زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
آئی سی اے آر—سی ایم ایف آر آئی نے صارفین کو مخصوص خطے سے پیراسائٹس کے انفیکشن کی اطلاعات کے باعث ٹونا مچھلی سے پرہیز نہ کرنے کا مشورہ دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 SEP 2026 4:57PM by PIB Delhi
آئی سی اے آر-سینٹرل میرین فشریز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( ٓئی سی اے آر—سی ایم ایف آر آئی ) ، کوچی نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ کسی مخصوص جغرافیائی خطے میں مچھلیوں میں پیراسائٹک انفیکشن کی اطلاعات کی بنیاد پر ٹونا یا دیگر عام دستیاب مچھلیوں سے پرہیز نہ کریں۔ ادارے کے مطابق ہندوستانی ساحل سے پکڑی جانے والی مچھلیوں، بشمول ٹونا، کے معائنے کے دوران نقصان دہ پیراسائٹس کے انفیکشن کی کوئی بیرونی علامات سامنے نہیں آئیں۔ اس لیے دوسرے خطوں میں سامنے آنے والی ایسی اطلاعات کو ہندوستانی آبی حدود میں پکڑی جانے والی مچھلیوں پر لاگو نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ وضاحت ان رپورٹس کے بعد سامنے آئی ہے جن میں اسکیپ جیک ٹونا میں پیراسائٹس کی موجودگی کا ذکر کیا گیا تھا۔ یہ نتائج برازیل کے ساحل کے قریب بحرِ اوقیانوس سے حاصل ہونے والی مچھلیوں کے ایک مطالعے پر مبنی تھے۔
آئی سی اے آر—سی ایم ایف آر آئی نے واضح کیا کہ مچھلیوں میں پیراسائٹس کی موجودگی اور ان کی تعداد مختلف مچھلیوں اور مختلف جغرافیائی علاقوں میں الگ الگ ہو سکتی ہے۔ اس کا انحصار ماحولیاتی حالات اور درمیانی یا ثانوی عوامول، جیسے کوپ پوڈز (چھوٹے آبی جانداروں)، کی دستیابی پر بھی ہوتا ہے۔

آئی سی اے آر-سی ایم ایف آر آئی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر گرنسن جارج نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ کے سائنس دان مچھلی کے حیاتیاتی مطالعے کے ضمن میں باقاعدگی سے مچھلیوں بشمول اسکیپ جیک ٹونا کا معائنہ کرتے ہیں اور جب بھی ضروری ہو ان کی غیر معمولی حالت اور پیراسائٹس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے جانچ کی جانے والی مچھلیوں میں نقصان دہ پیراسائٹک انفیکشن کے بیرونی مظاہر نہیں پائے گئے ہيں۔
انسٹی ٹیوٹ نے مزید وضاحت کی کہ پیراسائٹس کی موجودگی میں تغیرات کو بھی عالمی سطح پر مچھلیوں کے ذخیرے یا آبادی میں فرق کرنے کے اشارے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ لہذا، مخصوص جغرافیائی علاقے کی مچھلی سے متعلق نتائج بدیہی طور پر دوسرے خطے میں پائے جانے والے اسی نوع پر لاگو نہیں ہوسکتے ہیں۔
خوراک کی حفاظت کے لیے اضافی احتیاط کے طور پر، آئی سی اے آر-سی ایم ایف آر آئی نے مشورہ دیا کہ مچھلی کو سنبھالنے اور پروسیسنگ کے دوران مناسب اور فوری احتیاط ضروری ہے۔ صفائی اور پروسیسنگ کے دوران عام طور پر آنتوں اور دیگر اجزاء کو ہٹا دیا جاتا ہے۔ مناسب کھانا پکانے سے پیراسائٹس کو بھی مارا جاتا ہے اور کھانے کی حفاظت سے متعلق کسی بھی خطرے کو نمایاں طور پر کم کر دیتا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ نے واضح کیا کہ کچھ ممالک میں کچا یا ہلکا پکا ہوا سمندری غذا ثقافتی طریقوں کے تحت کھائی جاتی ہے، جہاں خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے اگر مخصوص علاقے میں پیراسائٹس کا پھیلاؤ زیادہ ہو اور اس کا صحیح اندازہ نہ لگایا گیا ہو۔ ہندوستان میں، سمندری غذا عام طور پر اعلی درجہ حرارت پر تیار کی جاتی ہے، جو خوراک کی حفاظت کا ایک اضافی اقدام فراہم کرتا ہے۔
آئی سی اے آر-سی ایم ایف آر آئی نے اس بات پر زور دیا کہ صارفین کو ٹونا یا تجارتی طور پر دستیاب دیگر مچھلیوں سے محض اس لیے پرہیز کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کسی مخصوص جغرافیائی علاقے سے مچھلی میں پیراسائٹک انفیکشن کی اطلاع ملی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ مچھلی اور دیگر سمندری غذا کی غذائیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لیے مناسب ہینڈلنگ، صفائی اور کھانا پکانے کے طریقوں پر عمل کریں۔
*****
UN NO : 4030
ش ح۔ م ش ع۔ خ م
(ریلیز آئی ڈی: 2314649)
وزیٹر کاؤنٹر : 6