کامرس اور صنعت کی وزارتہ
بھارت – نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدہ 20 اکتوبر 2026 سے نافذالعمل ہوگا
تجارت و صنعت کے وزیر جناب پیوش گوئل کا کہنا ہے کہ بھارت – نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدہ باہمی تجارت، تکنالوجی اور سرمایہ کاری سے متعلق رشتوں کو نئی رفتار دے گا
بھارت سے نیوزی لینڈ کو کی جانے والی برآمدات پر پہلے دن سے ہی کوئی محصول عائد نہیں ہوگا
کھیتوں سے لے کر کارخانوں تک منافع حاصل ہوگا کیونکہ ٹیکسٹائل، چمڑے، جوتے چپل، انجینئرنگ کے سازو سامان اور زرعی ڈبہ بند مصنوعات کے نیوزی لینڈ میں داخلے پر کوئی محصول عائد نہیں کی گیا ہے
بھارت کے نوجوانوں، خواتین، کاشتکاروں اور ایم ایس ایم ای شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے کیونکہ روزگار، سرمایہ کاری اور نقل و حرکت کو زبردست تقویت حاصل ہوئی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 SEP 2026 7:01PM by PIB Delhi
تجارتی اور اقتصادی شراکت داری کے لیے ایک فیصلہ کن قدم کے تحت، بھارت – نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدہ، 20 اکتوبر 2026 سے نافذالعمل ہونے جا رہا ہے۔ نئی دہلی میں واقع بھارت منڈپم میں 27 اپریل 2026 کو، تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل اور نیوزی لینڈ کے وزیر برائے تجارت و سرمایہ کاری، محترم جناب ٹوڈ میک کلے کے ذریعہ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر دستخط کیے گئے۔
آج، بھارت کے مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل اور نیوزی لینڈ کے وزیرِ تجارت و سرمایہ کاری محترم ٹوڈ میک کلے نے ایک ورچوئل کانفرنس کے ذریعے بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک میں اندرونی عمل کی تکمیل کے بعد اس معاہدے کے نافذ العمل ہونے کی تاریخ کا اعلان کیا۔ اس حوالے سے نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے 16 ستمبر 2026 کو قانون سازی منظور کی تھی۔
محترم وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت میں، بھارت اور نیوزی لینڈ اپنے تعلقات کو مزید مضبوطی اور توسیع دینے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جولائی 2026 میں محترم وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی جی کا دورہ نیوزی لینڈ، گزشتہ چار دہائیوں میں کسی بھی بھارتی وزیرِ اعظم کا نیوزی لینڈ کا پہلا دورہ تھا، جس نے باہمی تعلقات کو مزید تقویت دی اور بھارت-نیوزی لینڈ آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے جلد نفاذ کی اہمیت پر زور دیا۔ اس دورے نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں ایک اہم پیش رفت کو بھی ظاہر کیا، جہاں بھارت اور نیوزی لینڈ نے ایک اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا اور "بھارت-نیوزی لینڈ اسٹریٹجک شراکت داری: روڈ میپ برائے 2030" کی توثیق کی۔ یہ روڈ میپ آئندہ چار برسوں میں تعاون کی رہنمائی کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک ہے، جس کے تحت 2030 تک اشیاء اور خدمات کی باہمی تجارت کو دوگنا کر کے 7 بلین نیوزی لینڈ ڈالر تک پہنچانے کا پرعزم ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس آزادانہ تجارتی معاہدے کا نفاذ، اسٹریٹجک شراکت داری :روڈ میپ برائے 2030 کے عزائم کو ٹھوس اقتصادی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے ایک کلیدی محرک کا کام کرے گا۔
