نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھاکرشنن نے بھارت منڈپم میں نویں انڈیا انٹرنیشنل واٹر ویک 2026 کا افتتاح کیا
نائب صدر نے آبی وسائل کے دانش مندانہ استعمال، تحفظ اور مربوط انتظام پر زور دیا
’’جل سرکشا سے جن سرکشا اور راشٹر سرکشا کی راہ ہموار ہوگی‘‘: نائب صدر
آج کے آبی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہندوستان کی روایتی دانش مندی قیمتی سبق فراہم کرتی ہے: نائب صدر
پانی کی بچت کے چھوٹے چھوٹے اقدامات بھی انسانیت اور دنیا کے مفاد میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں: نائب صدر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 SEP 2026 2:40PM by PIB Delhi
ہندوستان کے نائب صدر جناب سی پی رادھاکرشنن نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں نویں انڈیا انٹرنیشنل واٹر ویک (آئی آئی ڈبلیو ڈبلیو) 2026 کا افتتاح کیا۔ جل شکتی کی وزارت کے زیر اہتمام 22 سے 26 ستمبر تک منعقد ہونے والی یہ پانچ روزہ تقریب ’’آب و ہوا کی تبدیلیوں کے مقابل لچک دار آبی انتظام‘‘یعنی کلائمیٹ ریزیلینٹ واٹر مینجمنٹ کے موضوع پر مرکوز ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ پانی زندگی اور تہذیبوں کی بنیاد ہے۔ انہوں نے پانی کے دانش مندانہ استعمال، تحفظ اور مؤثر انتظام کی ضرورت پر زور دیا۔
تمل ناڈو میں اپنے بچپن کے تجربات کو یاد کرتے ہوئے جناب سی پی رادھاکرشنن نے کہا کہ انہوں نے خود پانی کی قلت دیکھی ہے اور لوگوں تک پینے کا صاف پانی پہنچانے کو دی جانے والی اہمیت کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا، ’’پانی کی بچت انسانیت اور پوری دنیا کے لیے انتہائی اہم ہے۔‘‘
نائب صدر نے یاد کیا کہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ قبل انہوں نے تمل ناڈو بھر میں 19,000 کلومیٹر طویل رتھ یاترا کی تھی، جس کا ایک مقصد دریاؤں کو آپس میں جوڑنے، پانی کے تحفظ اور آبی وسائل کے مناسب انتظام کے بارے میں بیداری پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دریاؤں کو آپس میں جوڑنے سے ان حالات سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے جب کچھ علاقوں کو سیلاب کا سامنا ہو اور دوسرے علاقے خشک سالی سے متاثر ہوں۔
دریاؤں کے ساتھ ہندوستان کے تہذیبی رشتے کو اجاگر کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ ہندوستانی برادریوں نے صدیوں کے دوران پانی کے تحفظ، اس کی تقسیم اور انتظام کے لیے مالا مال روایات اور طریقے وضع کیے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری روایتی دانش مندی آج کے آبی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قیمتی سبق فراہم کرتی ہے۔‘‘
نائب صدر نے کہا کہ دنیا کے کل رقبے میں ہندوستان کا حصہ تقریباً 2.4 فیصد اور عالمی آبادی میں 18 فیصد ہے، جبکہ اس کے پاس دنیا کے میٹھے پانی کے وسائل کا صرف تقریباً 4 فیصد حصہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہندوستان کی پانی کی ضروریات کا موازنہ ان ممالک سے نہیں کیا جاسکتا جہاں پانی کی دستیابی زیادہ اور آبادی کم ہے۔
رویوں میں تبدیلی کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں پانی کی بچت کے آسان طریقے اپنائیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم دو بالٹی پانی سے بھی نہا سکتے ہیں اور بیس بالٹی پانی سے بھی۔ انتخاب ہمارا ہے۔ ہم دانت صاف کرتے وقت نل بند کرسکتے ہیں۔ یہ باتیں معمولی معلوم ہوسکتی ہیں، لیکن انہی چھوٹے چھوٹے اقدامات میں انسانیت اور دنیا کا مفاد پوشیدہ ہے۔‘‘
