ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی نے زمینی سطح پر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور مقامی برادریوں کی فلاح و بہبود کے لئے بیج کے شعبہ سے حاصل ہونے والی حیاتیاتی تنوع تک رسائی اور منافع کی شراکت داری کے تحت 2.02 کروڑ روپے تقسیم کیے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 OCT 2026 7:18PM by PIB Delhi
قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی نے ملک کی 27ریاستوں اور 3 مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 2.02 کروڑ روپے تقسیم کیے ہیں۔ یہ رقم حیاتیاتی وسائل کے استعمال کے عوض بیج کے شعبہ کی کمپنیوں سے حاصل ہونے والی رسائی اور منافع کی شراکت داری کی رقم میں سے متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے حصہ کے طور پر دی گئی ہے۔ اس کا مقصد حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، حیاتیاتی وسائل کا پائیدار استعمال اور مقامی برادریوں کے ذریعۂ معاش کو مضبوط بنانا ہے۔
چاول، بینگن، پھول گوبھی، کھیرا، لال مرچ، لوکی، کریلا، ٹماٹر اور بھنڈی سمیت زرعی حیاتیاتی وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والی رسائی اور منافع کی شراکت داری کی رقم میں ان کی متعدد اقسام اور ہائبرڈ اقسام شامل ہیں۔ یہ رقم ایسٹ ویسٹ سیڈز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، سنجینٹا انڈیا لمیٹڈ، دیوگین سیڈز اینڈ کراپ ٹیکنالوجی پرائیویٹ لمیٹڈ، لِمَگرین انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، بائر سائنس اینڈ انوویشن پرائیویٹ لمیٹڈ، نون ہیمز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ اور اینزا زیڈن انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ سے حاصل ہوئی ہے۔
جن معاملات میں بازاروں یا تاجروں کے ذریعے حاصل کیے گئے حیاتیاتی وسائل کے انفرادی مستحقین کی شناخت ممکن نہیں تھی، وہاں قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی نے ماہرین کی کمیٹی کی سفارشات اور اتھارٹی کی منظوری سے طے شدہ تقسیم کے طریق کار کو اپنایا۔ اس کے مطابق، مستحقین کے حصے کی رقم متعلقہ ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حیاتیاتی تنوع کونسلوں کے درمیان تقسیم کی گئی۔ اس تقسیم کی بنیاد متعلقہ حیاتیاتی وسائل کے زیرکاشت رقبے کو بنایا گیا، جس کی تفصیلات زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت کے شائع کردہ زرعی اعداد و شمار میں درج ہیں۔ 27 ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز اور 3 مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حیاتیاتی تنوع کونسلوں کو تقسیم کی گئی مجموعی 2.02 کروڑ روپے کی رقم میں سے 1.43 کروڑ روپے ملک کی 10 سرفہرست ریاستوں کو دیے گئے۔
|
نمبرشمار
|
ریاست
|
رقم (روپے میں)
|
|
1
|
مدھیہ پردیش
|
23,81,072.00
|
|
2
|
مغربی بنگال
|
23,32,913.00
|
|
3
|
اوڈیشہ
|
19,75,559.00
|
|
4
|
بہار
|
17,28,852.00
|
|
5
|
گجرات
|
13,29,870.00
|
|
6
|
چھتیس گڑھ
|
11,37,521.00
|
|
7
|
اتر پردیش
|
9,80,038.00
|
|
8
|
آندھرا پردیش
|
9,34,864.00
|
|
9
|
کرناٹک
|
7,87,392.00
|
|
10
|
مہاراشٹر
|
7,16,971.00
|
|
11
|
دوسرے
|
58,94,948.00
|
|
مجموعی
|
2,02,00,000.00
|
اس اعلامیہ کے ساتھ قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی کی جانب سے رسائی اور منافع کی شراکت داری کے تحت تقسیم کی جانے والی مجموعی رقم 202.00 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ حیاتیاتی وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ تقسیم اور ان فوائد کو دوبارہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور برادریوں کی فلاح و بہبود پر صرف کرنے کے ہندوستان کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
