ٹیکسٹائلز کی وزارت
کپاس کے کسانوں کو بااختیار بنانے، شفافیت بڑھانے اور ہندوستان کی کپاس کی ویلیو چین کو مضبوط کرنے والی اصلاحات پر توجہ مرکوز
ڈیجیٹل خریداری، معیار کی بہتری، سراغ رسانی، ایچ ڈی پی ایس اور کستوری کپاس کی پہل شروع کی جائیں گی
کسان، صنعت سے وابستہ افراد اور پالیسی ساز حکام تجربات اور اصلاحات کے نتائج پیش کریں گے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 OCT 2026 7:01PM by PIB Delhi
حکومت ہند کی وزارت ٹیکسٹائل کی جانب سے سرکاری شعبے کے ادارے کاٹن کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ کے ذریعے ’ ریفارم اتسو 2026‘ کے تحت 6 اکتوبر 2026 کو حیدرآباد، تلنگانہ میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی۔ اس تقریب میں وزارت ٹیکسٹائل کے اشتراک سے کاٹن کارپوریشن آف انڈیا کی جانب سے کی جانے والی ان اہم اصلاحات کو پیش کیا جائے گا، جن کا مقصد کپاس کی خریداری کے نظام کو کسانوں کے لیے زیادہ سازگار، شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی اور مؤثر بنانا ہے۔
اس تقریب میں حکومت کے اعلیٰ افسران، حکومت تلنگانہ کے نمائندے، پالیسی ساز، کسان، صنعتی تنظیمیں اور کپاس و ٹیکسٹائل کے شعبوں سے وابستہ دیگر متعلقہ فریق شرکت کریں گے۔ اس کے ذریعے زمینی سطح پر اصلاحات کے اثرات کو اجاگر کرنے اور کپاس کی پوری ویلیو چین سے وابستہ اہم فریقوں کے درمیان تجربات کے تبادلے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران کاٹن کارپوریشن آف انڈیا نے کپاس کی خریداری، کسانوں کے اندراج، ڈیجیٹل اسپیس کی بکنگ، براہ راست ادائیگی، معیار کی جانچ، سراغ رسانی، کپاس کی فروخت اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے کے شعبوں میں ٹیکنالوجی پر مبنی اور ادارہ جاتی اصلاحات کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنا، شفافیت اور جواب دہی کو مضبوط بنانا اور کپاس کے کسانوں تک خدمات کی زیادہ مؤثر فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
تقریب کی ایک اہم خصوصیت کاٹن کارپوریشن آف انڈیا کی جانب سے کی جانے والی اہم اصلاحات اور اقدامات پر ایک پیش کش ہوگی، جس کے بعد ان کے نفاذ اور اثرات کو اجاگر کرنے والی مختصر فلم دکھائی جائے گی۔ اس خصوصی نمائش میں بتایا جائے گا کہ کس طرح ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور طریقۂ کار میں تبدیلی روایتی نظام کا کایا پلٹ کررہی ہے اور کسانوں، کاٹن کارپوریشن آف انڈیا، کپاس صاف کرنے والے کارخانوں اور ٹیکسٹائل صنعت کے درمیان رابطے کو زیادہ آسان اور مؤثر بنا رہی ہے۔
اس تقریب میں کپاس کے کسانوں اور صنعت سے وابستہ افراد اپنے تجربات بھی بیان کریں گے، جس سے ان لوگوں کی بات براہ راست سننے کا موقع ملے گا جو ان اصلاحات میں شامل ہیں اور ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مباحثے میں کپاس کے معیار میں بہتری، زیادہ کثافت والے پودے لگانے کے نظام، کستوری کاٹن ، کپاس کی خریداری کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے اور کپاس کی ویلیو چین کو مضبوط کرنے کے لیے کیے جانے والے دیگر اقدامات جیسے اہم موضوعات شامل ہوں گے۔
کپاس کسان ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی ان پیش کیے جانے والے اہم اقدامات میں شامل ہوگا۔ اس پلیٹ فارم نے کسانوں کے اندراج، جگہ کی بکنگ، خریداری سے متعلق رابطے اور آدھار کے ذریعے ادائیگی سمیت کپاس کی خریداری کے مختلف مراحل کو ڈیجیٹل طریقہ کار کے ذریعے ایک جگہ مربوط کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد شفافیت میں اضافہ کرنا، طریقۂ کار کی پیچیدگیوں کو کم کرنا اور کسانوں کو خریداری کے عمل کے بارے میں زیادہ واضح معلومات فراہم کرنا ہے۔