نائب صدر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، تیزی سے بڑھتی شہری آبادی اور آبادی میں اضافے نے آبی انتظام کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے دریائی طاس کے انتظام، زیر زمین پانی کی سطح بحال کرنے، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور آب پاشی کے مؤثر نظام سمیت ایک مربوط طریقہ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
نائب صدر نے پانی کی تقسیم سے متعلق مسائل کے حل کے لیے ریاستوں کے درمیان تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت کو سراہتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پانی کی تقسیم کے لیے بین ریاستی سطح پر 10 مفاہمت ناموں پر دستخط کیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے تعاون پر مبنی حل کو فروغ دینے کے لیے مرکزی حکومت، جل شکتی کی وزارت اور شریک ریاستوں کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے خاص طور پر چھ ریاستوں کے درمیان کِشاؤ کثیرمقصدی منصوبے سے متعلق معاہدے کو بین ریاستی تعاون کی ایک اہم مثال قرار دیا۔
جناب سی پی رادھاکرشنن نے کہا کہ جب ہندوستان 2047 تک ترقی یافتہ معیشت بننے کی جانب بڑھ رہا ہے، ایسے میں پانی کا مؤثر اور پائیدار انتظام انتہائی اہم ہوگا۔ انہوں نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی ’’جل سنچے جن بھاگیداری‘‘ کی اپیل کو یاد کرتے ہوئے شہریوں پر زور دیا کہ وہ پانی کے تحفظ کو عوامی تحریک بنائیں۔
انہوں نے پانی کے استعمال میں زیادہ حسن کارکردگی، پانی کی ری سائیکلنگ اور دوبارہ استعمال کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر زراعت کے شعبے میں پانی کی نمایاں مانگ اور صنعت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر۔ انہوں نے ردعمل پر مبنی آبی انتظام سے پیشگی اندازہ لگانے والے اور ٹیکنالوجی سے لیس آبی انتظام کی جانب منتقلی کی اپیل کی۔
متعدد فریقوں اور مختلف جہتوں پر مشتمل طریقہ کارکو اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے جناب سی پی رادھاکرشنن نے کہا کہ آبی چیلنجز سے کسی ایک ادارے، شعبے یا ریاست کے ذریعے نمٹا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ انڈیا انٹرنیشنل واٹر ویک 2026 کے دوران ہونے والے غور و خوض سے موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابل پائیدار اور مربوط آبی انتظام کے لیے ٹیکنالوجی، پالیسی، سماجی و اقتصادی اور ماحولیاتی شعبوں میں اختراعی طریقہ کار سامنے آئیں گے۔
تمام شرکا سے علم کا تبادلہ کرنے، شراکت داریاں قائم کرنے اور پانی کی بچت و تحفظ کے لیے خود کو وقف کرنے کی اپیل کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا، ’’جل سرکشا سے جن سرکشا اور راشٹر سرکشا کی راہ ہموار ہوگی۔‘‘
اس موقع پر نائب صدر نے پائیدار شہری دریائی انتظام (ایس یو آر ایم) فریم ورک اور مصنوعی ذہانت/مشین لرننگ پر مبنی مربوط آبی ذخائر میں تلچھٹ کے انتظام کے نظام کا اجرا کیا۔ یہ ٹیکنالوجی سے لیس اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابل پائیدار آبی انتظام کی سمت میں اہم اقدامات ہیں۔
اس موقع پر جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب سی آر پاٹل، جل شکتی کے وزرائے مملکت جناب وی سومنا اور جناب راج بھوشن چودھری، جل شکتی کی وزارت کی سکریٹری محترمہ ارچنا ورما اور جناب اشوک مینا، مرکزی آبی کمیشن کے چیئرمین جناب انوپم پرساد کے علاوہ ہندوستان اور بیرون ملک سے آئے مندوبین اور ماہرین موجود تھے۔






******
( ش ح ۔ م م ۔ م ا )
Urdu.No-3916
(ریلیز آئی ڈی: 2313491)
وزیٹر کاؤنٹر : 10