اس سنگِ میل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، محترم وزیرِ تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے کہا، ”بھارت-نیوزی لینڈ آزادانہ تجارتی معاہدہ باہمی شراکت داری کو نئی جلا بخشے گا، دونوں معیشتوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرے گا، بڑے پیمانے پر پیداواری فوائد کو ممکن بنائے گا اور مجموعی مسابقت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا“۔ منتخب کردہ تاریخ کی علامتی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ”ہم نے بھارت-نیوزی لینڈ ایف ٹی اے کے نفاذ کے لیے دسہرہ - وجے دشمی کے مبارک دن کا انتخاب کیا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اس کا نفاذ ہمارے تجارتی، تکنیکی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کے درمیان حائل تمام رکاوٹوں کو دور کر دے گا، اور دونوں جانب کے عوام کی خوشحالی کو یقینی بنائے گا“۔
نیوزی لینڈ کے وزیرِ تجارت و سرمایہ کاری محترم ٹوڈ میک کلے نے اس بات پر زور دیا کہ تجارت میں غیر یقینی صورتحال اور بڑھتے ہوئے محصولات کے اس دور میں، بھارت-نیوزی لینڈ آزادانہ تجارتی معاہدہ ایک اعتماد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”ہم نے سخت محنت کے ساتھ محض نو مہینوں کے اندر ریکارڈ مدت میں ایک انتہائی اعلیٰ معیار کا معاہدہ تیار کیا ہے، جو دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور شراکت داروں کو ٹھوس فائدے پہنچائے گا“۔ انہوں نے مزید روشنی ڈالی کہ یہ معاہدہ دونوں حکومتوں کے لیے وسیع تر شعبوں میں تعاون کی ایک بہترین بنیاد ہے، خواہ وہ عوامی روابط، ثقافت، کھیل، کاروبار ہو یا سرمایہ کاری۔ ہم مل کر کاروباری اداروں کو درپیش چیلنجوں کو حل کرنے کے لیے کام کریں گے تاکہ دونوں ممالک میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
معاہدے کے نفاذ کے پہلے ہی دن سے، نیوزی لینڈ کو کی جانے والی بھارت کی 100 فیصد برآمدات پر تمام ٹیرف لائنز مکمل طور پر ختم ہو جائیں گی۔ یہ بھارتی صنعت کو ایک ایسا یکساں موقع فراہم کرے گا جس سے سے نیوزی لینڈ کے دیگر تجارتی شراکت داروں کے برابر کھڑی ہو جائے گی۔ ملک بھر میں روزگار فراہم کرنے والے اہم شعبے—جیسے ٹیکسٹائل اور ملبوسات، چمڑا اور جوتے، جواہرات اور زیورات، انجینئرنگ کا سامان، اور پروسیس شدہ غذائیں فوری طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے کیونکہ نیوزی لینڈ کے 10فیصد تک کے سب سے زیادہ ٹیرف اب ختم کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، بھارتی مینوفیکچررز کو لکڑی کے لٹھے، کوکنگ کوئلہ اور دھاتی اسکریپ جیسے اہم خام مال تک ٹیرف فری رسائی حاصل ہوگی، جس سے عالمی منڈیوں میں ان کی مسابقت کی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔
اسی کے ساتھ، حکومت نے دودھ اور اس سے بنی مصنوعات، جانوروں کا گوشت (بغیر بھیڑ کے)، اہم زرعی اجناس، چینی اور خوردنی تیل جیسی حساس مصنوعات کو ٹیرف رعایتوں سے باہر رکھ کر بھارتی کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ ملکی کاشتکاروں کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ، نیوزی لینڈ کے سیب، کیوی فروٹ اور مانوکا شہد کے لیے کم از کم درآمدی قیمت اور موسمی درآمدی ونڈوز کے ساتھ ٹیرف ریٹ کوٹہ کے ذریعے ایک نپا تلا مارکیٹ رسائی کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ زراعت میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک زراعت پیداواری شراکت داری قائم کرتا ہے، جس میں بھارت میں پیداواری صلاحیت، معیار اور کسانوں کی آمدنی کو بہتر بنانے کے مقصد سے کیوی فروٹ، سیب اور شہد کے لیے مخصوص ایکشن پلان تیار کیے گئے ہیں۔ باغبانوں کے انتظام، کٹائی کے بعد کے طریقوں، سپلائی چینز، فوڈ سیفٹی اور پائیدار شہد کی مکھیاں پالنے کے لیے عمدگی کے مراکز قائم کیے جائیں گے، جو علم، ٹیکنالوجی اور صلاحیت کے تبادلے میں آسانی پیدا کریں گے۔ ایک مشترکہ زراعت پیداواری کونسل اس بات کی نگرانی کرے گی کہ مارکیٹ کی اس رسائی کو زراعت پیداواری شراکت داری کے تحت نیوزی لینڈ کی طرف سے تعاون کی سرگرمیوں کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے۔
