نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن نے ’وشوسنچار ہندوتو کا‘ نامی کتاب کا اجراء کیا؛ انہوں نے کہا کہ ہندوتو کسی کے خلاف نہیں؛ یہ سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے


ایک تہذیب تبھی ترقی کرتی ہے جب وہ تبدیلی کو قبول کرتی ہے اور ساتھ ہی اپنی بنیادی اقدار، ثقافت اور اخلاقیات کو برقرار رکھتی ہے: نائب صدر جمہوریہ

آر ایس ایس ایک معمولی شروعات سے ایک عالمی تنظیم کی شکل اختیار کر چکا ہے: نائب صدر جمہوریہ

نائب صدر جمہوریہ نے نوجوانوں سے بھارت کے مالامال تہذیبی ورثے کو پڑھنے، سوال کرنے اور سمجھنے کی اپیل کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 SEP 2026 5:47PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج اُپ راشٹرپتی بھون میں ساپتاہک وویک کے ذریعہ شائع کردہ ’وشوسنچار ہندوتو کا‘ نامی کتاب کا اجراء کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، نائب صدر جمہوریہ نے 1948 میں قائم کردہ 'ساپتاہک ویویک' کی طویل تاریخ اور مہاراشٹر کی سماجی، ثقافتی اور عوامی زندگی میں اس کے کردار کا ذکر کیا۔ انہوں نے بھارت کی ثقافت، قومی و بین الاقوامی امور اور اہم سماجی سوالات پر کتابیں اور تحقیقی لٹریچر شائع کرنے کی اس کی روایت کو سراہا۔

نائب صدر نے کہا کہ اس کتاب کی اشاعت خاص طور پر عین وقت پر ہوئی ہے کیونکہ 1925 میں ناگپور میں ڈاکٹر کیشو بالی رام ہیڈگیوار کے ذریعے قائم کردہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے اپنے سو سال مکمل کر لیے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’میں طویل عرصے سے سنگھ سے جڑا رہا ہوں اور اس کتاب کے اجراء کا حصہ ہونا میرے لیے ذاتی اعزاز کی بات ہے۔‘‘

نائب صدر نے کہا کہ آر ایس ایس کا قیام ثقافتی ہندوتوا کو بیدار کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا اور ڈاکٹر کیشو بالی رام ہیڈگیوار نے ہندوتوا اور سنگھ کے درمیان تعلق پر زور دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ صد سالہ جشن ایک ایسی تنظیم سے وابستہ تاریخ، نظریات اور طریقہ کار پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو ایک طویل عرصے کے دوران پروان چڑھی ہے۔ انہوں نے اس بات کا مشاہدہ بھی کیا کہ سنگھ کا طریقہ کار وقت کی کسوٹی پر پورا اترا ہے، جس کی بدولت یہ سماجی زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی موجودگی کے ساتھ ایک اہم تنظیم کے طور پر قائم ہونے میں کامیاب ہوئی ہے۔

ہندوتو کے مبنی بر شمولیت کردار کو اجاگر کرتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا، ’’ہندوتو کسی کے خلاف نہیں ہے۔ ہندوتو کسی کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ یہ سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ثقافتی ہندوتوا بنیادی اقدار، ثقافتی نظریات، حقیقی انسانی رشتوں اور آفاقی فلاح و بہبود کے تصور کے اتحاد کی نمائندگی کرتا ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ لفظ "ہندوتو" نے مختلف تاریخی اور فکری سیاق و سباق میں مختلف معنی حاصل کیے ہیں، اور سیاسی مفکرین، اسکالرز، تنظیموں اور ناقدین کی طرف سے اس کی مختلف انداز میں تشریح کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے اس موضوع پر سنجیدہ گفتگو کے لیے اس کے تاریخی ارتقاء، فلسفیانہ پہلوؤں اور اس کے ارد گرد موجود مختلف تشریحات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

گنگا ندی کی مثال دیتے ہوئے، نائب صدر نے کہا کہ یہ دریا ہمالیہ میں ایک چھوٹی ندی کے طور پر شروع ہوتا ہے اور جیسے جیسے یہ آگے بڑھتا ہے اور خلیج بنگال تک پہنچتا ہے، یہ بڑے بڑے جہازوں کو بھی لے جانے کے قابل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سفر کو بھی اسی طرح ایک غیر معمولی یا نمایاں توسیع کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ سنگھ کی شروعات چند لوگوں کے ساتھ ایک چھوٹی تنظیم کے طور پر ہوئی تھی۔ آج یہ ایک عالمی تنظیم بن چکی ہے اور پورے ملک میں پھیل چکی ہے، جس کے سویم سیوک قومی اور سماجی زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا تعاون دے رہے ہیں۔ ‘‘

جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ یوگا، ایک قدیم ہندوستانی روایت سے اب ایک عالمی طرزِ عمل بن چکا ہے اور یہ اس بات کی نمائندگی کرتا ہے کہ کس طرح ایک ہندوستانی روایت اپنے جغرافیائی اور ثقافتی دائرے سے باہر نکل کر ایک وسیع تر عالمی گفتگو کا حصہ بن سکتی ہے۔

نائب صدر نے کہا کہ لفظ "وشو سنچار" دنیا بھر میں نظریات کی منتقلی اور پیغام رسانی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب قارئین کو اس بات کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے کہ کس طرح بھارت کے ثقافتی ورثے کے عناصر نے سفر کیا، دوسرے معاشروں کے ساتھ تال میل قائم کیا اور نئے روپ اور معنی حاصل کیے۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ بھارت کے امیر ثقافتی ورثے کو پڑھیں، اس پر سوال اٹھائیں، تحقیق کریں اور اسے سمجھیں، جبکہ ان آئینی اقدار اور جمہوری اداروں سے بھی باخبر رہیں جو ہمارے حال کو سنوارتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’ ایک تہذیب تبھی پھلتی پھولتی اور پروان چڑھتی ہے جب اس میں اپنی بنیادی اقدار، ثقافت اور اخلاقیات میں جڑے رہتے ہوئے تبدیلی کو اپنانے کا اعتماد ہوتا ہے۔‘‘

جناب سی پی رادھا کرشنن نے ’وشو-سنچار ہندوتو کا‘ کو منظرعام پر لانے کے لیے مصنفین، محققین، مدیران اور ساپتاہک وویک کی مکمل ٹیم کو مبارکباد دی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کتاب بھارت کے ثقافتی سفر کے گہرے مطالعے کی حوصلہ افزائی کرے گی اور ہندوتوا، ثقافتی شناخت اور دنیا کے ساتھ بھارت کے تعلقات پر سنجیدہ بحث و مباحثے کو فروغ دے گی۔

اس موقع پر موجود معززین میں جناب ونود تاوڑے، رکن پارلیمنٹ، راجیہ سبھا؛ جناب شیو شنکر، منیجنگ ڈائرکٹر، سویوگ ٹیلی میٹک لمیٹڈ، ممبئی؛ جناب رویندر گولے، مدیر، ساپتاہک وویک؛ اور دیگر حضرات موجود تھے۔

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:4045


(ریلیز آئی ڈی: 2314584) وزیٹر کاؤنٹر : 12