صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں مرکزی سکریٹریٔ صحت پونیا سلیلا سری واستو نے عالمی وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے تیاری اور ردِعمل کو مضبوط بنانے کے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا


محترمہ سری واستو نے عالمی ادارۂ صحت کے وبائی معاہدے کے تحت جراثیم تک منصفانہ رسائی اور فوائد کی منصفانہ تقسیم پر زور دیا

کووِڈ-19 کے دوران بھارت نے تقریباً 100 ممالک کو 300 ملین ویکسین کی خوراکیں فراہم کیں اور 150 سے زائد ممالک کو طبی امداد فراہم کی: محترمہ پونیا سلیلا سری واستو

محترمہ سری واستو نے اس بات پر زور دیا کہ وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے مرکز میں مساوات اور عالمی یکجہتی ہونی چاہیے

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے عالمی وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری کو مضبوط بنانے کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 SEP 2026 9:16AM by PIB Delhi

25 ستمبر کو نیویارک میں منعقدہ اقوامِ متحدہ کے ’’وبائی امراض کی روک تھام، تیاری اور ردِعمل‘‘ کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھارت کی نمائندگی کرتے ہوئے مرکزی سکریٹریٔ صحت پونیا سلیلا سری واستو نے بین الاقوامی تعاون کے ذریعے عالمی صحت کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے ملک کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ کووِڈ-19 وبا سے حاصل ہونے والے اسباق کو مسلسل سرمایہ کاری، ادارہ جاتی صلاحیت اور مضبوط و لچک دار صحت کے نظام میں ڈھالا جائے۔

اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ سری واستو نے وبائی امراض کی روک تھام اور ان سے نمٹنے کے لیے حکومت اور معاشرے کے مختلف شعبوں پر مشتمل بھارت کے مربوط طریقۂ کار کی وضاحت کی، جس میں ممکنہ صحت کی ہنگامی صورتِ حال کی ایک وسیع ریج شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تجربہ گاہوں کے نیٹ ورک، ہنگامی حالات میں باہمی رابطے اور تال میل، طبی افرادی قوت، ضروری طبی ذخائر اور مریضوں کے علاج کی صلاحیت کو وسعت دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ صحت سے متعلق ہنگامی حالات سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے نظام پوری طرح تیار ہوں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260926091719_f39d95.jpg

انہوں نے کہا کہ ان تمام کوششوں کی بنیاد قومی صحت کے نظام، ترقیاتی منصوبوں اور ملکی مالی وسائل پر ہونی چاہیے، جبکہ بین الاقوامی تعاون قومی ذمہ داری کو مزید تقویت پہنچانے کا ذریعہ بنے۔

کووِڈ-19 کے دوران بھارت کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے محترمہ سری واستو نے زور دیا کہ ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کو عالمی عوامی مفاد کی ایک مشترکہ سہولت کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وبا کے دوران نگرانی، ویکسین کاری، خطرات سے متعلق معلومات کی ترسیل، رسد کے نظام اور صحت کی خدمات کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں ڈیجیٹل ذرائع نے اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے یکجہتی اور ضروری طبی مصنوعات تک منصفانہ رسائی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ کووِڈ-19 وبا کے دوران بھارت نے تقریباً 100 ممالک اور اقوامِ متحدہ کے 2 اداروں کو 300 ملین ویکسین کی خوراکیں فراہم کیں، جبکہ 150 سے زائد ممالک کو طبی امداد بھی فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ’’ایک زمین، ایک صحت‘‘ کے اصول اور عالمی جنوب کے تئیں بھارت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image002_20260926091730_3a7d0f.jpg

مئی 2025 میں منظور کیے گئے عالمی ادارۂ صحت کے وبائی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی سکریٹریٔ صحت نے اسے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا اور زور دیا کہ اس معاہدے کی ساکھ کا انحصار جراثیم تک رسائی اور فوائد کی منصفانہ تقسیم کے ایک منصفانہ نظام پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک جراثیم اور حیاتیاتی وسائل فراہم کرتے ہیں، انہیں قومی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے ویکسین، تشخیصی سہولیات، علاج کی ادویات، ٹیکنالوجی اور دیگر فوائد تک بروقت رسائی ملنی چاہیے۔

محترمہ سری واستو نے مزید کہا کہ سیاسی اعلامیے میں جراثیم تک رسائی اور فوائد کی تقسیم کے ضمیمے سے متعلق جاری مذاکرات کے نتائج کو پہلے سے متعین نہیں کیا جانا چاہیے اور اسے ملکی حالات اور صلاحیتوں کے مطابق نافذ کیا جانا چاہیے۔ ’’ایک صحت‘‘ کے نقطۂ نظر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اسے مناسب طور پر ملکی قانون، بین الاقوامی قانون اور قومی حالات کے مطابق نافذ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے وبائی امراض کی روک تھام، تیاری اور ردِعمل سے متعلق ذرائع، جائزوں اور اعداد و شمار کا جائزہ لینے اور انہیں یکجا کرنے میں رکن ممالک کے کردار کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے تمام عمل رکن ممالک سے مشاورت کے بعد انجام دیے جانے چاہئیں، کیونکہ ان کے پالیسی سے متعلق اہم اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اپنی تقریر کے اختتام پر محترمہ سری واستو نے کہا کہ وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور مستقبل کی وباؤں اور بیماریوں کے پھیلاؤ سے نمٹنے کی کوششوں میں مساوات کو مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’عالمی یکجہتی کا اظہار عملی اقدامات کے ذریعے ہونا چاہیے۔‘‘

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے کووِڈ-19 کے بعد عالمی صحت کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کیا، جس میں عالمی ادارۂ صحت کا وبائی معاہدہ اور بین الاقوامی صحت ضوابط میں کی گئی ترامیم شامل ہیں۔ انہوں نے جراثیم تک رسائی اور فوائد کی منصفانہ تقسیم کے نظام سے متعلق مذاکرات کو فوری طور پر مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تاخیر سے مستقبل میں وبائی امراض سے نمٹنے کی دنیا کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image003_20260926091741_ce1e55.jpg

اقوامِ متحدہ کی نائب سکریٹری جنرل امینہ محمد نے کووِڈ-19 کے بعد غفلت یا اطمینانِ خاطر سے بچنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس معاملے پر مسلسل سیاسی توجہ برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے ابتدائی مرحلے میں بیماریوں کے پھیلاؤ کا پتہ لگانے، نگرانی کرنے اور معلومات کی ترسیل کے لیے برادری پر مبنی نظام کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ ابھرنے والی وباؤں کی بروقت شناخت کی جا سکے اور انہیں ابتدائی مرحلے ہی میں قابو میں لایا جا سکے۔

اعلیٰ سطحی اجلاس نے رکن ممالک اور متعلقہ فریقوں کو پیش رفت کا جائزہ لینے، درپیش چیلنجوں کی نشاندہی کرنے اور مستقبل میں صحت سے متعلق ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مضبوط، منصفانہ اور پائیدار نظام کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کو ازسرِنو تقویت دینے کا موقع فراہم کیا۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-4140


(ریلیز آئی ڈی: 2315255) وزیٹر کاؤنٹر : 6