امور داخلہ کی وزارت
مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امیت شاہ نے آج ممبئی میں 52 ویں انڈیا جیمز اینڈ جیولری ایوارڈز کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کیا
آنے سالوں میں بھارت جواہرات اور زیورات کے عالمی مرکز کے طور پر ابھرے گا
ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں برآمد کنندگان، صنعت کار، بینکرز اور خواتین کاروباری افراد شامل ہیں؛ ان سب نے مل کر بھارت کی ترقی کے لیے نئے معیار قائم کیے ہیں
لیب میں تیار کیے جانے والے ہیروں کا دور اب شروع ہونے والا ہے، اس کی مارکیٹ موجودہ ہیرے کی مارکیٹ کے مقابلے میں تقریباً 50 گنا تک بڑھنے کی توقع ہے
ہمیں خود کو اس طرح تیار کرنا ہوگا کہ لیب میں تیار کیے جانے والے ہیروں کے پورے ماحولیاتی نظام اور مکمل پیداواری ویلیو چین پر بھارتیوں کا کنٹرول ہو
بھارت کو لیب میں تیار کیے جانے والے ہیروں کے نئے دور میں ایک پیش رو صنعت کے طور پر ابھرنا چاہیے اور مودی حکومت اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے
دنیا بھر میں تراشے اور پالش کیے جانے والے ہر دس میں سے نو ہیرے سورت میں تیار کیے جاتے ہیں۔ شہر کے تاجروں نے صرف ہیروں کو تراشنے اور پالش کرنے تک ہی خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرکے ملکی معیشت اور بھارت کی برآمدات میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے
ملک کے اقتصادی دارالحکومت ممبئی نے جواہرات اور زیورات کی تجارت کو بھارت کی برآمدات کا ایک اہم ستون بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے
وزیر اعظم مودی کے 15 اگست 2047 تک بھارت کو ہر شعبے میں دنیا کا سب سے نمایاں ملک بنانے کے عزم کو ملک کے 140 کروڑ عوام نے بھی اپنا عزم بنا لیا ہے
جب بھی بھارت کو کسی بحران کا سامنا ہوا، جواہرات اور زیورات کے تاجروں نے ہمیشہ معاشرے اور ملک کے ساتھ پوری طرح کھڑے ہوکر اپنا بھرپور تعاون دیا ہے
سال1975 میں ان ایوارڈز کی جو بنیاد رکھی گئی تھی، اس نے گزشتہ 50 برسوں کے دوران بھارت کی جواہرات اور زیورات کی صنعت کے لیے ایک باوقار پلیٹ فارم کی شکل اختیار کرلی ہے۔ میں اس صنعت سے وابستہ تمام افراد کو اس کے تسلسل، بہترین کارکردگی اور لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرنے میں اس کے نمایاں کردار کے لیے مبارکباد پیش کرتا ہوں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 SEP 2026 7:46PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امیت شاہ نے آج ممبئی میں 52 ویں انڈیا جیمز اینڈ جیولری ایوارڈز کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کیا ۔ اس موقع پر مہاراشٹر کے وزیر اعلی جناب دیویندر فڈنویس ، نائب وزیر اعلی جناب ایکناتھ شندے ، گجرات کے نائب وزیر اعلی جناب ہرش سنگھوی اور کئی دیگر معززین موجود تھے ۔
ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امیت شاہ نے کہا کہ یہ ان کے لیے باعث مسرت ہے کہ آج اتنی بڑی تعداد میں ممتاز کامیاب شخصیات کو جواہرات اور زیورات کے ایوارڈز سے نوازا جا رہا ہے، جنہوں نے بھارت کی معیشت، خوشحالی اور عالمی سطح پر اس کی شناخت کو مسلسل مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا ڈائمنڈ بورڈ کی یہ پہل بھارت کے اعتماد، ہنرمندی، خوشحالی اور عالمی عزائم کی عکاس ہے۔ آنے والے برسوں میں بھارت جواہرات اور زیورات کے عالمی مرکز کے طور پر ابھرے گا۔

مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امیت شاہ نے کہا کہ جب 1975 میں ان ایوارڈز کی بنیاد رکھی گئی تھی، اس وقت شاید ہی کسی نے تصور کیا ہوگا کہ یہ چھوٹی سی پہل پانچ دہائیوں بعد ملک کی جواہرات اور زیورات کی صنعت کے لیے ایک باوقار پلیٹ فارم کی شکل اختیار کرلے گی اور یہ صنعت قومی معیشت کی ترقی اور ایم ایس ایم ای شعبے کی توسیع میں اس قدر اہم کردار ادا کرے گی۔ جناب شاہ نے کہا کہ آج ایوارڈ سے نوازے جانے والوں میں برآمد کنندگان، مینوفیکچررز، بینکرز اور خواتین کاروباری افراد شامل ہیں۔ ان سب نے مل کر بھارت کی ترقی کے لیے نئے معیار قائم کیے ہیں۔
