وزیراعظم کا دفتر
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے لداخ میں 3,350 کروڑ روپے کے پانچ ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا3
آج لداخ میں کئی اہم ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا ہے۔ ان پروجیکٹوں سے سفر آسان ہوگا، بجلی کا بنیادی ڈھانچہ مستحکم ہوگا، پانی کی دستیابی میں اضافہ ہوگا اور ہمارے قدیم ورثے کے تحفظ کے عمل کو نئی رفتار ملے گی: وزیر اعظم
لداخ کی نوجوان نسل پر ہماری خصوصی توجہ ہے۔ یہاں کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم ملنی چاہیے، نئی ٹیکنالوجی سیکھنے کے مواقع دستیاب ہونے چاہئیں اور انہیں اس کے لیے دوسرے شہروں پر منحصر نہیں ہونا چاہیے۔ اسی لیے لیہ میں ایک بڑا مہارت کا مرکزِ قائم کیا جا رہا ہے: وزیر اعظم
کھیل کود سے متعلق نئی پالیسی کے ذریعے لداخ میں کھیلوں کے ہنر کو پروان چڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ہم مقامی نوجوانوں کو بہتر تربیت اور سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں، تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر نئی بلندیوں کو چھو سکیں: وزیر اعظم
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 OCT 2026 2:45PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے لداخ میں تقریباً 3,350 کروڑ روپے کی لاگت کے پانچ بڑے ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور انہیں قوم کے نام وقف کیا۔ ورچوئل وسیلے سے خطے کی ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کئی اہم پروجیکٹوں کا افتتاح کیا، جن کا مقصد سفر کو آسان بنانا، بجلی اور پانی کی دستیابی کو بہتر بنانا اور قدیم ورثے کو محفوظ رکھنا ہے۔ انہوں نے زنسکار میں تازہ برف باری کے درمیان ترنگا لہراتے ہوئے شہریوں کے جوش و خروش کا خاص طور پر ذکر کیا اور ان مشکل پروجیکٹوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے والے انجینئروں، مزدوروں، مقامی کارکنوں اور سرحدی سڑک تنظیم (بی آر او) کے اہلکاروں کا شکریہ ادا کیا۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’میں ان پروجیکٹوں کے لیے لداخ کے تمام لوگوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘
لیہ میں کشوک بکولا رنپوچے ہوائی اڈے کی ٹرمینل عمارت کا سنگِ بنیاد رکھنے کے موقع پر اپنے سابقہ دورے کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے 650 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ اس عمارت کا افتتاح کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ اس سے پروازوں کی گنجائش تین گنا ہو جائے گی اور سالانہ مسافروں کو خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت 10 لاکھ سے بڑھ کر 35 لاکھ ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ہندوستان کا پہلا ٹرمینل ہے جہاں موسم کے سخت حالات سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے شمسی توانائی کے استعمال کے ذریعے ارضیاتی حرارت سے گرم رکھنے کا نظام بھی نصب کیا گیا ہے۔ اس سے مقامی سیاحت کو فروغ ملے گا اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ ماحولیات کے تحفظ میں بھی توازن برقرار رہے گا۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’ہماری کوشش ہے کہ لداخ میں جدید بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جائے اور اس کے ساتھ مقامی ماحول کا بھی بھر پور خیال رکھا جائے۔‘‘
علاقائی فضائی رابطے کی اسٹریٹجک اور اقتصادی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے 2,500 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدپ نمّو۔پدم۔دارچہ سڑک کو عوام کے نام وقف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سڑک سے سفر کا وقت 12 گھنٹے سے کم ہو کر محض 3 گھنٹے رہ جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اہم راہداری نہ صرف مسافروں کا وقت بچائے گی بلکہ اس سے مقامی تجارت کو بھی نمایاں فروغ حاصل ہوگا۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’اس سڑک سے تجارت اور کاروبار کو بھی بہت فائدہ پہنچے گا۔‘‘
