ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
مرکزی وزیرِ ماحولیات نے جیسلمیر کے ڈیزرٹ نیشنل پارک میں دو نر گریٹ انڈین بسٹرڈز (سوہن چڑیوں) کو کھلے جنگل میں آزاد کیا
یہ ہمارے سائنسدانوں، محققین اور زمینی عملے کی تقریباً ایک دہائی کی غیر متزلزل لگن کا غیر معمولی نتیجہ ہے: جناب بھوپیندر یادو
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 OCT 2026 11:33AM by PIB Delhi
معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار 'گریٹ انڈین بسٹرڈ' (جی آئی بی) کے تحفظ کے ایک اہم سنگِ میل کے تحت، مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی، جناب بھوپیندر یادو نے آج جیسلمیر، راجستھان کے ڈیزرٹ نیشنل پارک میں واقع 'سام' کے علاقے میں دو نر گریٹ انڈین بسٹرڈز (سوہن چڑیوں) کو کھلے جنگل میں آزاد کیا۔ اس موقع پر راجستھان کے ریاستی وزیر برائے جنگلات اور ماحولیات، شری سنجے شرما کے ساتھ ساتھ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں، جناب یادو نے سائنسدانوں برادری کو گریٹ انڈین بسٹرڈ اور دیگر اقسام کے پرندوں و جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے کے قابل بنانے میں مسلسل رہنمائی، حوصلہ افزائی اور تعاون فراہم کرنے پر وزیر اعظم شری نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔
وزیر موصوف نے کہا کہ یہ سنگِ میل ہمارے سائنسدانوں، محققین اور زمینی عملے کی تقریباً ایک دہائی کی غیر متزلزل لگن کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد گریٹ انڈین بسٹرڈ (سوہن چڑیا) کو راجستھان کے ریگستانوں میں دوبارہ آباد ہونے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
انہیں جنگل میں چھوڑا اجان ہندوستان کے گریٹ انڈین بسٹرڈ کے تحفظ کے پروگرام میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے، جس کے تحت اب ایک کامیاب تحفظاتی افزائشِ نسل کی آبادی قائم کرنے کے بعد، اس پرجاتی کو ان کے قدرتی مسکن میں دوبارہ متعارف کرانے اور ان کی تعداد بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس آزادی سے حاصل ہونے والے تجربات کو مستقبل میں پرندوں کو چھوڑنے کے طریقوں کو بتدریج مزید بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
سوہن چڑیا کی بحالی کا پروگرام وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی، راجستھان کے محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ڈبلیو آئی آئی) کی ایک مشترکہ پہل قدمی ہے، جس میں انٹرنیشنل فنڈ فار ہوبارا کنزرویشن کا تکنیکی تعاون اور نیشنل کیمپا کی جانب سے مالی امداد شامل ہے۔ یہ پروگرام تحفظاتی افزائشِ نسل، قدرتی مسکن کے انتظام، خطرات کے تدارک، مسکن کی بحالی اور عوامی شرکت پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
تحفظاتی افزائشِ نسل کے پروگرام نے نمایاں ترقی کی ہے۔ 'سام' اور 'رام دیورا' میں موجود گریٹ انڈین بسٹرڈ کی تنصیبات میں اس وقت 97 پرندے موجود ہیں، جن میں سے 40 پرندے جنگل سے حاصل کیے گئے انڈوں سے نکلے ہیں اور 57 کی افزائشِ نسل افزائش نسل کے مصنوعی مرکز میں کی گئی ہے۔ ان میں سے 86 پرندوں کو قید میں افزائشِ نسل کو برقرار رکھنے کے لیے رکھا جا رہا ہے، جبکہ 11 پرندوں کو کھلے جنگل میں چھوڑنے کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ ان 11 میں سے 2 پرندوں کو آج ڈیزرٹ نیشنل پارک میں آزاد کر دیا گیا۔ قید میں افزائشِ نسل کے نتیجے میں سنہ 2025 میں 24 اور سنہ 2026 میں 29 زندہ چوزے پیدا ہوئے۔
سائنسی کوششوں، بشمول نئی 'جمپ اسٹارٹ' حکمتِ عملی نے بھی اس پرندے کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت، افزائش نسل کے مصنوعی مرکز میں دیے گئے انڈوں کو جب جنگلی گھونسلوں میں رکھا گیا تو انڈے سینے والی مادہ پرندوں نے انہیں قبول کر لیا، جس کے نتیجے میں راجستھان میں چھ اور گجرات میں دو چوزے کامیابی سے انڈوں سے نکلے۔
راجستھان کے محکمہ جنگلات کی جانب سے قدرتی مسکن کی بحالی کے ذریعے ان کوششوں کو مزید تقویت دی جا رہی ہے، جس میں ڈیزرٹ نیشنل پارک کے اندر تقریباً 200 مربع کلومیٹر کے رقبے پر باڑ والے گھاس کے میدانوں کا قیام شامل ہے۔ وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے طویل مدتی ٹیلی میٹری مطالعہ نے ان باڑ والے علاقوں کو اس پرجاتی کے لیے افزائشِ نسل کے بہترین مسکن کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ اس پرجاتی کے تحفظ کے اقدامات سپریم کورٹ آف انڈیا کے فیصلے کے مطابق کیے جا رہے ہیں، جو اس مقصد کے لیے تشکیل دی گئی ماہرین کی کمیٹی کی سفارشات پر مبنی ہے۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:4504
(ریلیز آئی ڈی: 2318858)
وزیٹر کاؤنٹر : 5