زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
ناسازگار موسمی حالات کے باوجود سویابین کی بہتر اقسام این آر سی دوسو 68 اور این آر سی دو سو 70 سے فی ہیکٹر 20 کوئنٹل پیداوار کی امید
پیداوار میں مستقبل میں اضافے کا اندازہ لگانے کے لیے پیداوار کے اعداد و شمار مرتب کیے جا رہے ہیں: ڈاکٹر ایم ایل جٹ
آئی سی اے آر – قومی سویابین تحقیقی ادارہ، اندور نے سویابین کی کٹائی کا دن منایا؛ پیداوار میں اضافے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے پیداوار کے اعداد و شمار کا سائنسی تجزیہ کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 OCT 2026 3:12PM by PIB Delhi
بھارتی زرعی تحقیق کونسل (آئی سی اے آر) کے تحت اندور میں واقع آئی سی اے آر کے قومی سویابین تحقیقی ادارے نے 9 اکتوبر 2026 کو سویابین کی کٹائی کا دن منایا۔ اس موقع پر ادارے کی تیار کردہ سویابین کی بہتر اقسام این آر سی 268 اور این آر سی 270 کی پیداواری صلاحیت کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں اقسام کے تحت ایک ایک ایکڑ زمین میں فصل کی کٹائی کے بعد حاصل ہونے والے ابتدائی اعداد و شمار سے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق فی ہیکٹر تقریباً 20 کوئنٹل پیداوار متوقع ہے۔ یہ جائزہ ناموافق موسمی حالات میں بہتر اقسام کی کارکردگی کو سمجھنے اور ملک میں سویابین کی پیداوار بڑھانے کے امکانات کا اندازہ لگانے کے لیے اہم ہے۔ فی الحال ہندوستان میں سویابین کی اوسط پیداوار تقریباً 10 سے 11 کوئنٹل فی ہیکٹر ہے۔

آئی سی اے آر کے قومی سویابین تحقیقی ادارے اور سویابین سے متعلق کل ہند مربوط تحقیقی منصوبے کے تحت ملک بھر میں کی گئی تحقیق اور تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہتر اقسام اور پیداوار کی مناسب تکنیکیں اپنا کر فی ہیکٹر 15 سے 20 کوئنٹل پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ سازگار حالات میں یہ پیداوار بڑھ کر تقریباً 22 سے 25 کوئنٹل فی ہیکٹر تک پہنچ سکتی ہے۔
ان ابتدائی نتائج کو سراہتے ہوئے، محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای) کے سکریٹری اور بھارتی زرعی تحقیق کونسل (آئی سی اے آر) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ایل جٹ نے کہا کہ ملک میں سویابین کی پیداوار بڑھانے میں بہتر اقسام اور سائنسی طریقوں سے کاشت کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ناموافق موسمی حالات کے باوجود این آر سی دوسو 68 اور این آر سی دوسو 70 اقسام سے فی ہیکٹر تقریباً 20 کوئنٹل پیداوار کے اشارے انتہائی حوصلہ افزا ہیں۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ ان اعداد و شمار کا سائنسی تجزیہ سویابین کی پیداوار بڑھانے کے مقصد سے مستقبل کی تحقیقی حکمت عملی وضع کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

اندور میں واقع آئی سی اے آر کے قومی سویابین تحقیقی ادارے کے ڈائریکٹر نے کہا کہ سویابین کی کٹائی کے دن جمع کیے گئے اعداد و شمار کی اہمیت صرف ایک سال کی پیداوار کا جائزہ لینے تک محدود نہیں ہے۔ کئی برسوں کے دوران اعداد و شمار کو منظم طریقے سے جمع کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے سے مختلف علاقوں، اقسام اور پیداواری حالات میں پیداوار کی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اس سے پیداوار میں سالانہ بہتری کا جائزہ لینے اور مستقبل میں پیداوار بڑھانے کے امکانات کا اندازہ لگانے کے لیے سائنسی بنیاد فراہم ہوگی۔ طویل مدتی اعداد و شمار تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترسیل سے متعلق کوششوں کی مؤثریت کا جائزہ لینے میں بھی مفید ثابت ہوں گے۔

یہ ادارہ سویابین کی مختلف اقسام کی حقیقی پیداواری صلاحیت کا جائزہ لینے، بہتر تکنیکوں کے اثرات کو سمجھنے اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام اور سائنسی طریقوں سے کاشت کے بارے میں کسانوں تک معلومات پہنچانے کے لیے باقاعدگی سے اس طرح کی تقریبات منعقد کرتا ہے۔ اس اقدام سے سویابین کی تحقیق، زرعی توسیعی خدمات اور سائنسی معلومات کو کسانوں تک پہنچانے کے عمل کے درمیان تال میل کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

سویابین کی کٹائی کے دن کا بنیادی مقصد بہتر اقسام کی پیداواری صلاحیت کا جائزہ لینا اور پیداوار کے اعداد و شمار کو منظم طریقے سے جمع کرکے پیداوار میں اضافے کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کرنا تھا۔ کٹائی سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا مزید تجزیہ کیا جائے گا، تاکہ مختلف اقسام کی کارکردگی اور پیداوار کے مختلف حالات کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
******
ش ح ۔ ا ع خ ۔ م ا
UR No-5096
(ریلیز آئی ڈی: 2322789)
وزیٹر کاؤنٹر : 7