امور داخلہ کی وزارت
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے وی ایچ پی کے سابق صدر اشوک سنگھل کی صد سالہ سالگرہ کی تقریبات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا
اشوک جی کی زندگی ان تمام خوبیوں—قربانی، سادگی، بے مثال حب الوطنی، دھرم سے عقیدت، اور جدوجہد کا حسین سنگم تھی، ان کے صد سالہ یومِ پیدائش کے موقع پر یہاں جمع ہونا ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے
اشوک جی اپنی زندگی کے ہر مرحلے پر ایک مثال رہے، ایک طالب علم، رضاکار اور پراچارک بننے سے لے کر وی ایچ پی کے بین الاقوامی صدر کے طور پر خدمات انجام دینے تک، انہوں نے اپنی پوری زندگی ہندوتوا کے لیے وقف کر دی اور اپنی آخری سانس تک اس پر قائم رہے
ایک خوشحال اور معزز خاندان میں پیدا ہونے کے باوجود، انہوں نے وی ایچ پی کے دفتر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہنے کا انتخاب کیا، وہاں گزارے ہوئے ان کے 20 سال آج بھی نوجوان کارکنوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں
اشوک جی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، ان کی قربانی، سادگی اور لگن اس صد سالہ یومِ پیدائش کے سال کے دوران کروڑوں نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ کا کام کرے گی
شدید علالت اور ضعیف العمری کے باوجود، جو جذبہ انہیں دن میں 16 گھنٹے کام کرنے پر ابھارتا تھا، وہ خالصتاً ان کی بے مثال حب الوطنی سے ہی آتا تھا
اشوک جی ہندو دھرم، ویدوں، اپنشدوں، بھارتی ثقافت اور سنتوں کی روایات کے لیے دل میں بے پناہ عقیدت رکھتے تھے، اور اپنی پوری زندگی پورے دل سے ان کے مقاصد کے لیے وقف رہے
اشوک جی کہا کرتے تھے کہ ہندو دھرم کو دنیا بھر میں پھیلایا جانا چاہیے، صرف اس لیے نہیں کہ ہم ہندو ہیں، بلکہ اس لیے کہ صرف ہندو دھرم ہی پوری دنیا کی فلاح و بہبود کی فکر کرتا ہے
رام جنم بھومی تحریک ان کے خیالات میں گہرائی تک رچی بسی تھی، ان کا ماننا تھا کہ ہندوستان دنیا میں عزت کا مقام تب ہی حاصل کرے گا جب غیر ملکی حکومت کے دور کی باقیات کو ہٹا دیا جائے گا اور ایک شاندار رام مندر تعمیر کیا جائے گا
ان کی ذاتی اور عوامی زندگی میں کوئی فرق نہیں تھا، ملک کے لیے جینے کے اصول کو دل میں اتارنے کے بعد، انہوں نے اپنی ذاتی زندگی کو اس عظیم مقصد سے جوڑ دیا تھا اور تنظیم کے کام کو ایک روحانی عبادت کے طور پر قبول کیا تھا
جب کوئی معاشرہ اپنے محسنین کو بھول جاتا ہے، تو ایک نظریاتی خلا پیدا ہوتی ہے، اور نوجوان اپنے ہیروز کو دور دراز کی تہذیبوں میں تلاش کرنے لگتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اشوک جی کی زندگی اور یہ صد سالہ یومِ پیدائش انتہائی اہمیت کے حامل ہیں
وزیرِ اعظم مودی جی کے برسرِ اقتدار آنے کے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 SEP 2026 7:40PM by PIB Delhi
