صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
بھارت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں عالمی سطح پر صحت کی کوریج، ہیپاٹائٹس کے خاتمے اور سکل سیل کیئر کے شعبوں میں پیش رفت کو اجاگر کیا
بھارت نے عالمی سطح پر صحت کی کوریج کو آگے بڑھانے میں آیوشمان آروگیہ مندروں، اے بی-پی ایم جے اے وائی اور ای-سنجیونی کی کامیابیوں کو اجاگر کیا
1.8 لاکھ سے زیادہ آیوشمان آروگیہ مندر، 90 کروڑ سے زائد منفرد صحت شناختی کارڈ اور 49.7 کروڑ سے زیادہ ٹیلی مشاورت کے ذریعے بھارت عالمی سطح پر صحت کی کوریج کو توسیع دے رہا ہے: مرکزی صحت سکریٹری
مرکزی صحت سکریٹری محترمہ پنیا سلیلا سریواستو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں 2030 تک ہیپاٹائٹس کے خاتمے کی جانب بھارت کی پیش رفت کو اجاگر کیا
بھارت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں OneSCD کے آغاز کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ ہاتھ ملایا، سکل سیل کی یکساں اور قابل رسائی نگہداشت کو فروغ دیا
بھارت نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں ون ایس سی ڈی عالمی شراکت داری کے آغاز کے موقع پر سکل سیل کے خلاف جامع اقدامات اور 2047 تک اس کے خاتمے کے ہدف کو اجاگر کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 SEP 2026 12:36PM by PIB Delhi
بھارت نے سب کے لیے معیاری صحت خدمات کو قابل رسائی اور کم خرچ بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس (یو این جی اے 81) کے موقع پر منعقدہ صحت سے متعلق دو اہم عالمی اجلاسوں میں بھارت نے عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور ترجیحی صحت چیلنجوں سے نمٹنے کے اپنے تجربات بھی پیش کیے۔
مرکزی صحت سکریٹری محترمہ پنیا سلیلا سریواستو نے صحت کی یکساں کوریج (یو ایچ سی) اور عالمی صحت کے دوست ممالک کے گروپ کے ساتویں سالانہ وزارتی اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے بنیادی صحت خدمات سے لے کر ثانوی اور ثالثی سطح کی صحت خدمات تک صحت خدمات کی فراہمی کے پورے نظام کو مضبوط بنانے اور لوگوں کو مالی مشکلات سے محفوظ رکھنے کے لیے بھارت کی کوششوں کو اجاگر کیا۔
انہوں نے بھارت میں قائم 1.8 لاکھ سے زیادہ آیوشمان آروگیہ مندروں کے وسیع نیٹ ورک کو اجاگر کیا، جو مختلف النوع صحت خدمات کو لوگوں کی رسائی کے تحت لارہے ہیں ۔ ان خدمات میں تولیدی اور بچوں کی صحت، غیر متعدی امراض کی جانچ اور ان کا انتظام، دماغی صحت، بزرگوں کی نگہداشت اور اواخر عمر کی نگہداشت کے ساتھ ساتھ احتیاطی، صحت افزا اور علاج پر مبنی صحت خدمات شامل ہیں۔ انہوں نے بنیادی صحت خدمات کی فراہمی میں معیاری ضوابط پر مسلسل توجہ دینے کی بھی نشاندہی کی۔

محترمہ سریواستو نے کمزور اور محروم طبقات کو مالی تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں سرکاری مالی اعانت سے چلنے والی صحت کی ضمانت کی اسکیم آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی-پی ایم جے اے وائی) کے رول کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مریضوں پر مالی بوجھ کم کرنے اور ضروری صحت خدمات تک رسائی بہتر بنانے میں مفت ادویات اور تشخیصی خدمات کی پہل اور پردھان منتری قومی ڈائلاسس پروگرام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
