امور داخلہ کی وزارت
مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ پنجاب آج منشیات، گینگسٹر ازم اور منظم جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نبرد آزما ہے
پنجاب حکومت کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر پنجاب کے عوام کی حفاظت کی ذمہ داری کون اٹھائے گا؟
دیر با میں ایک والد کا دباؤ کے باعث زہر کھا لینا اور مانسا میں منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والے پرویندر سنگھ جھوٹا کا دن دہاڑے قتل، پنجاب کی امن و قانون کی صورتِ حال پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے
پرویندر کے والد نے پنجاب حکومت اور اس کے رکنِ اسمبلی پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں، وزارتِ داخلہ بھی ان دونوں واقعات پر ریاستی حکومت سے جواب طلب کرے گی
پنجاب میں منشیات کا کاروبار پھل پھول رہا ہے، منظم جرائم کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی حفاظت پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں
منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اور مجرموں کو حاصل کسی بھی سیاسی سرپرستی کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں
ہمارا مقصد واضح ہے: منشیات کے خلاف سخت کارروائی، نوجوانوں کے مستقبل کا تحفظ، مجرموں کے خلاف سخت اقدامات اور خوف سے پاک پنجاب کی تعمیر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 OCT 2026 5:07PM by PIB Delhi
داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا ہے کہ پنجاب آج منشیات، گینگسٹر ازم اور منظم جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نبرد آزما ہےایکس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں مرکزی وزیر داخلہ و تعاون جناب امت شاہ نے کہا کہ پنجاب آج منشیات، گینگسٹر ازم اور منظم جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نبرد آزما ہے۔ پنجاب حکومت کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر پنجاب کے عوام کی حفاظت کی ذمہ داری کون نبھائے گا؟ دیر با میں ایک والد کا دباؤ کے باعث زہر کھا لینا اور مانسا میں منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والے پرویندر سنگھ جھوٹا کا دن دہاڑے قتل، پنجاب کی امن و امان کی صورتِ حال پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ پرویندر کے والد نے پنجاب حکومت اور اس کے رکنِ اسمبلی پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ وزارتِ داخلہ بھی ان دونوں واقعات پر پنجاب حکومت سے جواب طلب کرے گی۔ پنجاب میں منشیات کا کاروبار پھل پھول رہا ہے، منظم جرائم کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی حفاظت پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ جی، پنجاب کے عوام کو تشہیر نہیں بلکہ جواب، اعلانات نہیں بلکہ نتائج درکار ہیں۔ منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اور مجرموں کو حاصل کسی بھی سیاسی سرپرستی کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ہمارا مقصد واضح ہے: منشیات کے کاروبار کے خلاف سخت کارروائی، نوجوانوں کے مستقبل کا تحفظ، مجرموں کے خلاف سخت اقدامات اور قانون کی ایسی حکمرانی قائم کرنا، جس میں کسی بھی شہری کو خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
پنجاب آج منشیات، گینگسٹر ازم اور منظم جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نبرد آزما ہے۔ بھگونت مان حکومت کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر پنجاب کے عوام کی حفاظت کی ذمہ داری کون نبھائے گا؟ دیر با میں ایک والد کا دباؤ کے باعث زہر کھا لینا اور مانسا میں منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والے پرویندر سنگھ جھوٹا کا دن دہاڑے قتل، پنجاب کی امن و امان کی صورتِ حال پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ پرویندر کے والد نے عام آدمی پارٹی (اے اےپی) حکومت اور اس کے رکنِ اسمبلی پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ وزارتِ داخلہ بھی ان دونوں واقعات پر پنجاب حکومت سے جواب طلب کرے گی۔ پنجاب میں منشیات کا کاروبار پھل پھول رہا ہے، منظم جرائم کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی حفاظت پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ بھگونت مان جی، پنجاب کے عوام کو تشہیر نہیں بلکہ جواب، اعلانات نہیں بلکہ نتائج درکار ہیں۔ منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اور مجرموں کو حاصل کسی بھی سیاسی سرپرستی کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ میں آج پنجاب کے عوام کے سامنے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ پنجاب میں ہماری حکومت بننے پر ہم منشیات سے پاک، گینگسٹرز سے پاک اور محفوظ پنجاب کی تعمیر کے لیے پوری قوت سے کام کریں گے۔ ہمارا مقصد واضح ہے: منشیات کے کاروبار کے خلاف سخت کارروائی، نوجوانوں کے مستقبل کا تحفظ، مجرموں کے خلاف سخت اقدامات اور قانون کی ایسی حکمرانی قائم کرنا، جس میں کسی بھی شہری کو خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ش ب ن
U.NO.6220
(ریلیز آئی ڈی: 2324486)
وزیٹر کاؤنٹر : 4