تقریب میں ہندوستانی کپاس کے معیار میں بہتری اور اس کی سراغ رسانی کے لیے کاٹن کارپوریشن آف انڈیا کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔ ان میں ملاوٹ اور آلودگی پر قابو پانے، ڈیجیٹل سراغ رسانی اور ’کستوری کاٹن بھارت‘ کی پہل کے تحت اعلیٰ معیار کی کپاس کو فروغ دینے کے اقدامات شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ہندوستانی کپاس کی شناخت، معیار اور بازار میں اس کی پوزیشن کو بہتر بنانا اور ملکی و بین الاقوامی بازاروں میں اس کی پذیرائی کو مضبوط کرنا ہے۔
اس خصوصی نمائش میں زیادہ کثافت والے پودے لگانے کے نظام (ایچ ڈی پی ایس) اور متعلقہ زراعتی اداروں کے تعاون سے فروغ دیے جانے والے پیداوار میں اضافے سے متعلق دیگر اقدامات پر بھی توجہ دی جائے گی۔ ان اقدامات کا مقصد ہندوستانی کپاس کی پیداوار میں موجود فرق کو دور کرنا، کھیت کی سطح پر کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا اور مجموعی طور پر ہندوستانی کپاس کے شعبے کی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط کرنا ہے۔
حکومت ہند کی وزارت ٹیکسٹائل کا سینٹرل سلک بورڈ (سی ایس بی) ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی، مشن کے طرز پر ٹیکنالوجی کی منتقلی اور اختراعی عوامی رابطہ مہم کے ذریعے انقلاب آفریں اصلاحات کو آگے بڑھا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہندوستانی ریشم کی پیداوار کے شعبے کو متعلقہ فریقوں کے لیے زیادہ قابل رسائی، مؤثر اور ان کی ضروریات پر مرکوز بنایا جارہا ہے۔
1۔ سلک مارک سروسز کی ڈیجیٹائزیشن – کاروبار کرنے میں آسانی
سلک مارک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس ایم او آئی) 2004 سے سلک مارک اسکیم نافذ کررہی ہے۔ یہ ادارہ سلک مارک کے ذریعے خالص ریشم کی اصلیت کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ 2022-23 سے ایس ایم او آئی نے مرحلہ وار اندراج، تجدید، دستاویزات کی کارروائی، ابتدائی معائنہ، ادائیگی، لیبل کی شرط اور اجراء، ریکارڈ کے نظم اور شکایات کے ازالے کے عمل کو ڈیجیٹل بنایا ہے۔
اب یہ نظام 7,000 سے زیادہ منظور شدہ صارفین کو خدمات فراہم کررہا ہے اور ہر سال 500 سے زیادہ نئے اندراج کیے جاتے ہیں۔ مقررہ ضروریات پوری ہونے کی صورت میں درخواستوں پر عموماً 1 سے 2 کام کے دنوں میں کارروائی کی جاسکتی ہے۔ اس اصلاح سے کاغذی کارروائی اور دفاتر کے ذاتی دورے میں کمی آئی ہے، جبکہ شفافیت، سراغ رسانی اور انتظامی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے خاص طور پر خورد، درمیانی اور چھوٹے درجے کی صنعتوں اور ریشم کے شعبے سے وابستہ متعلقہ فریقوں کو فائدہ پہنچا ہے۔
2. میرا ریشم میرا ابھیمان – ریشم کی پیداوار سے متعلق ٹیکنالوجی کی منتقلی کی بڑی مہم
سینٹرل سلک بورڈ (سی ایس بی) نے 2025 میں ’میرا ریشم میرا ابھیمان‘ (ایم آر ایم اے) کا آغاز ریشم کی پیداوار سے متعلق ٹیکنالوجی کی منتقلی کی 100 روزہ بڑی مہم کے طور پر کیا۔ اس کے تحت براہ راست کسانوں سے رابطے، عملی نمائشوں، تربیت اور کھیت کی سطح پر اقدامات کے ذریعے ثابت شدہ ٹیکنالوجی کو ’لیب سے زمین تک‘ پہنچایا گیا۔ یہ مہم 26 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 129 اضلاع میں چلائی گئی۔ ایم آر ایم اے 1.0 کے ذریعے 1,400 سے زیادہ پروگرام منعقد کرکے 75,000 کسانوں تک پیغام رسائی کی گئی۔