جناب امیت شاہ نے کہا کہ جواہرات اور زیورات ہمیشہ سے بھارت کی پہچان کا ایک لازمی حصہ رہے ہیں۔ گزشتہ 6,000 سے زیادہ برسوں سے بھارت کے جواہرات اور زیورات دنیا بھر میں تجارت کا حصہ رہے ہیں۔ رومی مصنف پلینی نے لکھا تھا کہ بھارتی جواہرات اور مصالحوں کی تجارت کے باعث روم کا خزانہ خالی ہوتا جارہا تھا، کیونکہ اس تجارت کے ذریعے روم میں حاصل ہونے والی دولت بھارت منتقل ہورہی تھی۔جناب شاہ نے کہا کہ صدیوں کے دوران بھارتی کاریگروں اور دستکاروں نے اس روایت میں مسلسل نئی جہتیں شامل کی ہیں۔ قرون وسطی کے دور میں زیورات سازی کے ہنر کو شاہی سرپرستی حاصل ہوئی اور اس نے نئی بلندیوں کو حاصل کیا۔ راجستھان اور کولکاتا کی شاہی ریاستوں نے کندن اور میناکاری کی منفرد روایات کو فروغ دیا۔ آج بھی جے پور دنیا بھر میں رنگین جواہرات کے دارالحکومت کے طور پر مشہور ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جواہرات اور زیورات کی صنعت کا ذکر سورت کے بغیر نامکمل رہے گا۔ جناب شاہ نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ سورت نے پوری صنعت کی شکل بدلنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ دنیا بھر میں تراشے اور پالش کیے جانے والے تقریباً ہر دس میں سے نو ہیرے سورت میں تیار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سورت کے لوگوں نے صرف ہیروں کو تراشنے اور پالش کرنے کا کام ہی نہیں کیا بلکہ محنت اور ثابت قدمی کی اعلی ترین مثال بھی قائم کی ہے۔سورت کے ہیروں کے تاجروں نے نہ صرف لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کیا، انہیں خود کفیل بننے کے قابل بنایا اور ملک کی معیشت اور برآمدات میں نمایاں کردار ادا کیا، بلکہ اس سے بھی بڑا کام انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب یہ خیال کیا جاتا تھا کہ 50 برس کے اندر کچھ اور سوراشٹر صحرائی خطے میں تبدیل ہوجائیں گے۔ تاہم، کچھ اور سوراشٹر کے لیے پانی کا انتظام یقینی بنانے کے اپنے عزم اور مسلسل کوششوں کے ذریعے سورت کے ہیروں کے تاجروں نے پورے سوراشٹر خطے کو بچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امیت شاہ نے کہا کہ ملک کے مالیاتی دارالحکومت ممبئی نے جواہرات اور زیورات کی صنعت کو بھارت کی برآمدات کا ایک اہم ستون بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ بھارت ڈائمنڈ بورس (بی ڈی بی) آج دنیا بھر میں بھارت کی جواہرات اور زیورات کی تجارت کی ایک علامت کے طور پر ابھر چکا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امیت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے گزشتہ 12 برسوں کے دوران ملک میں کئی اہم اور دور رس تبدیلیاں لائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں بھارت کا شمار ‘فریجائل فائیو’ممالک میں ہوتا تھا، جبکہ آج بھارت دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے جی ڈی پی کے اعداد و شمار حال ہی میں جاری کیے گئے ہیں اور 7.8 فیصد کی شرح نمو کے ساتھ بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی صرف اقتصادی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ وزیر اعظم مودی نے ہر شعبے میں تبدیلی لانے کے لیے کام کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ‘‘کون تصور کرسکتا تھا کہ کسی دہشت گرد حملے کا جواب پاکستان کی سرزمین میں داخل ہوکر دیا جائے گا اور ملک میں ایسا وزیر اعظم ہوگا جو اتنا فیصلہ کن موقف اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو؟’’ چاہے سرجیکل اسٹرائیک ہو، فضائی حملہ ہو یا آپریشن سندور، مودی جی نے ایسی دفاعی پالیسی اختیار کی ہے جس کے باعث دشمن بھارت پر حملہ کرنے سے پہلے کئی بار سوچنے اور حملے کے خیال سے ہی کانپنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چاہے رام جنم بھومی مندر کی تعمیر ہو، کاشی وشوناتھ کوریڈور ہو، کیدارناتھ کی تجدید نو ہو یا مہاکال لوک کی تعمیر، بھارت نے وہ کام کر دکھائے ہیں جن کے بارے میں کئی دہائیوں تک لوگ بات کرنے کی ہمت بھی نہیں کرپاتے تھے۔
