وزارت آیوش
azadi ka amrit mahotsav

آیوش  ، بھارت کے تیزی سے ترقی کرنے والے خدمات کے شعبوں میں شامل، آر آئی ایس کی تحقیق کے مطابق معیشت کا حجم 36.92 ارب امریکی ڈالر

آیوش خدمات کے شعبے میں مالی سال 2023  ء سے 16.91  فی صد کی سی اے جی آر  سالانہ شرح نمو؛ 17.6 لاکھ افراد کے روزگار کا ذریعہ، میڈیکل ویلیو ٹریول سے 1.77 ارب امریکی ڈالر کی آمدنی

آیوش خدمات کے شعبے کے 2047  ء تک 216 سے 318 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان، ‘ وکست بھارت ’  میں اہم  رول ادا کرنے والا شعبہ بننے کی راہ پر گامزن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 SEP 2026 12:38PM by PIB Delhi

ایک نئی تحقیق کے مطابق آیوش خدمات کا شعبہ بھارت کے تیزی سے ترقی کرنے والے خدماتی شعبوں میں سے ایک بن کر ابھرا ہے۔  ترقی پذیر ممالک کے لیے تحقیق و معلومات  کا نظام (آر آئی ایس) کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق مالی سال 25-2024 ء  میں آیوش خدمات کے شعبے کی اقتصادی شراکت کا تخمینہ 36.92 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ مالی سال 23-2022 ء  سے اس شعبے نے 16.91 فی صد کی  سی اے جی آر  سالانہ شرح نمو درج کی ہے۔ حفظانِ صحت  کی خدمات، فلاح و بہبود، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور میڈیکل ویلیو ٹریول کے ذریعے یہ شعبہ بھارت کی اقتصادی ترقی میں مسلسل اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ تحقیق  کے تحت اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2047 ء تک آیوش خدمات کی معیشت 216 سے 318 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو  ‘ وکست بھارت @2047 ’  کے ویژن میں  ، اس شعبے کے نمایاں کردار کی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ رپورٹ 23 ستمبر کو ناگپور میں آیوروید  کے 11ویں  دن کی تقریبات کے دوران باضابطہ طور پر جاری کی گئی۔

آیوش کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور صحت و خاندانی بہبود کے وزیر مملکت جناب پرتاپ راؤ جادھو نے کہا کہ اس تحقیق کے نتائج آیوش شعبے کی اقتصادی صلاحیت کو تسلیم کرنے کی سمت میں ایک اہم سنگ میل ہیں۔ وزیر  موصوف نے کہا کہ ‘‘ اس اہم تحقیق کے نتائج  ، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ آیوش محض ہماری ثقافتی میراث نہیں ہے بلکہ بھارت کی معیشت کی ترقی کا ایک متحرک اور تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے۔ آیوش شعبہ  ، حفظانِ صحت کی خدمات، فلاح و بہبود، روزگار اور عالمی اقتصادی روابط میں مزید اہم رول ادا کرنے کے لیے تیار ہے، جب کہ ایک صحت مند اور خود کفیل بھارت کے ہمارے ویژن میں بھی اپنا تعاون دے گا۔‘‘

آیوش کی وزارت کے سکریٹری ویدیہ راجیش کوٹیچا نے کہا کہ ‘‘ پہلی بار آیوش خدمات کے شعبے کی اقتصادی شراکت کی پیمائش قومی سطح پر کیے گئے ادارہ جاتی سروے کے ذریعے کی گئی ہے، جس میں آیوش کے تمام بڑے نظاموں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ مستقبل میں سرمایہ کاری، پالیسی سازی اور اصلاحات کی رہنمائی کے لیے ایک مضبوط شواہد پر مبنی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ‘‘