نگہداشت کے مربوط نظام کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کا طریقہ کار آیوشمان آروگیہ مندروں کے ذریعے جامع بنیادی صحت خدمات کو ثانوی اور ثالثی سطح کی صحت خدمات سے مربوط کرتا ہے، جس کے لیے مریضوں کو ضرورت کے مطابق اعلی سطحی مراکز تک بھیجنے کا مربوط نظام موجود ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد احتیاطی، صحت افزا اور علاج پر مبنی خدمات کو لوگوں کے قریب پہنچانا اور ضرورت پڑنے پر خصوصی طبی نگہداشت تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
بھارت کے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل صحت نظام کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی صحت سکریٹری نے بتایا کہ 90 کروڑ سے زیادہ شہریوں کے پاس منفرد صحت منفرد شناخت کارڈ موجود ہے۔ صحت مراکز اور صحت سے متعلق پیشہ ور افراد کے باہمی مطابقت رکھنے والے ڈیجیٹل رجسٹر اور اے بی ایچ اے سے منسلک صحت ریکارڈ نگہداشت کے تسلسل کو مضبوط بنانے اور صحت خدمات تک رسائی آسان بنانے میں مدد کر رہے ہیں۔
انہوں نے صحت خدمات میں جغرافیائی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کو بھی اجاگر کیا۔ ای-سنجیونی کے ذریعے 49.7 کروڑ سے زیادہ ٹیلی مشاورت فراہم کی جا چکی ہیں۔ اس کے ساتھ ٹیلی ریڈیولوجی، مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ایکس رے خدمات اور موبائل طبی یونٹس جیسی خدمات اور اختراعات بھی دور دراز اور صحت خدمات سے محروم علاقوں کے لوگوں تک طبی سہولیات پہنچانے میں مدد کر رہی ہیں۔
ہیپاٹائٹس کے مکمل خاتمے کے لیے عالمی اقدامات کو آگے بڑھانے کے موضوع پر یو این جی اے 81 کے موقع پر منعقدہ اجلاس میں بھارت کا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے مرکزی صحت سکریٹری نے 2030 تک ہیپاٹائٹس بی اور سی کو عوامی صحت کے لیے خطرہ بننے والی بیماریوں کے زمرے سے ختم کرنے کے ہدف کے تئیں ملک کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس ہدف کی جانب پیش رفت تیز کرنے کے لیے بروقت تشخیص، کفایتی علاج تک رسائی اور روک تھام و نگہداشت کے مربوط طریقہ کار کی اہمیت پر زور دیا۔
قومی صحت مشن (این ایچ ایم) کے تحت تقریباً 1.80 لاکھ بنیادی صحت مراکز، بشمول صحت و تندرستی مراکز، سے لے کر ثالثی سطح کی طبی سہولیات تک وائرل ہیپاٹائٹس کی اسکریننگ کی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس پروگرام کو مزید وسعت دیتے ہوئے 1,039 علاج مراکز تک یہ خدمات فراہم کی گئی ہیں ۔ 2018 میں قومی وائرل ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے آغاز کے بعد سے تقریباً 22.5 کروڑ مستفیدین کی اسکریننگ کی جا چکی ہے۔

محترمہ سریواستو نے قومی صحت کے مختلف پروگراموں میں وائرل ہیپاٹائٹس سے متعلق اقدامات کو شامل کرکے روک تھام کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ ان اقدامات میں تولیدی، زچگی، نوزائیدہ، بچوں اور نوعمروں کی صحت کے فریم ورک کے تحت ماں سے بچے میں بیماری کی منتقلی کو روکنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہیپاٹائٹس کے خاتمے کی جانب مسلسل پیش رفت کے لیے خدمات تک رسائی کو وسعت دینے، بروقت تشخیص کو فروغ دینے اور وقت پر علاج کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ صحت کے نظام کو مضبوط کرنا اور موجودہ عوامی صحت پروگراموں میں مختلف اقدامات کو مربوط کرنا ضروری ہوگا۔
