک کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہندوستان پر اعتماد کا اظہار کیا اور اسے مسلسل تیسری مدت کے لیے بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے) کی صدارت کے لیے منتخب کیا۔ انہوں نے فرانس اور اس کے وزیر کو آئی ایس اے  کے مشترکہ صدر کے طور پر دوبارہ منتخب ہونے پر مبارک باد بھی دی۔

جناب جوشی نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ہندوستان کی نئی مدت کے آغاز کے ساتھ ہی توجہ سرمایہ کاری کو متحرک کرنے، شمسی توانائی کے استعمال کو تیز کرنے اور اجتماعی عزائم کو عوام اور ممالک کے لیے ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے پر مرکوز رہے گی۔ انہوں نے تمام رکن ممالک کا مسلسل اعتماد اور تعاون برقرار رکھنے پر شکریہ ادا کیا۔

پریس کانفرنس میں جناب سنتوش کمار سارنگی، سکریٹری، وزارتِ نئی اور قابلِ تجدید توانائی (ایم این آر ایس)،  جناب آشیش کھنہ، ڈائریکٹر جنرل،  آئی ایس اے ، فرانس کے وزیرِ مملکت برائے ماحولیاتی منتقلی، جناب میتھیو لیفے ورے، ڈنمارک کے وزیر برائے کاروبار اور مسابقت، جناب مارٹن لیڈگارڈ، جمہوریہ سرینام کی وزارتِ قدرتی وسائل کے وزیر، عزت مآب جناب ڈیوڈ ابیاموفو، سیشلز کی وزارتِ صنعت و کاروبار کی وزیر، عزت مآب محترمہ جیرالڈا ڈیسوبین، اور سری لنکا کی وزارتِ توانائی کے نائب وزیر، عزت مآب جناب محمداکرم الیاس بھی موجود تھے۔


https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image001_20261103163238_4f9810.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image002_20261103163248_e6caa9.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image003_20261103163258_ca2b3d.jpg

 

*****

) ش ح –ض ر-ق ر)

U.No-7158

 

 


(ریلیز آئی ڈی: 2332139) وزیٹر کاؤنٹر : 16