ایم آر ایم اے 1.0 کی کامیابیوں اور حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر ایم آر ایم اے 2.0 کو مزید منظم، جامع اور نتائج پر مبنی مہم کے طور پر تیار کیا گیا۔ اس میں ریشم کی پیداوار کے 218 اہم اضلاع کو شامل کیا گیا ہے، جو ہندوستان کی خام ریشم کی پیداوار میں 95 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں۔ اس مہم میں بنیادی معلومات کے جائزے، متعلقہ فریقوں سے مشاورت، ضلعی ریشم ترقیاتی منصوبے، ہدف پر مبنی اور ضرورت کے مطابق عملی منصوبے اور ایک فعال باہمی رابطے والے ایم آر ایم اے ویب پورٹل کو شامل کیا گیا ہے۔ اب تک 1,700 سے زیادہ پروگرام منعقد کیے جاچکے ہیں، جن کے ذریعے براہ راست 73,000 سے زیادہ کسانوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے تقریباً 1 لاکھ متعلقہ فریقوں تک پیغام رسائی کی گئی ہے۔
3. سری ٹورزم – فارم سے فائبر تک کا تجربہ
سینٹرل سلک بورڈ (سی ایس بی) نے ریشم کی پیداوار، سیاحت، تعلیم اور مقامی اقتصادی ترقی کو مربوط کرنے کے لیے سری ٹورزم کا تصور پیش کیا ہے۔ اس کے ذریعے عجائب گھروں، عملی مظاہروں، میزبان پودوں اور کیڑے کے پارکوں، ٹیکنالوجی کی نمائشوں اور مصنوعات کے مراکز کے ذریعے ’’مٹی سے ریشم تک‘‘ کے مکمل سفر کو پیش کیا جائے گا۔
سینٹرل سلک بورڈ کا پی-4 بنیادی بیج فارم، مانس بل، جموں و کشمیر اور مرکزی ریشم بورڈ کا ایری بنیادی بیج فارم، ٹوپاٹولی، آسام کو سری ٹورزم کے مراکز کے طور پر تیار کیا جارہا ہے۔ یہاں ریشم کی مختلف اقسام، جینیاتی ذخیرے کا تحفظ، ریشم کے کیڑوں کی پرورش، کویا تیار کرنا، ریشم نکالنا، بنائی، رنگائی اور سلک مارک کے بارے میں بیداری جیسے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا جائے گا۔
نیا منظر نامہ
مجموعی طور پر یہ اصلاحات جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی اور متعلقہ فریقوں کی ضروریات پر مرکوز ریشم کی پیداوار کا نیا نظام تشکیل دے رہی ہیں، جہاں خدمات ڈیجیٹل ہیں، ٹیکنالوجی آخری سطح تک پہنچ رہی ہے اور ہندوستان کی ریشم سے متعلق وراثت ایک عملی اور تجرباتی اثاثے میں تبدیل ہورہی ہے۔ اس سے کسانوں، چھوٹی و درمیانی صنعتوں، دست کاروں، کاروباری افراد اور مقامی برادریوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔
’ریفارم اتسو 2026‘ میں پیش کی جانے والی اصلاحات سے حکومت کے اس وسیع تر وژن کی عکاسی ہوتی ہے جس کے تحت مضبوط اور مربوط ٹیکسٹائل ویلیو چین قائم کی جارہی ہے، جو فارم سے فائبر تک، فائبر سے فیکٹری تک، فیکٹری سے فیشن تک اور فیشن سے فارن ( بیرون ملک) بازار تک پھیلی ہوئی ہے۔
حیدرآباد میں ہونے والا یہ پروگرام اصلاحات کے سفر کو پالیسی اور ادارہ جاتی اقدامات سے آگے بڑھا کر زمینی سطح کے نتائج تک پہنچانے کا اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی کسانوں، صنعت، سرکاری اداروں اور تعلیمی اداروں کے درمیان مزید فعال شراکت داری اور باہمی تعاون کو بھی فروغ ملے گا۔
ان اصلاحات کے ذریعے سی سی آئی ہندوستان کی کپاس کی معیشت کے اہم ادارہ جاتی ستون کے طور پر اپنے کردار کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ اس کے تحت کسانوں کی مدد، خریداری کے نظام میں بہتری، معیار کو بہتر بنانے میں سہولت اور کپاس و ٹیکسٹائل کے زیادہ شفاف، مؤثر، پائیدار اور عالمی سطح پر مسابقتی نظام کی تشکیل میں تعاون کیا جا رہا ہے۔
ریفارم اتسو 2026 وزارت ٹیکسٹائل کی اس پہل کا حصہ ہے، جس کا مقصد اس کی تنظیموں اور اداروں کی جانب سے کی جانے والی اہم اصلاحات کو اجاگر کرنا اور شہریوں، کسانوں، صنعت اور وسیع تر ٹیکسٹائل نظام پر ان کے اثرات کو نمایاں کرنا ہے۔
*****
ش ح۔ م ش ع۔ ج
uno-4615
(ریلیز آئی ڈی: 2318947)
وزیٹر کاؤنٹر : 7