جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اکتوبر 2026 تک 5.5 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ سے زائد سبز ہائیڈروجن کی خریداری کے معاہدوں کے ساتھ ہندوستان عالمی سطح پر پیش پیش


ہندوستانی کمپنیوں نے 2026 میں 4 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ سے زائد سبز ہائیڈروجن کی خریداری کے لیے 18 نئے معاہدوں پر دستخط کیے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 OCT 2026 12:54PM by PIB Delhi
  • اکتوبر 2026 تک ہندوستانی کمپنیوں نے سبز ہائیڈروجن کی فراہمی کے لیے مجموعی طور پر 5.5 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ سے زائد کے خریداری معاہدے کیے ہیں، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ اس طرح ہندوستان سبز ہائیڈروجن کی فراہمی کے معاہدوں کے معاملے میں عالمی سطح پر سرفہرست ہے۔
  • سال 2026 میں ہندوستانی کمپنیوں نے سبز ہائیڈروجن کے مساوی مقدار کی 4 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ سے زائد فراہمی کے لیے 18 نئے معاہدوں پر دستخط کیے۔
  • 2023 میں قومی سبز ہائیڈروجن مشن کے آغاز سے اب تک، مجموعی طور پر 23 خریداری معاہدوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں، جن کے تحت سبز ہائیڈروجن کے مساوی تقریباً 5.5 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ کی فراہمی کی جائے گی۔ ان میں سے 70 فیصد سے زائد مقدار برآمدات کے لیے مختص ہے۔
  • ان سبز ہائیڈروجن منصوبوں سے تقریباً 90,000 کروڑ روپے (تقریباً 9.5 ارب امریکی ڈالر) کی مجموعی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
  • ہندوستانی فراہم کنندگان سبز امونیا اور سبز میتھانول دنیا میں سب سے زیادہ مسابقتی قیمتوں پر فراہم کر رہے ہیں، جس سے یورپی اور جاپانی منڈیوں میں ہندوستان کی نمایاں پوزیشن مزید مستحکم ہو رہی ہے۔
  • سبز امونیا عالمی بحری نقل و حمل کے شعبے میں جہازوں کو صاف ایندھن فراہم کرنے کے لیے ایک اہم متبادل کے طور پر ابھر رہا ہے، جبکہ سبز میتھانول بھی اس شعبے میں استعمال ہو رہا ہے۔
  • کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے لیے حرارتی بجلی گھروں میں امونیا کو دیگر ایندھن کے ساتھ ملا کر جلانے کے عمل میں بھی سبز امونیا استعمال کیا جا رہا ہے۔
  • دنیا بھر میں کھاد کی تیاری اور تیل صاف کرنے کے شعبوں میں سبز ہائیڈروجن سے تیار کردہ مصنوعات کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس سے صنعتی شعبے میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

اکتوبر 2026 تک ہندوستانی کمپنیوں کی جانب سے سبز ہائیڈروجن کی خریداری کے لیے حتمی اور دستخط شدہ معاہدوں کے تحت مجموعی مقدار 5,55,610 میٹرک ٹن سالانہ تک پہنچ گئی ہے۔ یہ قومی سبز ہائیڈروجن مشن کے ہدف کا تقریباً 11 فیصد ہے۔ اس طرح ہندوستان سبز ہائیڈروجن کے شعبے میں عالمی سطح پر قائدانہ مقام حاصل کر چکا ہے۔

ان جامع ملکی اور بین الاقوامی معاہدوں کو پورا کرنے کے لیے مجموعی طور پر 90,000 کروڑ روپے سے زائد (تقریباً 9.5 ارب امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261029125717_44d06e.png

قومی سبز ہائیڈروجن مشن کو کابینہ نے 2029-30 تک کے لیے 19,744 کروڑ روپے کے ابتدائی بجٹ کے ساتھ منظوری دی تھی۔ اس مشن کا مقصد 2030 تک سالانہ کم از کم 50 لاکھ میٹرک ٹن سبز ہائیڈروجن تیار کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، مشن کے متوقع نتائج میں قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت میں 125 گیگاواٹ کا اضافہ، 8 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی مجموعی سرمایہ کاری، 6 لاکھ سے زیادہ کل وقتی روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور سالانہ 5 کروڑ میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو روکنا شامل ہے۔

 

ہندوستانی اداروں نے دنیا کی بڑی منڈیوں میں اہم تزویراتی شراکت داریاں قائم کی ہیں اور سبز ہائیڈروجن کی خریداری کے لیے پابند معاہدے کیے ہیں۔ ان میں نمایاں معاہدے درج ذیل ہیں:

  1. ہندوستان کے اے سی ایم ای گروپ نے جاپان کی آئی ایچ آئی کمپنی کے ساتھ سالانہ 4,88,000 میٹرک ٹن سبز امونیا کی فراہمی کے لیے خریداری معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
  2. اے سی ایم ای گروپ نے جاپان کی مِتسوبشی گیس کیمیکل کمپنی کے ساتھ سالانہ 1,00,000 میٹرک ٹن سبز میتھانول کی فراہمی کے لیے بھی معاہدہ کیا ہے۔
  3. ایل اینڈ ٹی اور اٹّوچو نے سالانہ 3,00,000 ٹن سبز امونیا کی فراہمی کے لیے ایک خصوصی مقصد کی کمپنی قائم کی ہے۔ اس کی فراہمی دسمبر 2029 سے شروع ہونے کی توقع ہے۔
  4. ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ نے جنوبی کوریا کی سیمسنگ سی اینڈ ٹی کارپوریشن کے ساتھ طویل مدتی فراہمی اور خریداری کا معاہدہ کیا ہے، جس کی مالیت 3 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ معاہدہ دنیا بھر میں سبز امونیا کی فراہمی کے سب سے بڑے معاہدوں میں سے ایک ہے۔ اس معاہدے کے تحت فراہمی 2028 تک شروع ہونے کی توقع ہے۔
  5. اگستیا، سری لنکا کی ایس اے آر کمپنی کو سالانہ 2,50,000 میٹرک ٹن سبز میتھانول فراہم کرنے کے لیے خریداری معاہدے کے عمل میں ہے۔
  6. اے ایم گرین کو جرمنی کی کمپنی ہِنٹکو جی ایم بی ایچ کے زیرِ اہتمام ایچ 2 گلوبل نیلامی میں ایشیائی حصے کے لیے واحد کامیاب بولی دہندہ منتخب کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں جرمنی کو حیاتیاتی ذرائع کے بجائے قابلِ تجدید توانائی سے تیار کردہ ایندھن، یعنی آر ایف این بی او امونیا، فراہم کرنے کے لیے طویل مدتی خریداری کا معاہدہ حاصل ہوا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ہِنٹکو، اے ایم گرین سے 10 سال کے عرصے میں کم از کم 585 ملین یورو مالیت کا امونیا خریدے گی۔ جرمنی کو اس کی پہلی کھیپ 2029 میں پہنچنے کی توقع ہے۔
  7. اے ایم گرین نے جرمنی کی یونیپر کمپنی کے ساتھ سالانہ 2,50,000 میٹرک ٹن سبز امونیا کی فراہمی کے لیے ایک حتمی خریداری معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں۔
  8. اے ایم گرین نے جاپان کی بڑی بجلی پیدا کرنے والی کمپنی جیرا کے ساتھ سالانہ 70,000 میٹرک ٹن سبز امونیا کی طویل مدتی فراہمی کے لیے ایک پابند اصولی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
  9. جونو جولز نے سلیکٹ انرجی جی ایم بی ایچ کے ساتھ روزانہ 600 ٹن، یعنی سالانہ تقریباً 2,19,000 میٹرک ٹن سبز امونیا کی فراہمی کے لیے خریداری معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

برآمدات سے متعلق اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ، حکومت کے مخصوص منصوبوں کے تحت ملک میں سبز ہائیڈروجن کی خاطر خواہ طلب کو بھی یقینی بنایا گیا ہے:

  1. مشن کے تحت سبز ہائیڈروجن کی جانب منتقلی کے لیے تزویراتی اقدامات کے پروگرام کے تحت، ملک بھر میں واقع کھاد بنانے والے 11 کارخانوں کو سالانہ 6,70,000 میٹرک ٹن سبز امونیا تیار کرکے فراہم کرنے کے لیے معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔
  2. اسی پروگرام کے تحت انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ، بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ، ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ اور نُمَالی گڑھ ریفائنری لمیٹڈ کی تیل صاف کرنے والی تنصیبات کو سالانہ 30,000 میٹرک ٹن سبز ہائیڈروجن تیار کرکے فراہم کرنے کے لیے منصوبے بھی منظور کیے گئے ہیں۔

ٹوئٹ

 

 

***

 ش ح۔ ش ت۔ ج ا

U.No-6894


(ریلیز آئی ڈی: 2329965) وزیٹر کاؤنٹر : 17