رسائی اور منافع کی شراکت داری کا طریق کار مالی وسائل جمع کرنے اور انہیں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، وسائل کے پائیدار استعمال اور مقامی ترقی کے لیے بروئے کار لانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حیاتیاتی تنوع کونسلوں کو دی جانے والی رقوم سے مختلف اقدامات میں مدد ملتی ہے۔ ان میں حیاتیاتی تنوع کے انتظام سے متعلق کمیٹیوں کو مضبوط بنانا، عوامی حیاتیاتی تنوع کے رجسٹروں کو اپ ڈیٹ کرنا، فصلوں کی روایتی اقسام اور دواؤں میں استعمال ہونے والے پودوں کا تحفظ، قدرتی مساکن کی بحالی اور زمینی سطح پر حیاتیاتی وسائل کے پائیدار انتظام کو فروغ دینا شامل ہیں۔ ان اقدامات سے اداروں کی صلاحیت مزید مضبوط ہو سکتی ہے اور حیاتیاتی تنوع کے نظم و نسق میں کسانوں، مقامی برادریوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی شرکت بھی بڑھ سکتی ہے۔
رسائی اور منافع کی شراکت داری کے تحت فراہم کی جانے والی رقوم سے چلنے والی سرگرمیاں حکومت کی متعلقہ اسکیموں اور پروگراموں کی تکمیل کر سکتی ہیں، بالخصوص وہ پروگرام جو قبائلیوں کی فلاح و بہبود، پائیدار ذریعۂ معاش اور قدرتی وسائل پر مبنی کاروبار کو فروغ دیتے ہیں۔ ان میں پردھان منتری جن جاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان (پی ایم جن من)، پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن اور پردھان منتری ون دھن یوجنا شامل ہیں۔ ان پروگراموں میں باہمی تال میل سے برادریوں کی قیادت میں تحفظ ماحول، حیاتیاتی وسائل کے پائیدار استعمال اور ذریعۂ معاش کے مواقع کو فروغ دیا جا سکتا ہے، جبکہ پہلے سے موجود ادارہ جاتی نظام سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
ہندوستان کا رسائی اور منافع کی شراکت داری کا نظام حیاتیاتی تنوع ایکٹ- 2002اور قومی حیاتیاتی تنوع حکمتِ عملی و عملی منصوبہ(این بی ایس اے پی) 2024–2030 پر عمل درآمد میں معاون ہے۔ یہ کونمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک کے ہدف 13 کی تکمیل میں مدد دیتا ہے، جس کا تعلق جینیاتی وسائل اور ان سے وابستہ روایتی معلومات کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ تقسیم سے ہے۔ اس کے علاوہ، یہ وسائل متحرک کرنے سے متعلق ہدف 19 کی تکمیل میں بھی معاون ہے۔ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، وسائل کے پائیدار استعمال، ذریعۂ معاش کی معاونت اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے یہ نظام پائیدار ترقی کے متعدد متعلقہ اہداف میں بھی تعاون کرتا ہے۔ ان میں ہدف 2(بھوک کا خاتمہ)، ہدف 8 (باوقار روزگار اور معاشی ترقی، ہدف 12 (ذمہ دارانہ کھپت اور پیداوار، ہدف 15(خشکی پر زندگی)اور ہدف 17 (اہداف کے حصول کے لیے شراکت داری) شامل ہیں۔
ہندوستان حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن کے فریقین کی کانفرنس کے 17ویں اجلاس (سی او پی 17)میں شرکت کی تیاری کر رہا ہے، جس کا آغاز مورخہ 19 اکتوبر 2026 کو آرمینیا کے شہر یریون میں ہوگا۔ اس موقع پر ہندوستان کا رسائی اور منافع کی شراکت داری کا نظام حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، حیاتیاتی وسائل کے پائیدار استعمال اور ان کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کے تئیں ملک کے مسلسل عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
*****
ش ح-ظ الف- ش ب ن
UR No. 4992
(ریلیز آئی ڈی: 2322129)
وزیٹر کاؤنٹر : 5