یہ آزادانہ تجارتی معاہدہ بھارت کے لیے سرمایہ کاری کے وسیع تر فوائد کی بنیاد بھی رکھتا ہے، جس کے تحت نیوزی لینڈ نے بھارت میں 20 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرنے کا عزم کیا ہے۔ نیوزی لینڈ کی اس سرمایہ کاری سے بھارتی زراعت، مینوفیکچرنگ، انفراسٹرکچر اور اسٹارٹ اپس کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
بھارت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے سروسز کے شعبے کے لیے، یہ معاہدہ بھارتی کمپنیوں اور پیشہ ور افراد کو نیوزی لینڈ کی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے اور عالمی سطح پر اپنا دائرہ کار بڑھانے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ یہ رسائی آئی ٹی، پیشہ ورانہ خدمات، سمعی و بصری، تعمیرات اور سیاحت سمیت تقریباً 118 شعبوں پر محیط ہے، جس میں تقریباً139 ذیلی شعبوں میں "ازحد ترجیحی ملک" کا درجہ محفوظ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ہنرمند بھارتیوں کے لیے ہر سال 5,000 عارضی ملازمت کے ویزوں اور نوجوان بھارتیوں کے لیے 1,000 ورکنگ ہالیڈے ویزوں کے مخصوص کوٹہ کے ذریعے نقل و حرکت کے بہترین مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ معاہدہ طلبہ کی نقل و حرکت کے لیے بغیر کسی حد کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے، جس کے تحت اسٹیم گریجویٹس کو 3 سال تک اور ڈاکٹریٹ اسکالرز کو 4 سال تک تعلیم کے بعد کام کرنے کے حقوق حاصل ہوں گے۔
بھارت کی فارماسیوٹیکل اور طبی آلات کی برآمدات کو ایک طویل عرصے سے منتظر اہم فائدہ حاصل ہوا ہے کیونکہ نیوزی لینڈ نے عالمی سطح پر معتبر ریگولیٹرز جیسے کہ امریکہ کے ایف ڈی اے، ای ایم اے، برطانیہ کے ایم ایچ آر اے اور ہیلتھ کینیڈا کی معائنہ منظوریوں کو قبول کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس قدم سے طویل انتظار کا وقت ختم ہو جائے گا اور مارکیٹ میں داخلے کے عمل کو تیز رفتاری ملے گی۔
سال 26-2025 میں باہمی تجارتی سامان کی تجارت پہلے ہی تقریباً 1.1 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ جانے کے بعد، بھارت-نیوزی لینڈ آزادانہ تجارتی معاہدے کا نفاذ آنے والے برسوں میں باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو ایک فیصلہ کن فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ "وکست بھارت @2047" کے وژن پر مبنی یہ معاہدہ، ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ بھارت کی بڑھتی ہوئی شراکت داری کے نیٹ ورک کا ایک اور منہ بولتا ثبوت ہے—ایک ایسا نیٹ ورک جو کسانوں، خواتین، نوجوانوں، کاریگروں اور مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کو اپنے فوائد کے مرکز میں رکھتا ہے۔
بھارت – نیوزی لینڈ فیکٹ شیٹ کے لیے لنک https://www.commerce.gov.in/files/2026-04/final_0.pdf
اکثر پوچھے جانے سوالات کے لیے لنک https://www.commerce.gov.in/files/2026-04/FAQs%20-%20India-New%20Zealand%20FTA.pdf
بھارت – نیوزی لینڈ ایف ٹی اے پر دستخط کے لیے لنک https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2255914®=3&lang=1
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:3881
(ریلیز آئی ڈی: 2313202)
وزیٹر کاؤنٹر : 6