وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی ماہی پروری کے سکریٹری ڈاکٹر ابھیلاش لیکھی نے منڈپم میں سمندری کائی کی کاشت کے مقام کا دورہ کیا؛ کاشت کاروں، خود امدادی گروپوں اور سائنس دانوں سے بات چیت کی


ڈاکٹر ابھیلاش لیکھی نے سمندری کائی کی کاشت کے ذریعے ٹیکنالوجی اپنانے، قدر میں اضافے اور پائیدار ذریعۂ معاش کو فروغ دینے پر زور دیا۔

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 OCT 2026 4:06PM by PIB Delhi

ہندوستانی حکومت کی ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے ماہی پروری کے محکمے کے سکریٹری ڈاکٹر ابھیلاش لیکھی نے تمل ناڈو کے منڈپم کیمپ کے علاقے منائیکاڈو میں سمندری کائی کی کاشت کے مقام کا دورہ کیا اور خود امدادی گروپوں سے وابستہ سمندری کائی کے کاشت کاروں سے بات چیت کی۔ یہ دورہ ملک میں سمندری کائی کی کاشت کو فروغ دینے، ساحلی علاقوں میں لوگوں کے ذریعۂ معاش کو مضبوط بنانے اور سمندری کائی کی مجموعی ویلیو چین کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے محکمے کی کوششوں کے تحت کیا گیا۔

اس سے ایک روز قبل ڈاکٹر لیکھی نے تمل ناڈو کے منڈپم میں واقع آئی سی اے آر-سی ایم ایف آر آئی کے علاقائی مرکز میں سمندری کائی کی کاشت سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کی تھی۔ اس اجلاس میں سمندری کائی کی کاشت کے اقدامات میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور اس شعبے میں پیداوار بڑھانے، قدر میں اضافے اور منڈیوں سے روابط مضبوط بنانے کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

بات چیت کے دوران کاشت کاروں نے تمل ناڈو میں رائج کاشت کے مختلف طریقوں، جن میں مونو لائن اور رافٹ پر مبنی طریقہ شامل ہیں، کے بارے میں بتایا اور کاشت، دیکھ بھال اور فصل کی کٹائی کے مختلف مراحل کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ سکریٹری نے سمندری کائی کی کاشت کے ذریعے پائیدار ذریعۂ معاش کے مواقع پیدا کرنے میں خواتین کی قیادت والے خود امدادی گروپوں کے تعاون کو سراہا اور ان کے اراکین کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ پیداوار میں اضافہ کریں، زیادہ سے زیادہ کاشت کاروں کو منظم کاشت کے دائرے میں لائیں اور پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) اور پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا (پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی) سمیت حکومت کی مختلف اسکیموں سے فائدہ اٹھائیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261013163311_38961c.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261013163318_36cd02.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261013163326_ffa30a.jpg

اس سے قبل مرکزی سکریٹری نے منڈپم میں آئی سی اے آر-سی ایم ایف آر آئی کے علاقائی مرکز میں سمندری کائی کی کاشت سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کی، جس میں ساحلی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، تحقیقی اداروں، تکنیکی ایجنسیوں اور ملک بھر سے سمندری کائی کے شعبے سے وابستہ متعلقہ فریقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ انہوں نے ہندوستان میں سمندری کائی کی کاشت کے وسیع امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی 11,099 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی اس شعبے کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے کے لیے سازگار حالات فراہم کرتی ہے۔ تحقیقی اداروں نے ساحلی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سمندری کائی کی کاشت کے لیے 24,707 ہیکٹر رقبے پر پھیلے 384 موزوں مقامات کی نشاندہی کی ہے۔

سکریٹری نے بتایا کہ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ماہی گیروں اور ساحلی برادریوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے سمندری کائی کی کاشت کو ترجیحی سرگرمی کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ 2020 سے 2027 کے دوران سمندری کائی کی ترقی کے لیے 181.11 کروڑ روپے کے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے، جن میں تمل ناڈو میں سمندری کائی پارک کا قیام بھی شامل ہے۔ سمندری کائی کی کاشت کے لیے 37,255 رافٹس اور 44,080 مونو لائن یونٹس نصب کرنے کے لیے مالی امداد فراہم کی گئی ہے، اس کے علاوہ بیج بینکوں، بیداری پیدا کرنے، تربیت اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے لیے بھی تعاون فراہم کیا گیا ہے۔