سری نگر۔لیہ بجلی ترسیل لائن کا پہلے افتتاح کرنے کے بعد وزیر اعظم نے ہانو پن بجلی پروجیکٹ اور اس سے متعلق ٹرانسمشن نیٹ ورک کو عوام کے نام وقف کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پوگا وادی میں بجلی پیدا کرنے کے لیے جاری جدید اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ قابلِ اعتماد بجلی دیہی زندگی میں تبدیلی لاتی ہے، کیونکہ اس سے گھروں میں روشنی پہنچتی ہے اور بچوں کی تعلیم، صحت خدمات اور چھوٹے کاروبار کو فروغ ملتا ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’اس سے ہر شعبے کو فائدہ پہنچے گا۔‘‘
بلند و بالاپہاڑی علاقوں میں زراعت کو مضبوط بنانے اور پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وزیر اعظم نے پروجیکٹ امرت ہِم سروور کے تحت تعمیر کیے گئے 40 نئے آبی ذخائر کو مقامی لوگوں کے نام وقف کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان آبی ذخائر کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ کاشت کاری کے اہم مراحل میں زرعی معیشت کو مدد فراہم کی جا سکے۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’یہ آبی ذخائر کسانوں کو ضرورت کے وقت سینچائی کے لیے پانی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔‘‘
وزیر اعظم نے 2019 میں لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بننے کے بعد بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں ہونے والی وسیع ترقی کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ سڑکوں کا نیٹ ورک 1,800 کلومیٹر سے بڑھ کر 4,000 کلومیٹر سے زیادہ ہو گیا ہے، بڑے پلوں کی تعداد 19 سے بڑھ کر تقریباً 75 ہو گئی ہے، ہیلی پیڈز کی تعداد 7 سے بڑھ کر 40 سے زیادہ ہو گئی ہے، نل کے ذریعے پانی کی فراہمی 3.5 فیصد کنبوں سے بڑھ کر تقریباً 99 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور اسپتالوں میں بستروں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیر تعمیر زوجیلا سرنگ سے ہر موسم میں ملک کے دیگر علاقوں سے رابطہ قائم ہو سکے گا۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’آج مرکزی حکومت کے لیے لداخ کی ترقی اولین ترجیح ہے۔‘‘
علاقے کی خوشحالی کے نئے امکانات پیدا کرنے کے لیے کی جانے والی مخصوص کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پورے خطے میں موسم سرما کی سیاحت اور مہم جوئی سیاحت کو سرگرمی سے فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے درخشاں گاوں پروگرام کے تحت سرحدی علاقوں کی 40 سے زیادہ گاؤں کو ترقی دی جا رہی ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’اس سے دور دراز کے گاؤں میں بھی روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔‘‘
مہمان نوازی اور جدید زراعت کے شعبے میں تیزی سے ہونے والی توسیع کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ مقامی سطح پر گھروں میں قیام کی تعداد تقریباً 150 سے بڑھ کر 3,000 ہو گئی ہے۔ انہوں نے محفوظ کاشت کاری کو مسلسل فروغ دیے جانے کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں پورے خطے میں 11,000 گرین ہاؤس فعال ہو چکے ہیں۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’اس سے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔‘‘
عدالت کی سہولتوں تک آسان رسائی کے لیے خطے کی دیرینہ مانگ کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ حکومت نے رواں سال اگست میں لداخ کے لیے ہائی کورٹ کی ایک بنچ قائم کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم ادارہ جاتی ضرورت کو پورا کرنے سے انتظامی امور اور شہریوں کو قانونی چارہ جوئی کی سہولت فراہم کرنے کے عمل کو مزید آسان بنایا جا سکے گا۔ جناب مودی نے کہا کہ ، ’’اس سے انتظامیہ کے ساتھ ساتھ عدالتی نظام تک رسائی بھی آسان ہو جائے گی۔‘‘
ہوٹلوں، ریستورانوں، گھروں میں قیام اور مقامی دست کاری کے شعبوں میں جدید کاروبار کو فروغ دینے کے لیے ڈیجیٹل کنیکٹویٹی کے رول پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ خطے کے دور دراز علاقوں میں بھارت نیٹ اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولتوں کو وسعت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای۔گورننس، نوجوانوں کے لیے آن لائن تعلیم اور مقامی کاروباری افراد کو عالمی بازاروں سے جوڑنے کے لیے بلا رکاوٹ انٹرنیٹ کی سہولت یقینی بنانے کی مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’آج آن لائن کاروبار آمدنی کے نئے راستے کھول رہا ہے۔‘‘