جناب امیت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں لائی گئی تبدیلیوں نے معیشت کو بڑی تقویت فراہم کی ہے۔ پی ایل آئی اسکیموں اور برآمدات کے فروغ کے لیے فراہم کی جانے والی سہولتوں کی بدولت بھارت کی برآمدات مسلسل اپنے ہی سابقہ ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ملک کے 140 کروڑ عوام کو یہ اعتماد اور عزم دیا ہے کہ 15 اگست 2047 تک بھارت ہر شعبے میں دنیا کا نمبر ایک ملک بن کر ابھرے گا۔ بھارت کے عوام نے بھی اس عزم کو اپنا لیا ہے۔جناب شاہ نے کہا کہ جہاں بھی عالمی حالات میں تبدیلی آئی ہے اور تجارت و کاروبار کو تعاون کی ضرورت محسوس ہوئی ہے، وہاں ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔ ٹیکسیشن اینڈ ادر لاز (ترمیم) ایکٹ، 2026 اس کی تازہ مثال ہے۔ خصوصی طور پر مطلع کردہ علاقوں میں خام ہیروں کی تجارت کرنے والی کمپنیوں کو 15 برس کی مدت کے لیے انکم ٹیکس سے چھوٹ دی گئی ہے۔ یہ بھارت کو دنیا میں خام ہیروں کی تجارت کا مرکز بنانے کی جانب ایک اہم اور بڑا قدم ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امیت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے حال ہی میں بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں دور رس تبدیلی لانے والے اقدامات کے تحت ممبئی کے سیپز(ایس ای ای پی زیڈ) میں بھارت رتنم میگا کامن فسیلٹی سینٹر کا افتتاح کیا۔ 1.25 لاکھ مربع فٹ رقبے پر پھیلے اس مرکز میں تھری ڈی پرنٹنگ، کاسٹنگ اور ریفائننگ جیسی جدید ترین سہولتیں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ انڈیا جیولری پارک ایک اہم اور تاریخی پروجیکٹ ہے، جس سے تقریباً 50,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوجہ ہونے اور ایک لاکھ افراد کے لیے براہ راست اور بالواسطہ روزگار پیدا ہونے کی توقع ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے بھی کئی مراعات فراہم کی ہیں، جن میں اسٹامپ ڈیوٹی سے چھوٹ، بجلی میں رعایت اور سبسڈی کی شرح میں اضافہ شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ 2025 میں جواہرات اور زیورات کی صنعت کا کاروبار 2.44 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا تھا، جو ملک کی اشیا کی مجموعی برآمدات کا 6.3 فیصد ہے۔ یہ صنعت تقریباً 75 لاکھ افراد کو براہ راست اور بالواسطہ روزگار فراہم کر رہی ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ بھارت آج امریکہ، مشرق وسطی، ہانگ کانگ اور یورپ کے لیے زیورات کی درآمد کا ایک اہم ذریعہ بن کر ابھرا ہے اور اس سفر کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کی وزارت تجارت کی جانب سے یورپی یونین، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، عمان اور برطانیہ کے ساتھ کیے گئے آزاد تجارتی معاہدے ہماری تجارت کو وسعت دینے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کی مدد سے ہمیں نئے بازاروں، تجارت کے نئے راستوں اور نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے پورے اعتماد اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ آج بھارت دنیا کے 90 فیصد سے زیادہ تراشے اور پالش کیے ہوئے ہیروں کی تیاری کرتا ہے، جو بھارت کی زیورات کی صنعت کی ہمت، کاروباری صلاحیت کا سب سے مضبوط ثبوت ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امیت شاہ نے کہا کہ وقت کے ساتھ حالات بدل رہے ہیں اور صارفین کے رجحانات بھی تبدیل ہورہے ہیں۔ یہ تبدیلی جواہرات اور زیورات کی تجارت کے لیے ایک اہم موقع پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیورات کے کاروبار سے وابستہ افراد کو ان تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے پوری طرح تیار رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اب لیب میں تیار کیے جانے والے ہیروں کا دور شروع ہونے والا ہے اور اس کی مارکیٹ موجودہ ہیرے کی مارکیٹ کے مقابلے میں تقریباً 50 گنا تک بڑھنے کی توقع ہے۔ یہ ایک بہت بڑا موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب عالمی سطح پر جواہرات اور زیورات کی تجارت نے جدید شکل اختیار کی، اس وقت بھارت نوآبادیاتی حکمرانی کے تحت تھا۔ کئی ممالک ہم سے آگے نکل گئے، حتی کہ کئی چھوٹے ممالک نے بھی اس میدان میں ہم پر سبقت حاصل کرلی۔ لیکن اب لیب میں تیار کیے جانے والے ہیروں کے دور کے آغاز کے ساتھ بھارت کے پاس ضروری بنیادی ڈھانچہ، ہنر، سرمایہ اور قابل کاروباری افراد موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں خود کو اس طرح تیار کرنا ہوگا کہ لیب میں تیار کیے جانے والے ہیروں کے پورے ماحولیاتی نظام اور مکمل پیداواری ویلیو چین پر بھارتیوں کا کنٹرول ہو۔ چاہے مشینوں کی تیاری ہو، لیب میں تیار کیے جانے والے ہیروں کی پیداوار ہو، زیورات بنانا ہو، بھارتی برانڈز تیار کرنا ہوں یا دنیا بھر کے شہروں میں شوروم کھولنے ہوں، پوری ویلیو چین ہماری دسترس میں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی زیورات کے تاجر یہ مقصد حاصل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔جناب شاہ نے کہا کہ حکومت ہند پہلے ہی اس سمت میں پہل کرچکی ہے، جبکہ سورت اور ممبئی کے بعض فعال اور باصلاحیت تاجروں نے بھی اس سلسلے میں قیادت کا مظاہرہ کیا ہے۔ گجرات اور مہاراشٹر کی حکومتیں معاون پالیسیاں وضع کر رہی ہیں اور حکومت ہند بھی مناسب پالیسیاں متعارف کرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مشینوں کی تیاری سے لے کر اس شوروم تک، جہاں آخرکار زیور کسی خاتون کے ہاتھ تک پہنچتا ہے، پورے ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم )کی ملکیت بھارت کے پاس ہونی چاہیے اور صنعت کو اسی وژن اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اب صرف کام کی رفتار بڑھانا کافی نہیں ہوگا بلکہ کاروباری سرگرمیوں کے پیمانے اور وسعت میں بھی بنیادی تبدیلی لانا ہوگی۔ جناب شاہ نے کہا کہ بھارت کو لیب میں تیار کیے جانے والے ہیروں کے نئے دور میں ایک پیش رو صنعت کے طور پر ابھرنا چاہیے اور بھارتی برانڈز کو عالمی برانڈز بننا چاہیے، تاکہ عالمی سطح پر اس کاروبار میں بھارت اور بھارتی زیورات کے تاجروں کی مضبوط موجودگی یقینی بنائی جاسکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے مودی حکومت ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امیت شاہ نے کہا کہ جب بھی گجرات یا بھارت کو کسی بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے، جواہرات اور زیورات کی صنعت نے ہمیشہ پورے خلوص کے ساتھ معاشرے اور ملک کے ساتھ کھڑے ہوکر اپنا بھرپور تعاون دیا ہے۔ جواہرات اور زیورات کی صنعت نے معاشرے کی ترقی اور فلاح و بہبود میں اپنا کردار ادا کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا۔ چاہے خشک سالی ہو، سیلاب ہو، سمندری طوفان ہو، آبی تحفظ کا معاملہ ہو، شجرکاری ہو یا یہ یقینی بنانا ہو کہ کاریگروں اور ملازمین کے بچوں کو بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے، صنعت نے ہمیشہ معاشرے کی ترقی میں اپنا بھرپور تعاون دیا ہے۔ اس کے لیے میں صنعت کو دل کی گہرائیوں سے سراہتا اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہاں موجود ممتاز صنعتی ادارے، نوجوان کاروباری افراد اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اس عزم کے ساتھ واپس جائیں گے کہ مستقبل کی ہیرے کی دنیا میں پوری ویلیو چین بھارت میں قائم کی جائے اور دنیا بھر میں مارکیٹنگ کا سلسلہ بھی بھارتی برانڈز کی قیادت میں آگے بڑھایا جائے۔
*****
ش ح۔ ش آ ۔ ش ب ن
U. No-3396
(ریلیز آئی ڈی: 2309976)
وزیٹر کاؤنٹر : 7