وزارت خزانہ
خزانہ اور کارپوریٹ امورکی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتارمن نے نئی دہلی میں برکس ٹیکس اتھارٹی کے سربراہان کے اجلاس کا افتتاح کیا
بھارت کی برکس ٹیکس صدارت نے ٹیکنالوجی، انتظامیہ اور انسانی وسائل کے شعبوں میں تاریخی نتائج حاصل کیے
بین الاقوامی ٹیکس نظام اور محصولات کے اعداد و شمار پر بھارت کی قیادت میں دو نئے ورکنگ گروپس کا باضابطہ قیام ہوا؛ برکس ٹیکس پیش رفت رپورٹ 2026 کو منظوری دی گئی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 SEP 2026 8:38PM by PIB Delhi
خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتارمن نے آج نئی دہلی میں برکس ٹیکس اتھارٹی کے سربراہان کے اجلاس کا افتتاح کیا۔ یہ اجلاس ٹیکس تعاون کے لیے بھارت کی برکس صدارت کے اختتام کے طور پر منعقد کیا گیا۔ اجلاس سے مرکزی وزیر خزانہ کے ساتھ خزانہ کےمرکزی وزیر مملکت جناب پنکج چودھری اور محکمہ محصولات کے سکریٹری جناب اروند سری واستو نے بھی خطاب کیا۔
اجلاس میں سی بی ڈی ٹی کے چیئرمین جناب روی اگروال، سی بی ڈی ٹی کے رکن (قانون سازی) جناب پرسن جیت سنگھ، سی بی ڈی ٹی کے دیگر ارکان اور محکمہ محصولات (ڈی او آر) کے سینئر افسران موجود تھے۔ حکومت ہند کی وزارت خزانہ کے مرکزی براہ راست ٹیکس بورڈ کی جانب سے منعقد اس اجلاس میں برکس کے رکن ممالک کے ٹیکس حکام کے سربراہان ایک جگہ جمع ہوئے۔ برکس کے دس ٹیکس ایڈمنسٹریٹرس-برازیل، چین، مصر، ایتھوپیا، بھارت، انڈونیشیا، ایران، روس، جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات کے نمائندوں نے اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے اور تعاون و تال میل کے ذریعے ابھرتے ہوئے چیلنجوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر شرکت کی۔


اس موقع پر اپنے خطاب میں محترمہ سیتارمن نے بھارت کی صدارت کے دوران برکس ٹیکس تعاون کے تین اہم موضوعات کے طور پر ٹیکنالوجی، انتظامیہ اور عوام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ٹیکس انتظامیہ کو زیادہ درست اور قابل رسائی بنانے میں اعداد و شمار اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے کردار، انفرادی صدارتوں سے بالاتر ہوکرتعاون کو برقرار رکھنے کے لیے دیرپا ادارہ جاتی نظام اور عملی وسائل کی اہمیت، نیز عوامی سرمایہ کاری اور مختلف ٹیکس انتظامیہ کے درمیان پیشہ ورانہ تعلقات قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ جاری کثیر ملکی ٹیکس مذاکرات، جن میں اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ٹیکس تعاون کے فریم ورک کنونشن سے متعلق مذاکرات بھی شامل ہیں، میں برکس معیشتوں کے نقطہ نظر ان مذاکرات میں انصاف اور پائیداری یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

اجلاس میں کئی اہم فیصلوں کو باضابطہ طور پر منظور کیا گیا۔ بین الاقوامی ٹیکس نظام اور قیمتوں کی منتقلی (ٹرانسفر پرائسنگ) نیز محصولات کے اعداد و شمار سے متعلق دو نئے ورکنگ گروپس قائم کیے گئے۔ دونوں کی قیادت بھارت کرے گا، جس سے ایسے مستقل ادارہ جاتی پلیٹ فارم قائم ہوں گے جو صدارت تبدیل ہونے کے باوجود جاری رہیں گے۔اپریل 2026 میں ناگپور میں واقع نیشنل اکیڈمی آف ڈائریکٹ ٹیکسز میں منعقد ہونے والے پہلے بالمشافہ برکس کا نوجوانوں سے متعلق پیشہ وارانہ ٹیکس اور صلاحیت سازی پروگرام کو برکس ٹیکس تعاون کے سالانہ پروگرام کے طور پر ادارہ جاتی شکل دی گئی۔ برکس ٹیکس کراس لرننگ لیب کا بھی باضابطہ آغاز کیا گیا، جس میں صارف یرمرکوز انتظامیہ اور انسانی وسائل کے طریقہ کار سے متعلق ورکنگ گروپس کے کام کو ایک مشترکہ باہمی سیکھنے کے پلیٹ فارم میں یکجا کیا گیا۔ برکس ٹیکس اسسٹنس نیٹ ورک کے لیے شرائط و ضوابط کو بھی منظوری دی گئی۔

اجلاس کا اختتام برکس ٹیکس پیش رفت رپورٹ 2026 پر باضابطہ دستخط کے ساتھ ہوا، جس میں برکس ٹیکس ٹریک کی بھارت کی صدارت کی مکمل تفصیلات شامل ہیں۔ عوامی جمہوریہ چین کو 2027 کے لیے برکس ٹیکس تعاون ٹریک کے آئندہ صدر کے طور پر خوش آمدید کہا گیا۔

ٹیکس حکام کے سربراہان نے اجلاس کے کامیاب انعقاد اور برکس ٹیکس ٹریک کی بھارت کی صدارت کے معیار اور جامعیت کے لیے حکومت ہند کی ستائش کی۔

***
ش ح ۔ ع ح۔م ش
U-4340
(ریلیز آئی ڈی: 2316861)
وزیٹر کاؤنٹر : 5