آر آئی ایس کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر سچن کمار شرما نے کہا کہ ‘‘ یہ تحقیق بھارت کی آیوش خدمات کی معیشت کو شواہد کی بنیاد پر سمجھنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ آیوش کے تمام چھ نظاموں سے وابستہ 15,914 اداروں کے قومی سطح پر کیے گئے سروے کی بنیاد پر سامنے آنے والے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 36.92 ارب امریکی ڈالر کی معیشت، جو تقریباً 17 فی صد سالانہ کی شرح سے ترقی کر رہی ہے اور 17.6 لاکھ افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے، اب کوئی محدود یا ثانوی شعبہ نہیں رہا بلکہ ایک متحرک اور  معلومات پر مبنی خدمات سے متعلق  معیشت بن چکا ہے۔ ‘‘

تحقیق کے مطابق مالی سال 25-2024 ء میں آیوش خدمات کی معیشت کا تخمینہ جاتی حجم 36.92 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا، جو مالی سال 23-2022 ء سے 16.91 فیصد کی مرکب سالانہ شرح نمو (سی اے جی آر) کو ظاہر کرتا ہے۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ آیوش خدمات بھارت کی خدمات سے متعلق معیشت کے ایک اہم اور تیزی سے ترقی کرنے والے شعبے کے طور پر ابھر رہی ہیں۔ منظم صحت خدمات کی فراہمی، فلاح و بہبود کی خدمات، معیاری بنیادی ڈھانچے اور عالمی سطح پر رسائی کے ذریعے اس شعبے میں مزید توسیع کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ کلینک اور ڈے کیئر مراکز مل کر آیوش خدمات کی معیشت کا بنیادی حصہ ہیں اور شعبے کی مجموعی آمدنی میں ان کا حصہ 71 فی صد سے زیادہ ہے۔ علیحدہ طور پر قائم کلینکس سے تقریباً 16.21 ارب امریکی ڈالر کی آمدنی ہوئی، جب کہ ڈے کیئر مراکز نے 10.13 ارب امریکی ڈالر کا تعاون کیا۔ آیوروید بدستور سب سے بڑا انفرادی نظام رہا، جس سے 17.73 ارب امریکی ڈالر کی آمدنی ہوئی، جو آیوش شعبے کی مجموعی آمدنی کا تقریباً 48 فی صد ہے۔

رپورٹ میں آیوش پر مبنی فلاح و بہبود کے شعبے کی بڑھتی ہوئی اقتصادی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جس میں یوگا مراکز، اسپا مراکز  اور آیوش پر مبنی خدمات فراہم کرنے والے ریزورٹس شامل ہیں۔ اس شعبے نے 21.29 فی صد کی مرکب سالانہ شرح نمو (سی اے جی آر) درج کی ہے، جب کہ دو برسوں کے دوران یوگا مراکز کی آمدنی میں تقریباً 75 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار احتیاطی صحت، فلاح و بہبود اور جامع نگہداشت کی خدمات کی بڑھتی ہوئی مانگ کی عکاسی کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق آیوش خدمات کا شعبہ روزگار کا ایک اہم ذریعہ بن کر ابھرا ہے۔ یہ شعبہ براہِ راست 17.6 لاکھ افراد کے روزگار کا سہارا ہے، جن میں 10 لاکھ سے زیادہ ملازمتیں مقامی اور علیحدہ طور پر قائم کلینکس میں مرکوز ہیں۔ آیوش خدمات کے مجموعی افرادی قوت میں خواتین کی حصہ داری 43 فی صد ہے، جب کہ کئی منظم شعبوں میں خواتین کی شمولیت 50 فی صد سے بھی زیادہ ہے۔ آیوش پر مبنی خدمات فراہم کرنے والے فلاح و بہبود کے مراکز، یعنی اسپاز  مراکز اور ریزورٹس میں خواتین افرادی قوت کا 60 فی صد سے زیادہ حصہ ہیں، جب کہ تعلیمی اداروں میں یہ تناسب 58 فی صد، ڈے کیئر مراکز میں 57 فی صد اور اسپتالوں میں 53 فی صد ہے۔