نوجوان نسل کو تعلیم کے ذریعے بااختیار بنانے اور انہیں تعلیم کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنے سے روکنے کو ترجیح دیتے ہوئے وزیر اعظم نے لیہ میں ایک بڑے مہارت کے مرکز کی تعمیر کا ذکر کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے آئی آئی ٹی جموں اور آئی آئی ایم جموں کے ذیلی کیمپس قائم کرنے کی تجاویز پر پیش رفت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان ممتاز اداروں کے ذریعے مقامی طلبہ کو اپنے ہی علاقے میں جدید تحقیق اور نئی ٹیکنالوجی سے متعلق ہنر حاصل کرنے کے مواقع فراہم ہوں گے۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’لداخ کے نوجوانوں کو اپنے ہی علاقے میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور نئے ہنر سیکھنے کے بہتر مواقع مل سکیں گے۔‘‘
مقامی نوجوانوں کی آئس ہاکی، سرمائی کھیلوں اور کوہ پیمائی میں نمایاں شناخت کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعظم نے علاقائی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے لداخ کی کھیل کود کی نئی پالیسی کے نفاذ کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے مقامی کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھانے کے قابل بنانے کے لیے عالمی معیار کی تربیتی سہولتیں فراہم کرنے کے انتظامیہ کے عزم کا اعادہ کیا۔ جناب مودی نے کہاکہ ’’ہم مقامی نوجوانوں کو بہتر تربیت اور سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں، تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر نئی بلندیوں کو چھو سکیں۔‘‘
مقامی دستکاروں اور کسانوں کے غیر معمولی ہنر کی تعریف کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ وہ اکثر تحفے میں لداخ کی مصنوعات دیتے ہیں۔ وہ یہ مصنوعات تحفے کے طور پر جرمنی کے چانسلر، سویڈن کے وزیر اعظم اور کرغزستان کے صدر کو بھی پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے سی بک تھورن، دست کاری کی مصنوعات، جغرافیائی شناختی نشان والی خوبانیوں، بلند پہاڑی علاقوں میں تجارت کے لیے پھولوں کی کاشت اور چانگپا برادری کی تیار کردہ روایتی پشمینہ کی وسیع تجارتی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت پشمینہ کی عالمی شناخت کو مضبوط بنانے اور علاقائی مصنوعات کی تشہیر و برانڈنگ کے ذریعے ان کے بازاروں کو وسعت دینے کے لیے سرگرمی سے کام کر رہی ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’ہماری کوشش ہے کہ یہاں کی مصنوعات کو نئی منڈیاں ملیں، ان کی بہتر برانڈنگ ہو اور ان کے فوائد براہِ راست پیداوار کرنے والوں تک پہنچیں!‘‘
قدیم مٹھ، بدھ مت کی روایات اور قابلِ احترام کشوک بکولا رنپوچے سے متاثر تہواروں کے انمول ثقافتی ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے تاریخی پتھروں کے نقوش کو محفوظ رکھنے کے لیے لیہ میں ہندوستان کے پہلے پتھروں کے نقوش کے تحفظ کے پارک کا افتتاح کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ورثے کو محفوظ رکھنے سے آنے والی نسلوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کو بھی خطے کی قدیم تاریخ سے گہرا تعلق قائم کرنے کا موقع فراہم ہو گا۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’ملک اور دنیا بھر سے آنے والے لوگ بھی لداخ کی مالا مال تاریخ اور ورثے سے واقف ہوں گے۔‘‘
خطے کے مستقبل کے بارے میں مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس یقین کا اعادہ کیا کہ اجتماعی کوششوں سے لداخ کو ترقی کی بے مثال بلندیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نئے شروع کیے گئے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں پر شہریوں کو مبارکباد پیش کی اور روایتی انداز میں ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’ہم سب مل کر لداخ کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔‘‘
****
ش ح۔ م ع۔ خ م
U.NO.6144
(ریلیز آئی ڈی: 2323856)
وزیٹر کاؤنٹر : 21
یہ ریلیز پڑھیں:
Telugu
,
English
,
Marathi
,
हिन्दी
,
Bengali
,
Bengali-TR
,
Assamese
,
Gujarati
,
Tamil
,
Kannada
,
Malayalam