امورِ داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج نئی دہلی میں وشو ہندو پریشد کے سابق صدر اشوک سنگھل کے یومِ پیدائش کی یاد میں منعقدہ صد سالہ سالگرہ کی تقریبات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔ اس موقع پر کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، امورِ داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ محترم اشوک جی کی صد سالہ تقریبات کے افتتاح کے موقع پر یہاں موجود ہونا ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اشوک جی سو سال پہلے پیدا ہوئے تھے اور اپنی زندگی کے ہر مرحلے پر ایک مثالی نمونہ رہے۔ ایک طالب علم کے طور پر انہوں نے کمال حاصل کیا؛ ایک سویم سیوک کے طور پر انہوں نے بہترین کارکردگی دکھائی؛ اور ایک پراچارک کے طور پر وہ اپنی منفرد شناخت بناتے رہے۔ جب انہیں وشو ہندو پریشد کی ذمہ داری سونپی گئی، تو انہوں نے اپنی آخری سانس تک غیر متزلزل لگن کے ساتھ ہندوتوا کے لیے وقف زندگی گزاری اور اپنے مشن میں کامیاب ہوئے۔ ایسی شخصیات شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ جناب شاہ نے کہا کہ سادگی، بے مثال حب الوطنی، دھرم سے عقیدت، سویم سیوک کے نظریے سے وابستگی اور جدوجہد کا جذبہ—یہ تمام خوبیاں اشوک جی کی زندگی میں ایک ساتھ سموئی ہوئی تھیں۔ وہ ایک انتہائی معزز اور خوشحال خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ایسے خاندان میں پیدا ہونے کے باوجود، وہ اپنی طرزِ زندگی میں مستقل مزاجی سے سادہ رہے، جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم رام جنم بھومی مندر کی تعمیر کے گواہ بنے ہیں، جس کے لیے پورا ہندو معاشرہ قربانیاں دے رہا تھا، جدوجہد کر رہا تھا اور اس لمحے کے لیے متحد ہو رہا تھا جس کا ساڑھے پانچ صدیوں سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وی ایچ پی کا وہ کمرہ، جہاں اشوک جی نے اپنی زندگی کے بیس سال گزارے، آج کارکنوں کے لیے تقریباً ایک نمائش گاہ کی طرح بن چکا ہے۔ اتنی سادگی کے ساتھ جینا اور ایسی بے مثال حب الوطنی کو برقرار رکھنا واقعی نایاب ہے۔
مرکزی وزیرِ داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ ضعیف العمری میں بھی اشوک جی دن میں 16 گھنٹے کام کیا کرتے تھے۔ ان کا واحد ذریعہِ تحریک ان کی بے مثال حب الوطنی تھی۔ اشوک جی ہندو دھرم، ویدوں، اپنشدوں، سنسکرت، ہندوستانی ثقافت اور سنتوں کی روایات کے لیے دل میں بے پناہ احترام رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی ان تمام کے لیے گہری عقیدت کا احساس برقرار رکھا۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر کوئی بھی شخص یا کوئی بھی چیز پوری کائنات کی فلاح و بہبود میں حصہ ڈال سکتی ہے، تو وہ ہندو دھرم، وید اور اپنشد ہیں۔ شانتی منتر کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ہندو دھرم کے مرتبے کو بلند کرنے اور اسے دنیا میں قائم کرنے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ ہم ہندو ہیں، بلکہ اس لیے تھا کہ ہندو دھرم پوری کائنات کی بھلائی کا تصور پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ گرو گولولکر جی کے الفاظ یہ تھے کہ ہمارے کام کی بنیاد صرف اور صرف بے غرض اور پاکیزہ محبت ہی ہو سکتی ہے، اور کچھ نہیں۔ ایسی عظیم الشان شخصیت اپنی پوری زندگی ایک سویم سیوک رہی۔ اشوک جی نے شہرت یا تشہیر کی خواہش کیے بغیر، ایک پراچارک کی زندگی کے ہر ضابطے کی وفاداری سے پیروی کی۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ جب جدوجہد کی بات آتی ہے، تو اشوک جی اپنے اسی جدوجہد کے جذبے کی وجہ سے ہر ایک میں جانے جاتے ہیں۔ رام جنم بھومی تحریک ان کے دل و دماغ میں گہرائی تک رچی بسی تھی۔ ان کا پختہ یقین تھا کہ ہندوستان دنیا میں عظمت اور وقار کا مقام صرف غلامی کے داغ کو مٹا کر اور ایک شاندار رام مندر تعمیر کر کے ہی حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی رام جنم بھومی تحریک کے لیے وقف کر دی۔ جناب شاہ نے کہا کہ جب اتر پردیش کی اس وقت کی حکومت نے بے رحمانہ لاٹھی چارج کا حکم دیا، تو اشوک جی بھیس بدل کر اگلی صفوں میں پہنچ گئے۔ وہ اس لاٹھی چارج میں زخمی بھی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اشوک جی کی اپنے گمچھے سے چہرے کا خون پونچھنے والی وہ تصویر نوجوانوں کے حافظے میں سو سال تک نقش رہنی چاہیے۔ سچی لگن اور لگاؤ کے اصل معنی کیا ہوتے ہیں، یہ اشوک جی کی زندگی اور ان کے کارناموں سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے۔
مرکزی وزیرِ داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ وشو ہندو پریشد، سنتوں کی تنظیم، رام جنم بھومی تحریک، مندر کی تعمیر اور سنگھ وہ موضوعات تھے جو اشوک جی کے دل کے سب سے زیادہ قریب تھے۔ انہوں نے ہمیشہ ان مقاصد کے بارے میں کھل کر بات کی اور انہیں آگے بڑھانے کے لیے کام کیا۔ یہ تمام ادارے اور مقاصد ان کی شناخت کی علامت بن گئے۔ وہ خود میں ایک ادارہ تھے۔ اشوک جی کی زندگی بہت سے نو عمر بچوں اور نوجوانوں کے لیے اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اشوک جی کے صد سالہ یومِ پیدائش کی یہ تقریب بہت سے نوجوانوں اور نو عمر بچوں کے لیے زندگی بھر تحریک کا ذریعہ بنے گی۔ ان کی زندگی کا نچوڑ، ان کی تپسیا، ان کی سادگی، ان کی لگن اور ان کی انتھک کوششیں ایسی خوبیاں ہیں جو ہر نوجوان کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔ ان کی زندگی کی یادیں قدرتی طور پر نوجوانوں کو بیدار اور متحرک کرتی رہیں گی۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ اشوک جی کی ذاتی اور عوامی زندگی میں کوئی فرق نہیں تھا۔ انہوں نے ملک کے لیے جینے کے نظریے کو اپنے دل میں اتار لیا تھا اور اپنی ذاتی زندگی کو مکمل طور پر اس اصول میں ضم کر دیا تھا۔ انہوں نے تنظیمی کام کو ایک روحانی عبادت کے طور پر قبول کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد محض اشوک جی کے نام کو یاد کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ صد سالہ سال ان کی خوبیوں کو ہر گھر، خاص طور پر نوجوانوں تک پہنچانے کی ایک مہم (کوشش) ہے۔ کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ کسی ایسے شخص کی صد سالہ سالگرہ منانے کی کیا ضرورت ہے جس نے کبھی تشہیر کی خواہش ہی نہیں کی؟ میں نہایت عاجزی سے کہوں گا کہ شکر گزاری محض ایک احساس نہیں ہے، بلکہ یہ ایک قومی ضرورت ہے۔ یہ صد سالہ یومِ پیدائش اس لیے ضروری ہے تاکہ پورا ملک اور دنیا بھر کے ہندو اشوک جی کے تئیں اپنی شکر گزاری کا اظہار کر سکیں۔ جب کوئی قوم اور معاشرہ اپنے ہیروز محسنین کو یاد نہیں رکھتا اور ان کی زندگی اور تعلیمات کو نوجوانوں تک پہنچانے میں ناکام رہتا ہے، تو ایک نظریاتی خلا پیدا ہوتی ہے۔ پھر نہ تو سامنے کوئی اعلیٰ مثالیں ہوتی ہیں، نہ کوئی سمت ہوتی ہے اور نہ ہی تحریک کا کوئی ذریعہ ہوتا ہے۔ لوگ پھر ہزاروں کلومیٹر دور کی تہذیبوں میں اپنے لیے ہیروز تلاش کرنے لگتے ہیں۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ معاشرے میں نظریاتی خلا پیدا نہ ہونے دیا جائے، عوام کے سامنے بہترین مثالیں پیش کی جائیں، اور اشوک جی کی زندگی انہیں صحیح سمت اور تحریک فراہم کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا صد سالہ یومِ پیدائش منانا انتہائی اہم ہے۔
