ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ماحولیات نے جے پور (راجستھان) میں ڈبلیو ڈبلیو ایف عالمی تحفظ کانفرنس کا افتتاح کیا


جناب بھوپیندر یادو نے مقامی برادریوں کو شامل کرتے ہوئے قدرتی ماحول کے تحفظ اور بقائے باہمی کے لیے عالمی سطح پر اقدامات پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 SEP 2026 2:12PM by PIB Delhi

ماحولیات، جنگلات اور  آب و ہوا کی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے آج جے پور میں ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی عالمی تحفظ کانفرنس کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وزارت کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (جنگلی حیات) جناب رمیش پانڈے، حکومت راجستھان کے ہیڈ آف فاریسٹ فورس اور پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ جناب ارجیت بنرجی،ڈبلیو ڈبلیو ایف-انٹرنیشنل کے چیف کنزرویشن آفیسر جناب داؤدی سامبا اور ڈبلیو ڈبلیو ایف-انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب روی سنگھ سمیت دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260921141324_4e58d7.jpg

سو سے زائد ممالک کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے قدرتی ماحول کے تحفظ اور بقائے باہمی کے لیے عملی اقدامات کرنے، ایک برادری کی حیثیت سے دوبارہ ایک دوسرے سے جڑنے، اب تک ہونے والی پیش رفت سے حوصلہ حاصل کرنے اور امید و سمت کا مشترکہ احساس پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جناب یادو نے جنگلی حیات کے تحفظ کے شعبے میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران محفوظ علاقوں کی تعداد تقریباً750 سے بڑھ کر 1000 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اسی طرح شیروں کے محفوظ علاقوں کی تعداد 47 سے بڑھ کر 58 اور ہاتھیوں کے محفوظ علاقوں کی تعداد 30 سے بڑھ کر 33 ہوگئی ہے، جبکہ اسی مدت میں رامسر مقامات کی تعداد 24 سے بڑھ کر 101 ہوگئی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کی دوراندیش قیادت میں بھارت میں چیتوں کو دوبارہ آباد کرنے کی کامیابی کا بھی ذکر کیا۔

جناب بھوپیندر یادو نے تقریب میں  بتایا کہ بھارت کا انواع کے تحفظ کاعہد آئینی اور ثقافتی دونوں اعتبار سے مضبوط ہے اور یہ ایسے فکری نظریے سے جڑا ہوا ہے جو جدید محفوظ علاقوں سے متعلق قوانین سے بھی بہت پہلے وجود میں آچکا تھا۔ بھارت نے اپنے آئین میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط قانونی ڈھانچہ قائم کیا ہے، جس کے تحت جنگلی حیات کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ شہریوں کا فرض بھی قرار دیا گیا ہے، تاہم یہ باقاعدہ نظام ایک گہری ثقافتی اقدار اور روایت پر قائم ہے۔ بھارت جنگلی حیوانات اور نباتات کی نایاب انواع کی بین الاقوامی تجارت سے متعلق کنونشن(سی آئی ٹی ای ایس)، نقل مکانی کرنے والی انواع کے تحفظ سے متعلق کنونشن( سی ایم ایس) ، حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن (سی بی ڈی) اور رامسر کنونشن کا بھی رکن ہے۔ شیروں، ہاتھیوں، گینڈوں اور ایشیائی شیروں کی تعداد میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلسل سیاسی عزم کے ذریعے بڑے نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image002_20260921141331_e93b9f.jpg

وزیر موصوف نے یہ بھی بتایا کہ ملک میں سائنسی تحقیق اور نگرانی کے مؤثر نظام نے قدرتی ماحول کے تحفظ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پورے ملک میں شیر، ہاتھی، ڈولفن، ایشیائی شیر اور برفانی چیتے جیسی انواع کی آبادی کا سائنسی تخمینہ لگانے سے ان کے مسکن کو بہتر بنانے، قدرتی گزرگاہوں کے تحفظ اور بڑے جسامت والے جنگلی جانوروں کے تحفظ کے لیے وسیع تر ماحولیاتی منظرنامے کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی وضع کرنے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے راجستھان میں گریٹ انڈین بسٹرڈ (جی آئی بی) کی افزائش نسل کے ذریعے تحفظ کی کامیابی اور ‘اوران’  کہلانے والے مقدس جنگلات کے تحفظ میں مقامی برادریوں کی قیادت میں جاری کوششوں کا بھی ذکر کیا، جو زمین کے بگاڑ کو روکنے اور زمین کو دوبارہ صحت مند حالت میں لانے میں معاون ثابت ہورہی ہیں۔

مرکزی وزیر جناب  بھوپیندر یادو نے جنگلات اور آبی علاقوں کے ساتھ ساتھ گھاس کے میدانوں کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے گھاس کے میدانوں پر انحصار کرنے والے بڑے سبزی خور جنگلی جانوروں کے تحفظ کے لیے بھارت کے طریقہ کار کا ذکر کیا اور شرکا کو ایک سینگ والے گینڈے اور جنگلی بھینسے کے تحفظ کے لیے جاری پروگراموں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ماہرین سے متحد ہونے کی اپیل کے ساتھ کیا اور کہا کہ ہمیں صرف غور و فکر تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ آگے بڑھنا چاہئے، جو اقدامات مؤثر ثابت ہورہے ہیں ان سے سیکھنا چاہئے اور حاصل شدہ تجربات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا چاہئے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image003_20260921141340_d172b4.jpg

 

*****

ش ح۔ض ر۔ش ت

U.NO-3849


(ریلیز آئی ڈی: 2312975) وزیٹر کاؤنٹر : 10