وزارت اطلاعات ونشریات
azadi ka amrit mahotsav

شیواجی گنیشن کی اداکاری والی تین تاریخی تمل فلموں کی فلمی پرنٹس نیشنل فلم آرکائیو آف انڈیا کو عطیہ


حصول میں‘تھرووروت چیلوَر’ کی وہ فلمی نقل بھی شامل ہے جو این ایف اے آئی کو پہلی بار دستیاب ہوئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 OCT 2026 11:40AM by PIB Delhi

عظیم اداکار شیواجی گنیشن کی اداکاری اور اے پی ناگراجن کی ہدایت کاری میں بننے والی تمل سنیما کی تین کلاسیکی فلموں کی 35  ایم ایم فلمی پرنٹ فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ایف ٹی آئی آئی) کی فلم ریسرچ افسر اپرنا سبرامنیم نے نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن-نیشنل فلم آرکائیو آف انڈیا (این ایف ڈی سی-این ایف اے آئی)، پونے کے حوالے کی ہیں۔

اس حصول کے نتیجے میں ‘تھرووروت چیلوَر’ (1967)، ‘تھلانا موہنَمبل’ (1968) اور ‘تھروِلا یادل’ (1965) قومی فلمی ذخیرے میں شامل ہو گئی ہیں۔ ’تھروواروت چیلوَر‘ کا حصول ایک اہم خلا کو پُر کرتا ہے، کیونکہ اس فلم کا کوئی بھی نسخہ اس سے قبل این ایف اے آئی کے پاس کسی بھی شکل میں موجود نہیں تھا۔ اس کے علاوہ ’تھلانا موہنَمبل‘ اور ’تھروِلا یادل‘ کی محفوظ رہ جانے والی ریلیز پرنٹس کی ایک ایک اضافی نقل بھی حاصل ہوئی ہے، جس سے تمل سنیما کی ان دو اہم فلموں کے محفوظ رہنے کو مزید تقویت ملی ہے۔

اس حصول کی اہمیت صرف تین فلموں کے قومی ذخیرے میں شامل ہونے تک محدود نہیں ہے۔ محفوظ رہ جانے والی دوسری فلمی نقل کی دستیابی این ایف اے آئی کو ان فلموں کے تحفظ اور استعمال کے انتظام میں زیادہ استحکام فراہم کرتی ہے۔ اس کے ذریعے ایک نقل کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری نقل کو حوالہ، تکنیکی جائزے، ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنے اور تقابلی جانچ جیسے کاموں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/Picture11_20261008121524_eb935d.jpg

محترمہ اپرنا سبرامنیم، این ایف ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب پرکاش مگدم اور این ایف ڈی سی-این ایف اے آئی کے عہدیداران جناب بھاویش پرتاپ سنگھ اور محترمہ لینالی کھیرنار کو فلمی ریل حوالے کرتے ہوئے۔

نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایف ڈی سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب پرکاش مگدم نے کہا: ’’ہندوستان کے فلمی ورثے کا تحفظ صرف ادارہ جاتی ذخیروں پر منحصر نہیں ہے، بلکہ ان افراد اور تنظیموں کی کوششیں بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہیں جو محفوظ رہ جانے والے فلمی مواد کو سنبھال کر رکھنے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ ان تین اہم تمل فلموں کو نیشنل فلم آرکائیو آف انڈیا میں شامل کیے جانے سے قومی فلمی ذخیرے کو مزید تقویت ملی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ ہندوستانی سنیما کی اہم تخلیقات آئندہ نسلوں کے لیے بھی دستیاب رہیں۔ ہم ان فلمی پرنٹ کو تلاش کرنے اور انہیں قومی فلمی ذخیرے کی تحویل میں منتقل کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی قدر کرتے ہیں۔’’

عطیے کے بارے میں بات کرتے ہوئے محترمہ اپرنا سبرامنیم نے کہا: ’’گزشتہ ساڑھے تین برس سے میں فلمی نقول کو محفوظ کرنے اور جمع کرنے کا کام کر رہی ہوں۔ اس سال جنوری 2026 میں میں نے ‘رتھاکنیر’ (1954) کی ایک فلمی پرنٹ این ایف اے آئی کو حوالے کی تھی۔ میرے ذخیرے سے منتخب فلمی پرنٹ حوالے کرنے کا یہ سلسلہ اسی کوشش کو آگے بڑھانے کا حصہ ہے۔ میرا مقصد یہ ہے کہ ان پرنٹ کو مناسب تحفظ کی سہولیات سے مزین کسی عوامی فلمی ذخیرے کی تحویل میں دیا جائے۔’’

