نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدرجمہوریہ نے کماراکون-2026 کا افتتاح کیا اور آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید کے ڈیجیٹل اقدامات کا آغاز کیا
آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید کو ایمس کے برابر ترقی دینے کے وزیر اعظم کے وژن کو عملی شکل دی جا رہی ہے‘‘: نائب صدر
روایتی طریقۂ علاج کو عالمی سطح پر قبولیت دلانے کے لیے تحقیق کے ذریعے ان کی سائنسی بنیاد قائم کرنا ضروری ہے: نائب صدر
صحت کی بہتر نگہداشت کے نتائج کے لیے روایتی علم کو سائنسی تحقیق کے ساتھ مربوط کیا جائے: نائب صدر
بھارت کی طبی نگہداشت کی ترجیحات میں بچوں کی صحت کو مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے‘‘: نائب صدر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 OCT 2026 2:01PM by PIB Delhi
بھارت کے نائب صدرجمہوریہ جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے آج روایتی طریقۂ علاج کی افادیت ثابت کرنے، مریضوں کے اعتماد کو مضبوط بنانے اور بھارت کے روایتی طریقۂ علاج کو عالمی سطح پر زیادہ قبولیت دلانے کے لیے آیوروید کے شعبے میں وسیع تر سائنسی تحقیق پر زور دیا۔ وہ نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید (اے آئی آئی اے) کے زیر اہتمام منعقدہ کمارابھرتیہ سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کے تیسرے ایڈیشن، کماراکون-2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید کو ایمس کے ہم پلہ ترقی دینے کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ ادارہ اس وژن کو حقیقت میں بدلنے کی سمت آگے بڑھ رہا ہے۔ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید کو یومِ تاسیس کی دسویں سالگرہ پر مبارک باد دیتے ہوئے انہوں نے ادارے کی ساکھ کو مزید مستحکم بنانے کے لیے تحقیق، اختراع اور تعلیمی معیار میں برتری کے سلسلے میں مسلسل کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔
نائب صدر نے کہا کہ بھارت کے روایتی طریقۂ علاج اس کی تہذیبی دانش اور صدیوں پرانی علمی روایات پر مبنی ایک قیمتی ورثے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے 2014 میں آیوش کی علیحدہ وزارت کے قیام اور تعلیم کو مضبوط بنانے، صحت کی خدمات کو وسعت دینے اور سائنسی تحقیق کو فروغ دینے کے لیے اس کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے آیوش کی وزارت اور آئی سی ایم آر، سی ایس آئی آر، ڈی بی ٹی، ڈی ایس ٹی اور ایمس جیسے اداروں کے درمیان مختلف شعبوں پر مشتمل اشتراک کا بھی ذکر کیا۔
بڑے طبی اداروں میں آیوش خدمات کو شامل کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات روایتی طریقۂ علاج اور جدید طبی نگہداشت کے درمیان تبادلۂ خیال اور اشتراک کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے یوگ کو بین الاقوامی سطح پر حاصل ہونے والی شناخت اور جام نگر میں عالمی ادارۂ صحت کے عالمی مرکز برائے روایتی طب کے قیام کو بھارت کے روایتی علم کو دنیا کے ساتھ بانٹنے کی سمت اہم سنگ میل قرار دیا۔
بچوں کی صحت کی نگہداشت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ کانفرنس کا موضوع ’’بچوں کی صحت کے مستقبل کی تشکیل: کمارابھرتیہ میں عالمی نقطۂ نظر، تحقیقی اختراعات اور طبی پیش رفت‘‘ اس مشترکہ ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے کہ ہر بچے کی پرورش صحت مند اور سازگار ماحول میں ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی غذائیت، نشوونما، جسمانی و ذہنی ترقی، بیماریوں سے بچاؤ اور جذباتی صحت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
نائب صدر نے کہا کہ 2047 تک وکست بھارت کی تعمیر کے لیے بچوں کی صحت اور انسانی وسائل کے معیار پر مسلسل توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے تحقیق کاروں اور طبی معالجین سے اپیل کی کہ وہ روایتی دانش کو محفوظ رکھیں، سائنسی توثیق کے ذریعے اسے مزید مستحکم بنائیں اور اپنی کوششوں میں بچوں کی صحت کو مرکزی حیثیت دیں۔
اس تقریب کے دوران نائب صدر نے آیوش اسٹارٹ اَپ پورٹل، اے آئی آئی اے–آئی کین ویب سائٹ اور آیوروید ڈیجیٹل اختراعی و کاروباری ترقی کی سہولت (آیودیوا) کا افتتاح کیا۔ انہوں نے وامن ایپ اور پنچ کرم جائزہ ایپ بھی شروع کی۔ اس موقع پر مہارشی انٹرنیشنل یونیورسٹی (ایم آئی یو)، امریکہ اور نئی دہلی کے اے آئی آئی اے کے درمیان بین الاقوامی مفاہمت نامے کا تبادلہ بھی کیا گیا۔
اس سے قبل نائب صدر نے اے آئی آئی اے کے اسپتال کی سہولتوں اور دھنونتری واٹیکا کا دورہ کیا، جہاں انہیں صحتِ عامہ کے شعبے میں ادارے کی خدمات اور واٹیکا میں نمائش کے لیے رکھے گئے مختلف دواؤں کے پودوں، جڑی بوٹیوں اور چٹانوں کی آیورویدک اہمیت کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔
اس تقریب میں آیوش اور صحت و خاندانی بہبود کے وزیر مملکت جناب پرتاپ راؤ جادھو، آیوش کی وزارت کے سکریٹری جناب ویدیہ راجیش کوٹیکا، قومی کمیشن برائے بھارتی نظامِ طب کی چیئرپرسن ڈاکٹر منیشا اپیندر، نئی دہلی کے اے آئی آئی اے کے ڈائریکٹر پروفیسر پی۔ کے۔ پرجاپتی کے علاوہ دیگر معزز شخصیات، محققین، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔
****
ش ح۔ک ح ۔ ت ع
U. N-6140
(ریلیز آئی ڈی: 2323854)
وزیٹر کاؤنٹر : 9