امور داخلہ کی وزارت
امور داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے نئی دہلی میں ’پراہار- سی ٹی پالیسی اور حکمت عملی‘ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس کا افتتاح کیا
کانفرنس میں 'پراہار' کے سات ستونوں پر غور و خوض کیا گیا، جن میں روک تھام، جوابی کارروائی، اندرونی صلاحیتوں کو یکجا کرنا، انسانی حقوق، دہشت گردی کے موافق حالات کو کم کرنا، بین الاقوامی کوششوں کو ہم آہنگ کرنا اور پورے معاشرے کے اشتراکِ عمل کے ذریعے بحالی و لچک شامل ہیں
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں، حکومت ہند نے ہر قسم کی دہشت گردی اور اس کے تمام مظاہر کے خلاف 'عدم رواداری' کی پالیسی اپنائی ہے
دہشت گردی کے واقعات کے مسلسل تجزیے اور آئندہ 10 برسوں کے لیے ایک مضبوط اور ٹھوس میکانزم قائم کر کے 'پراہار' حکمت عملی کو مضبوط بنانے کے لیے مستقل کوششیں درکار ہیں
مرکزی وزیر داخلہ نے 'پراہار' پہل قدمی کے ہر پہلو کے تئیں ایک فعال انداز اپنانے پر زور دیا تا کہ تھانہ سطح تک اس کے نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے
'پراہار' فریم ورک کے ہر سطح پر دہشت گردی کے خلاف ایک خودکار نظام کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دینے کی ضرورت ہے
کسی بھی کارروائی میں تاخیر کو روکنے اور یہ یقینی بنانے کے لیے کہ 'پراہار' کا ہر ستون نتیجہ خیز ثابت ہو، تمام فریقین کے درمیان بہتر تال میل لازمی ہے
مرکزی وزیر داخلہ نے مجرموں کی حوالگی کا ایک نیا پورٹل لانچ کیا، جو بیرون ملک سے مفرور افراد کو واپس لانے کی کوششوں کو مربوط اور تیز تر بنائے گا
2019 سے 2026 تک، مودی حکومت 36 ممالک سے 288 مفرور مجرموں کو کامیابی کے ساتھ بھارت واپس لائی ہے
ایجنسیوں کے مابین بہتر تال میل کے نتیجے میں، شہزاد بھٹی نیٹ ورک کے 40 سے زائد ماڈیولز کو تباہ کر دیا گیا جو سرحد پار سے ہتھیاروں، دھماکہ خیز مواد اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھے، اس کارروائی کے تحت 15 ریاستوں میں 100 سے زائد ایف آئی آرز درج کی گئیں اور 350 افراد کو گرفتار کیا گیا
اسی کے ساتھ ہی، مودی حکومت نے شہزاد بھٹی نیٹ ورک کو یو اے پی اے کے تحت ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا
ریاستی پولیس فورسز کو بیرون ملک سے مفرور افراد کو واپس لانے کے لیے مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے مخصوص ٹیمیں تشکیل دینی چاہئیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 SEP 2026 6:57PM by PIB Delhi
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج نئی دہلی میں 'پراہار - سی ٹی پالیسی اور حکمت عملی' کانفرنس کا افتتاح کیا۔ اس کانفرنس میں 'پراہار' کے سات ستونوں پر غور و خوض کیا گیا، جن میں روک تھام، جوابی کارروائی، اندرونی صلاحیتوں کو یکجا کرنا، انسانی حقوق، دہشت گردی کے موافق حالات کو کم کرنا، بین الاقوامی کوششوں کو ہم آہنگ کرنا اور پورے معاشرے کے اشتراکِ عمل کے ذریعے بحالی و لچک شامل ہیں۔ اس کانفرنس میں مرکزی سکریٹری داخلہ، سکریٹری خارجہ، سی اے پی ایف /سی پی او کے سربراہان، 15 ریاستوں کے ڈی جیز پی اور تمام ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے اے ٹی ایس چیف نے ذاتی طور پر شرکت کی، جبکہ دیگر ریاستوں کے ڈی جیز پی اور فیلڈ سطح کے پولیس افسران نے ورچوئل طریقے سے کانفرنس میں حصہ لیا۔

اپنے خطاب میں، مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں، حکومت ہند نے ہر قسم کی دہشت گردی اور اس کے تمام مظاہر کے خلاف 'عدم رواداری' کی پالیسی اپنائی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے واقعات کے مسلسل تجزیے اور آئندہ 10 برسوں کے لیے ایک مضبوط اور ٹھوس میکانزم قائم کر کے 'پراہار' حکمت عملی کو مستقل طور پر مضبوط اور بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ پراہار کے اصولوں کو تھانہ سطح تک پہنچانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، انہوں نے پراہار پہل قدمی کے ہر پہلو کے تئیں ایک فعال انداز اپنانے کی تاکید کی۔ دہشت گردانہ خطرات کو کم کرنے کے لیے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے فریم ورک کے ہر سطح پر دہشت گردی کے خلاف ایک خودکار جوابی کارروائی کو ادارہ جاتی شکل دینے کی وکالت کی۔ پراہار کے ہر ستون کے تئیں نتیجہ خیز نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے کارروائی میں کسی بھی تاخیر کو روکنے کے لیے تمام فریقین کے درمیان تال میل کی اپیل کی۔ مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ 2019 سے 2026 تک، مودی حکومت 36 ممالک سے 288 مفرور مجرموں کو کامیابی کے ساتھ بھارت واپس لے کر آئی ہے۔ ایجنسیوں کے مابین بہتر تال میل کے نتیجے میں، شہزاد بھٹی نیٹ ورک کے 40 سے زائد ماڈیولز کو تباہ کر دیا گیا جو سرحد پار سے ہتھیاروں، دھماکہ خیز مواد اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔ اس کے تحت 15 ریاستوں میں 100 سے زائد ایف آئی آرز درج کی گئیں اور 350 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی کے ساتھ ہی مودی حکومت نے شہزاد بھٹی نیٹ ورک کو یو اے پی اے کے تحت ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے مجرموں کی حوالگی کا ایک نیا پورٹل بھی لانچ کیا، جو بیرون ملک سے مفرور افراد کو واپس لانے کی کوششوں کو مربوط اور تیز تر بنائے گا۔ انہوں نے ریاستی پولیس فورسز پر زور دیا کہ وہ بیرون ملک سے مفرور مجرموں کو واپس لانے کے لیے مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرنے کے لیے مخصوص ٹیمیں تشکیل دیں۔

**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:4257
(ریلیز آئی ڈی: 2316254)
وزیٹر کاؤنٹر : 9