اجلاس میں ڈاکٹر سوربھی رائے، جوائنٹ سکریٹری (سمندری ماہی پروری)؛ محترمہ گنجن کرشنا، جوائنٹ سکریٹری (اندرونِ ملک ماہی پروری)، ماہی پروری کا محکمہ، حکومت ہند؛ ڈاکٹر جے کے جینا، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (ماہی پروری سائنس)، آئی سی اے آر؛ ڈاکٹر بیجے کمار بہیرا، چیف ایگزیکٹیو، نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی)؛ نیز حکومت ہند کے ماہی پروری کے محکمے اور ریاستی ماہی پروری کے محکموں کے افسران نے ہائبرڈ طریقے سے شرکت کی۔

سمندری کائی کے شعبے کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے اہم ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان میں سمندری کائی کی ترقی کے لیے شناخت شدہ عملی اقدامات پر عمل درآمد، مختلف اداروں کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانا، مقامی سطح پر بیج بینک قائم کرنا، پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت معاونت یافتہ منصوبوں پر عمل درآمد میں درپیش مشکلات کو دور کرنا، کاروباری سرگرمیوں اور منڈیوں سے روابط کو فروغ دینا، سمندر میں ساحل سے دور سمندری کائی کی کاشت کو ممکن بنانا، کاشت کاروں تک رسائی اور ان کی صلاحیت سازی کو بہتر بنانا، اور تمل ناڈو سی ویڈ پارک کو جلد فعال بنانا شامل رہا۔ اجلاس میں خوراک، جانوروں کے چارے، کھاد اور دیگر قدر افزا مصنوعات میں سمندری کائی کے استعمال کو وسعت دینے کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ، اس شعبے کی پائیدار اور ہمہ گیر ترقی کے لیے طویل مدتی لائحۂ عمل تیار کرنے پر بھی گفتگو ہوئی۔

پس منظر

ہندوستان کی نیلی معیشت سے متعلق اقدامات کے تحت سمندری کائی کی کاشت کو ترجیحی شعبے کی حیثیت حاصل ہوئی ہے، کیونکہ اس میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ساحلی برادریوں کی ترقی اور سمندری وسائل پر مبنی حیاتیاتی معیشت کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی صلاحیت موجود ہے۔ ہندوستان میں سمندری کائی کی پیداوار 2015 میں 18,890 ٹن تھی، جو بڑھ کر 2024 میں 74,083 ٹن اور 2025 میں 82,728 ٹن ہو گئی۔

ماہی پروری کے محکمے نے مجموعی ویلیو چین کو مضبوط بنانے، مسابقت کو بہتر بنانے اور برآمدات کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کلسٹر پر مبنی طریقۂ کار اپنایا ہے اور ملک بھر میں ماہی پروری کی پیداوار اور پروسیسنگ کے 34 کلسٹروں کو باضابطہ طور پر نوٹیفائی کیا ہے۔ ان اقدامات کے تحت لکشدیپ کو سمندری کائی کے کلسٹر کے طور پر نوٹیفائی کیا گیا ہے، جبکہ آئی سی اے آر-سی ایم ایف آر آئی کے منڈپم علاقائی مرکز کو سمندری کائی کی ترقی اور تحقیق کے لیے مرکزِ امتیاز قرار دیا گیا ہے۔ اس شعبے کی مربوط ترقی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے سمندری کائی کی ترقی سے متعلق بین الوزارتی کمیٹی (آئی ایم سی) اور تکنیکی مشاورتی کمیٹی (ٹی اے سی) جیسے ادارہ جاتی نظام بھی قائم کیے گئے ہیں۔

***

ش ح۔‌ض ر۔ اش ق

U. No-6001


(ریلیز آئی ڈی: 2322842) وزیٹر کاؤنٹر : 10