اگرچہ این ایف اے آئی کے ذخیرے میں ’تھلانا موہنَمبل‘ کی تحفظ کے لیے محفوظ کی گئی متعدد فلمی پرنٹ موجود ہیں، تاہم ’تھروِلا یادل‘ کی فی الحال صرف ایک محفوظ فلمی پرنٹ ہی اس ذخیرے میں دستیاب ہے۔ عطیہ کی گئی ’تھروِلا یادل‘ کی فلمی پرنٹ بظاہر سینما اسکوپ فارمیٹ میں تیار کی گئی ایک بصری طور پر تبدیل شدہ پرنٹ معلوم ہوتی ہے۔

جب کسی فلم کی صرف ایک محفوظ پرنٹ کسی ادارہ جاتی ذخیرے میں باقی رہ جائے تو مزید دستاویزی نقصان کے خطرے کو کم سے کم رکھنے کے لیے اس کے استعمال کو نہایت احتیاط کے ساتھ محدود کرنا پڑتا ہے۔ محفوظ رہ جانے والی دوسری فلمی پرنٹ کی دستیابی سے فلمی ذخیرے کو حوالہ، تکنیکی جائزے، ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنے اور تقابلی جانچ جیسے کاموں کے لیے زیادہ سہولت حاصل ہوتی ہے، جبکہ دوسری اصل فلمی پرنٹ کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اسی لیے محفوظ رہ جانے والی متعدد فلمی پرنٹ کی دستیابی فلمی ورثے کے تحفظ کے نقطۂ نظر سے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/Picture12_20261008121550_adffd1.jpg

تھلانا موہنَمبل (1968) کے فریم

نئی حاصل کی گئی تینوں فلمی پرنٹ میں میجنٹا رنگ کے  پھیکے پڑنے اور پروجیکٹر کے عمودی خراشوں کے آثار نمایاں ہیں، جو گرم اور ناموافق موسمی حالات میں کئی دہائیوں تک استعمال اور ذخیرہ کیے جانے کے اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان فلمی پرنٹ کی موجودہ حالت اس بات کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے کہ محفوظ رہ جانے والے فلمی مواد کو ادارہ جاتی فلمی ذخیروں میں محفوظ کرنا کتنا ضروری ہے۔

فلمی پرنٹ کی بازیابی کا سلسلہ اگست 2026 میں موصول ہونے والی معلومات سے شروع ہوا۔ ’تھلانا موہنَمبل‘ کی فلمی پرنٹ چنئی میں ملی اور ایف ٹی آئی آئی کے سابق طالب علم سائی سنجے کی مدد سے اسے حاصل کیا گیا، جس کے بعد اسے پونے منتقل کیا گیا۔ مزید معلومات کی بنیاد پر ’تھروِلا یادل‘ اور ’تھروو روت چیلوَر‘ کی فلمی پرنٹ بھی بازیاب کی گئیں۔ جب سبرامنیم کو معلوم ہوا کہ این ایف اے آئی کے پاس ’تھروو روت چیلوَر‘ کی کوئی پرنٹ موجود نہیں ہے تو انہوں نے فلمی ذخیرے کے لیے اس کی نقل محفوظ کرنے کو ترجیح دی۔ تینوں فلمی پرنٹ13 ستمبر 2026 کو چنئی سے حاصل کی گئیں اور بعدمیں این ایف اے آئی کے حوالے کر دی گئیں۔

اس حصول سے این ایف ڈی سی-این ایف اے آئی کی محفوظ رہ جانے والے فلمی مواد کی شناخت، جمع کرنے اور تحفظ کے لیے جاری کوششوں کو مزید تقویت ملی ہے اور ہندوستان کے فلمی ورثے کے قومی ذخیرے کو مضبوطی حاصل ہوئی ہے۔ یہ فلمی پرنٹ مستقبل میں تحفظ، تحقیق، ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنے اور عوامی رسائی کے لیے معاون ثابت ہوں گی اور اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ ہندوستانی فلمی تاریخ کی یہ اہم تخلیقات محفوظ رہیں اور آئندہ بھی دستیاب ہوں۔

ماخذ- این ایف ڈی سی- نیشنل فلم آرکائیو آف انڈیا | ایڈگر کوئلہو / پریتی مالندکر

 

Follow us on social media: http://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Twitter-iconI0HR.jpg@PIBMumbai Image result for facebook iconImage result for facebook icon http://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/Instagram-IconX9CA.png /PIBMumbai    http://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/emailXG3L.jpg http://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/emailXG3L.jpg/pibmumbai  pibmumbai[at]gmail[dot]com https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/ytYKP4.png /PIBMumbai    https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/sharechatHL5W.png/pibmumbai

********

) ش ح ۔ م ش۔اش ق)

U.No. 4837


(ریلیز آئی ڈی: 2320822) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , Bengali-TR , Gujarati