کامرس اور صنعت کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزیرتجارت و صنعت جناب پیوش گوئل کی نوجوانوں سے2047 تک  ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے سفر کی قیادت کرنے کی اپیل

 ہندوستان نے رواں سال کے لیے ایک کھرب ڈالر کی برآمدات کا پرعزم ہدف مقرر  اور اب تک 14 فیصدشرح نمو درج کی گئی ہے:جناب پیوش گوئل

 ہندوستان ایک قابل اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے، مختلف خطوں کے ممالک اس کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدوں اور آزاد تجارتی معاہدوں کے خواہش مند ہیں:جناب گوئل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 NOV 2026 2:09PM by PIB Delhi

مرکزی وزیرتجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے آج نئی دہلی کے کروڑی مل کالج میں منعقدہ ‘ینگ لیڈرز ڈسکورس فورم’ سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ بلند عزائم رکھیں، تبدیلی کو قبول کریں اور ملک کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 2047 تک ترقی یافتہ  ہندوستان کا ہدف حاصل کرنا ہر حال میں ضروری ہے اور آج کے نوجوان اس سنگ میل تک ملک کے سفر کے معمار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب  ہندوستان اپنی آزادی کی 100ویں سالگرہ منائے گا، اس وقت آج کے  اسٹوڈنٹس چالیس برس کی عمر کو پہنچ چکے ہوں گے۔ ان کے فیصلے، عزائم اور خدمات ہی ملک کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

 ہندوستان  کی برآمدات کی کارکردگی کو اجاگر کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ ملک نے گزشتہ سال 863 ارب امریکی ڈالر کی اب تک کی سب سے زیادہ برآمدات درج کیں۔ انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے رواں سال اپریل اور مئی میں اپنے تخمینوں کے دوران عالمی تجارت میں1.9 فیصد نمو کی پیش گوئی کی تھی، جبکہ  ہندوستان نے رواں سال کے لیے ایک کھرب امریکی ڈالر کی برآمدات کا پرعزم ہدف مقرر کیا، جو 16 فیصد نمو کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  ہندوستان گزشتہ سال کی برآمدات کے مقابلے میں5 فیصد اضافے کے ساتھ 900 ارب امریکی ڈالر کا ہدف بھی مقرر کر سکتا تھا، جو عالمی تجارت میں متوقع  شرح نمو کے پیش نظر بذات خود ایک بڑی کامیابی ہوتی۔ 900 ارب امریکی ڈالر کا یہ ہدف بھی عالمی تجارت میں متوقع نمو کی شرح سے دو گنا سے زیادہ ہوتا۔ تاہم،  ہندوستان نے اس سے بھی زیادہ پرعزم ایک کھرب امریکی ڈالر کا ہدف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ جناب گوئل نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ملک یہ سنگ میل حاصل کر لے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ (اپریل تا ستمبر) کے دوران ہی برآمدات میں14 فیصد اضافہ درج کیا جا چکا ہے اور یہ480 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ ہدف حاصل کرنے کے لیے باقی چھ ماہ میں520 ارب امریکی ڈالر کی برآمدات کرنا ہوں گی اور اکتوبر کا مہینہ بھی اچھا رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آئی ایم ایف نے حال ہی میں عالمی تجارت میں شرح نمو کے اپنے تخمینہ پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے بڑھا کر تقریباً3.5 فیصد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق،  ہندوستان کی برآمدات کی کارکردگی بھی اس نظرثانی کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

عالمی معیشت میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی حیثیت پر زور دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ ملک ایک کمزور ترین پانچ معیشتوں میں شمار ہونے کی صورت حال سے نکل کر دنیا کی سرکردہ معیشتوں میں شامل ہو چکا ہے اور بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  ہندوستان میں تقریباً50 کروڑ افراد انتہائی غربت سے باہر نکل آئے ہیں اور اپنی محنت کے ذریعے زندگی کو بہتر بنانے کی جانب گامزن ہیں۔

انہوں نے  ہندوستان کی ترقی کا سہرا کئی عوامل کو دیا، جن میں ملک کا باصلاحیت انسانی وسائل، نوجوان آبادی کی مہارتیں، جمہوری نظام، 30 سال سے کم اوسط عمر پر مشتمل نوجوان آبادی، فیصلہ کن قیادت اور 140 کروڑ  ہندوستانیوں کی جانب سے معیاری اشیا و خدمات کی طلب شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام خوبیاں اجتماعی طور پر ہندوستان  کی ترقی کے سفر کو رفتار فراہم کر رہی ہیں۔

جناب گوئل نے کہا کہ  ہندوستان نے دنیا کا اعتماد حاصل کیا ہے اور تقریباً ہر خطے کے ممالک اس کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدوں اور آزاد تجارتی معاہدوں کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  ہندوستان کو تیزی سے ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ملک کی نوجوان آبادی، صلاحیت، محنت کرنے کے جذبے اور عالمی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے عزم نے بین الاقوامی سطح پر اس کی حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔

مشکل وقت میں مختلف ممالک کے لیے  ہندوستان کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 وبا کے دوران  ہندوستان نے دنیا کو ویکسین فراہم کیں، جبکہ اپنے ہر شہری کے لیے مفت ٹیکہ کاری کو بھی یقینی بنایا۔ انہوں نے بحرانوں کے دوران ادویات کی فراہمی اور راحت و بازآبادکاری کی امداد کے ذریعے ہندوستان کے تعاون کو بھی اجاگر کیا، خواہ متعلقہ ممالک ترقی یافتہ ہوں یا کم ترقی یافتہ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں  ہندوستان کو جو پذیرائی اور احترام حاصل ہو رہا ہے، وہ اس اعتماد کا مظہر ہے جو ملک نے اپنے عملی اقدامات کے ذریعے قائم کیا ہے۔

جناب گوئل نے  اسٹوڈنٹس سے بلند عزائم اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے پوچھا کہ آیا وہ معمولی اہداف پر اکتفا کرنا پسند کریں گے یا بہتر مستقبل کے لیے بڑے خواب دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے لیے لوگوں کے سوچنے، کام کرنے اور زندگی گزارنے کے انداز میں تبدیلی لانا ضروری ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ خود کو مسلسل نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالتے رہیں، بدلتے ہوئے حالات کو قبول کرنے کے لیے تیار رہیں اور زندگی بھر علم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں۔

تعلیم و تربیت میں تعلیمی اداروں کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ کالج نہ صرف  اسٹ کی علمی تربیت کرتے ہیں بلکہ ان کے کردار، ثابت قدمی، خود اعتمادی اور محنت کرنے کے جذبے کو بھی پروان چڑھاتے ہیں۔ یہ ادارے نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں ان کے نقطۂ نظر کو تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ انہیں ملک کی تقدیر میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرتے ہیں۔ اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  اسٹوڈنٹس عموماً دوران تعلیم اپنے اسکول اور کالج کے زمانے کی اہمیت اور اس کے اثرات کو پوری طرح نہیں سمجھ پاتے۔ حقیقت کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ اساتذہ، تعلیمی ماحول اور ان ابتدائی برسوں میں حاصل ہونے والی مجموعی تربیت نے ان کی زندگی کو کس طرح سنوارا اور انہیں ذمہ دار شہری بننے کے لیے تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالآخر کامیابی انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔

انہوں نے  اسٹوڈنٹس کی زندگیوں اور مستقبل کی تشکیل میں اساتذہ کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی رہنمائی اور تعلیمی ماحول کے اثرات زندگی میں آگے بڑھنے کے ساتھ زیادہ نمایاں ہوتے جاتے ہیں۔

اپنے تعلیمی سفر کا ذکر کرتے ہوئے جناب گوئل نے قومی تعلیمی پالیسی کے تحت متعارف کرائی گئی لچکدار سہولتوں پر روشنی ڈالی، جن کے ذریعے اسٹوڈنٹس اپنے نصاب میں تبدیلی کر سکتے ہیں، اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے لیے کریڈٹ حاصل کر سکتے ہیں اور ایک شعبے سے دوسرے شعبے میں جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے  اسٹوڈنٹس خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایسے ماحول میں اپنے خواب پورے کرنے کے زیادہ مواقع حاصل ہیں، جہاں تعلیمی انتخاب میں پہلے سے کہیں زیادہ لچک موجود ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ آج کے  اسٹوڈنٹس خوش قسمت ہیں، کیونکہ ان کے سامنے مواقع کی وسیع تر دنیا موجود ہے اور وہ اپنی پسند کے پیشوں کو اختیار کر سکتے ہیں۔ تقریباً پورے ملک کے ڈجیٹل نظام سے منسلک ہو جانے اور 110 کروڑ انٹرنیٹ صارفین کی موجودگی کے باعث نوجوان دنیا سے جڑے ہوئے ہیں اور انہیں انٹرنیٹ پر علم اور تجربات کے ایک بڑے ذخیرے تک رسائی حاصل ہے۔ انہوں نے اسے  اسٹوڈنٹس کے لیے سیکھنے، اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور  ہندوستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کا ایک اہم موقع قرار دیا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر جناب گوئل نے روایات کو برقرار رکھنے اور اداروں میں نظم و ضبط قائم رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نظم و ضبط اور روایات کا احترام کسی بھی ادارے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ انہوں نے اسٹوڈنٹس کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی زندگی نظم و ضبط کے ساتھ گزاریں، اپنے سامنے ایک بڑا مقصد رکھیں اور کبھی خود اعتمادی یا حوصلہ نہ کھوئیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو لوگ حوصلے اور جرأت کا مظاہرہ کرتے ہیں، بالآخر کامیابی انہی کے قدم چومتی ہے۔

 

*****

ش ح-ظ الف- ت ع

UR No. 7145

 

 


(ریلیز آئی ڈی: 2332030) وزیٹر کاؤنٹر : 17