یو این جی اے 81 کے موقع پر منعقدہ ایک اور اہم عالمی صحت اجلاس میں بھارت نےون سی ایس ڈی : سکل سیل کیئر کے سلسلے میں یکساں دیکھ بھال تک رسائی کو فروغ دینے اور اسے تبدیل کرنے کے لیے عالمی شراکت داری کے آغاز کی مشترکہ میزبانی کی۔ اس میں سکل سیل بیماری (ایس سی ڈی) سے نمٹنے کے لیے عالمی ردعمل کو مضبوط بنانے کی غرض سے دنیا بھر کے شراکت داروں نے شرکت کی۔
اس پہل میں نائجیریا کی حکومت، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، یونیسف، افریقہ سی ڈی سی، ورلڈ کولیشن آن سکل سیل ڈیزیز اور سینٹ جوڈ چلڈرنز ریسرچ ہاسپٹل سمیت مختلف شراکت دار شامل ہوئے۔ اس شراکت داری کا مقصد سکل سیل کی نگہداشت کے لیے زیادہ مساوی اور قابل رسائی طریقہ کار کو فروغ دینا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ پنیا سلیلا سریواستو نے سکل سیل بیماری سے نمٹنے کے لیے بھارت کے جامع اقدامات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ قومی سکل سیل انیمیا کے خاتمے کےمشن کا آغاز 2023 میں معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں کیا گیا تھا، جس کا مقصد 2047 تک سکل سیل انیمیا کو عوامی صحت کے مسئلے کے طور پر ختم کرنا ہے۔

انہوں نے بھارت کے اس طریقہ کار کی وضاحت کی جس کے تحت آبادی کی سطح پر اسکریننگ، بروقت تشخیص، مشاورت، علاج، بعد از علاج نگرانی اور ڈیجیٹل ریکارڈ رکھنے کے نظام کو عوامی صحت کے نظام میں مربوط کیا گیا ہے۔ مشن کا مقصد بیماری اور جینیاتی کیریئر کی حیثیت کی بروقت شناخت، مناسب مشاورت کی سہولت فراہم کرنا اور سکل سیل بیماری کی تشخیص والے افراد کو مسلسل طبی نگہداشت سے جوڑے رکھنا ہے۔
مشن کے تحت 7.29 کروڑ سے زیادہ افراد کی اسکریننگ کی جا چکی ہے، 20 لاکھ سے زیادہ کیریئرز کی شناخت کی گئی ہے اور 2.5 لاکھ افراد میں بیماری کی تشخیص ہوئی ہے، جبکہ 4.93 کروڑ سے زیادہ سکل سیل کارڈ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ ان کوششوں سے طبی نگہداشت کے تسلسل کو مضبوط بنانے اور افراد، خاندانوں اور برادریوں میں اس بیماری کے بارے میں زیادہ بیداری پیدا کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
مرکزی صحت سکریٹری نے کفایتی اور فوری تشخیصی جانچوں اور ہائیڈروکسی یوریا تھراپی تک رسائی بڑھانے کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ اس کے ساتھ مقامی طور پر تیار کی جانے والی جین ایڈیٹنگ تھراپی کے لیے تحقیق بھی جاری ہے۔ انہوں نے سکل سیل بیماری سے متاثر افراد کے لیے بروقت تشخیص، مناسب علاج اور مسلسل طبی نگرانی کی اہمیت پر زور دیا۔

ان دونوں اجلاسوں میں بھارت کی شرکت اس کی صحت کے ایسے مضبوط نظام کی تعمیر کے لیے جاری کوششوں کی عکاسی کرتی ہے جو جغرافیائی اور سماجی و معاشی حالات سے قطع نظر لوگوں کے لیے قابل رسائی ہوں۔ جہاں ہر ایک کے لیے صحت کی یکساں کوریج سے متعلق بات چیت میں جامع، کفایتی اور ڈیجیٹل سہولیات سے لیس صحت خدمات کے قیام پر توجہ مرکوز کی گئی، وہیں ون ایس سی ڈی پہل نے سکل سیل بیماری سے نمٹنے کے لیے مسلسل عالمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
بھارت نے مساوی، سستی اور عوام پر مرکوز صحت خدمات کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی بھارت نے ایسے تجربات اور طریقہ کار کا تبادلہ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا جو دنیا بھر میں صحت کے نظام کو مزیدمستحکم بنانے اور صحت کے بہتر نتائج حاصل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
*******
) ش ح – ش ب -ت ا )
U.No. 4015
(ریلیز آئی ڈی: 2314317)
وزیٹر کاؤنٹر : 10