امورِ داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ آج ہم نے مختلف خدماتی اقدامات کی پیشکشیں دیکھیں جو ہندوتوا روح کو ظاہر کرتی ہیں، جن میں سنت رویداس جی اور مہارشی والمیکی جی کے مندروں میں پرارتھنا، پریاگ راج میں گنگا آرتی، گنگا کا تحفظ، گوماتا کی خدمت، رام سیتو تحریک کی یادگار بنانا، اور ایودھیا میں مصنوعی اعضاء کا عطیہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 11 شری رام استمبھوں کا ڈیجیٹل افتتاح بھی کیا گیا۔ یہ ستون مریادا پروشوتم شری رام کے بن باس کے دوران اختیار کیے گئے راستے کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ ایک لفظ بھی کہے بغیر، یہ ستون آنے والی نسلوں تک شری رام ون گمن پتھ کا پیغام اور شری رام کی خوبیوں کو لوگوں تک پہنچاتے رہیں گے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ اس بات کا افسوس ضرور ہے کہ اشوک جی، جنہوں نے رام جنم بھومی تحریک کی جدوجہد کے لیے خود کو وقف کر دیا تھا، نہ تو بھومی پوجن دیکھ سکے اور نہ ہی مندر کو مکمل ہوتے دیکھ پائے۔ تاہم، انہوں نے کبھی اس مقصد کے ساتھ کام نہیں کیا تھا کہ وہ اپنی ہی زندگی میں اپنی کوششوں کا نتیجہ دیکھیں۔ وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ یہ نسلوں پر محیط ایک جدوجہد ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان گنت لوگ لڑیں گے، کئی نسلیں گزر جائیں گی، اور تب ہی جا کر فتح حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اشوک جی کی روح جہاں کہیں بھی ہوگی، وہ یہ محسوس کر رہی ہوگی کہ 2014 میں ملک کے اندر آنے والی تبدیلی نے طرزِ حکومت کا رخ بدل دیا۔ وزیرِ اعظم مودی جی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد، محض پانچ سال کے اندر حکومتی رکاوٹیں دور کر دی گئیں، اور بغیر کسی خون خرابے کے پربھو شری رام کا شاندار مندر تعمیر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف ملک کے لیے، بلکہ دنیا بھر میں شری رام کے تمام عقیدت مندوں کے لیے بھی امن اور اطمینان کا باعث ہے۔
مرکزی وزیرِ داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ وہ اشوک جی کے اس یقین سے اتفاق کرتے ہیں کہ رام مندر کی تعمیر ہندوستان کی ترقی کے لیے ایک نیا راستہ کھولے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نظریات، ہماری ثقافت، ہمارا دھرم اور اس کی خوبیاں دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اشوک جی کا ماننا تھا کہ انسان کو ہندوتوا پر قائم رہنا چاہیے کیونکہ پوری کائنات کی فلاح و بہبود صرف ہندوتوا کے اصولوں کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ملک کے نوجوان آنے والی نسلوں تک اشوک جی کی شخصیت، زندگی، خدمات اور ان کے الفاظ سے اقدار اور تحریک حاصل کرتے رہیں گے۔
***
ش ح –ا ب ن
U.No:4189
(ریلیز آئی ڈی: 2315650)
وزیٹر کاؤنٹر : 6