تحقیق میں میڈیکل ویلیو ٹریول (ایم وی ٹی) کے شعبے میں آیوش کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ مالی سال 25-2024 ء  میں اس شعبے سے ایم وی ٹی کے ذریعے تقریباً 1.77 ارب امریکی ڈالر کی آمدنی ہوئی۔ اگرچہ بین الاقوامی مریضوں کی تعداد مجموعی مریضوں کا صرف تقریباً 5 فی صد ہے، تاہم وہ اسپتالوں کے شعبے کی آمدنی میں اندازاً 15 سے 25 فی صد تک  تعاون کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق پنچ کرما اور رہائشی یوگا سمیت آیوش کے علاج پر مبنی پروگرام مریضوں کے نسبتاً طویل قیام سے وابستہ ہیں، جہاں قیام کی اوسط مدت 5 سے 11 دن تک رہتی ہے۔

ڈیجیٹل سطح پر موجودگی اور معیاری منظوری بھی بین الاقوامی مریضوں کو راغب کرنے میں اہم عوامل کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق  ، جن اداروں کی اپنی فعال ویب سائٹ موجود ہے، ان کے بین الاقوامی مریضوں کو راغب کرنے کے امکانات 3.6 گنا زیادہ ہیں، جب کہ این اے بی ایچ یا آئی ایس او جیسی تسلیم شدہ معیاری منظوری حاصل کرنے والے اداروں کے لیے ایسے مریضوں کو راغب کرنے کے امکانات تقریباً دوگنے ہیں۔

مستقبل کے حوالے سے، تحقیق میں بھارت کے  ‘ وکست بھارت @2047 ’  کی جانب پیش رفت کے ساتھ آیوش خدمات کے شعبے میں نمایاں ترقی کے امکانات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ مالی سال 25-2024 ء  میں 36.92 ارب امریکی ڈالر کی تخمینہ شدہ معیشت کے مقابلے میں 2047 ء تک آیوش خدمات کی معیشت 216 ارب سے 318 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، تاہم اس کے لیے بنیادی ڈھانچے، معیاری نظام، ہنرمندی، ڈیجیٹل صلاحیتوں اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کو مضبوط بنانا ضروری ہوگا۔

تحقیق میں آیوش شعبے کے لیے چار بنیادی ستونوں کے تجزیے پر مبنی ایک حکمت عملی بھی پیش کی گئی ہے: آیوش کی علم پر مبنی قدر کی ویلیو چین ؛ کاروباری اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا؛ عالمی مسابقت اور میڈیکل ویلیو ٹریول؛ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے جدت طرازی۔ اس میں وسیع پیمانے پر معیاری منظوری، ڈیجیٹل صحت ریکارڈ، افرادی قوت کی ہنرمندی میں اضافہ، بین الاقوامی سطح پر خدمات فراہم کرنے کی تیاری اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو ذمہ داری کے ساتھ اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

تحقیق کے نتائج اس بات کو مزید واضح کرتے ہیں کہ آیوش کا رول محض صحت خدمات اور فلاح و بہبود کے نظام تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے، خدمات پر مبنی اقتصادی ترقی اور روایتی و تکمیلی علاج کے شعبے میں بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی روابط میں بھی اپنا رول ادا کر رہا ہے۔

آر آئی ایس کی یہ تحقیق آیوش خدمات کے بدلتے ہوئے منظرنامے کا شواہد پر مبنی جائزہ پیش کرتی ہے اور آنے والے برسوں میں بھارت کی صحت خدمات، فلاح و بہبود اور اقتصادی ترقی سے متعلق ترجیحات میں آیوش شعبے کے رول کو مزید  مستحکم کرنے کے امکانات کی نشاندہی کرتی ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260930123948_d6a317.gif

 

****

(ش ح ۔ ش ب ۔ ع ا)

U.No. 4354

 

 

 


(ریلیز آئی ڈی: 2317122) وزیٹر کاؤنٹر : 10