صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
صدر جمہوریہ ہند نے شمالی مقدونیہ کی اسمبلی سےخطاب کیا
ہمارے پارلیمنٹ کے اراکین کے درمیان باہمی بات چیت اور مکالمے سے ایسا ادارہ جاتی اعتماد پیدا ہوتا ہے جو سیاسی ادوار کی تبدیلی کے بعد بھی قائم رہتا ہے: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو
ہندوستان دو طرفہ سطح پر اور پورے خطے میں اپنے تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے: صدرجمہوریہ دروپدی مرمو
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 JUL 2026 8:53PM by PIB Delhi
صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج (21 جولائی 2026) اسکوپئے میں شمالی مقدونیہ کی صدر، عالی مرتبت ڈاکٹر گوردانا سِلیانوسکا-داؤکووا کی موجودگی میں وہاں کی اسمبلی کے اراکین سے خطاب کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان میں ہم جمہوریہ شمالی مقدونیہ کو ایک دور کے ملک کے طور پر نہیں‘ بلکہ ایک مستحکم ، کثیر قطبی اور خوشحال عالمی مستقبل کے ڈھانچے میں ایک اہم ستون کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ہمارا رشتہ دو ہزار سال پہلے شروع ہوا تھا۔ اس خطے کے جنگجوؤں اور تاجروں کی تاریخی مہمات نے ہماری ابتدائی تہذیبوں کو جوڑتے ہوئے تجارت، فلسفہ اور فن کے لیے اہم راستے کھول دیے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ جمہوریت محض حکمرانی کا نظام نہیں ہے‘ بلکہ یہ عقیدے کا مشترکہ مضمون ہے جو ہندوستان اور شمالی مقدونیہ کو متحد کرتا ہے۔ ہماری پارلیمان ہمارے عوام کی آزادیوں کے محاف، ہمارے قوانین کے معمار اور ہمارے قومی ضمیر کے آئینے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمانی سفارت کاری اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اراکین پارلیمنٹ کے درمیان بات چیت سے ادارہ جاتی اعتماد پیدا ہوتا ہے، جو سیاسی چکروں سے بالاتر ہے۔ انہوں نے نوجوان قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ نئی دہلی اور اسکوپجے کے درمیان سفر کریں اور پارلیمانی طریقوں اور عوامی پالیسی کی تشکیل میں بہترین طریقوں کا اشتراک کریں۔
صدر جمہوریہ نے اس بات پر زور دیا کہ جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی مراکز بدل رہے ہیں۔ اس نئے دور میں، ہندوستان جنوب مشرقی یورپ کو حاشیے پر موجود خطے کے طور پر نہیں، بلکہ ترقی اور اختراع کے ایک متحرک تھیٹر کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی مقدونیہ اس تبدیلی کے سنگم پر بیٹھا ہے۔ یہ بحیرہ روم کو وسطی یورپ اور مشرق کو مغرب سے جوڑنے والا ایک اہم گیٹ وے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اُبھرتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع سمیت دو طرفہ اور وسیع تر خطے میں اپنے تعلقات کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

صدر جمہوریہ نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی قوم صرف اپنے طور پر ترقی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان کا قدیم تہذیبی فلسفہ قدیم قول-واسودھیو کٹمبکم-دنیا ایک خاندان ہے میں جڑا ہوا ہے۔ جب عالمی منظر کشی تنازعات اور معاشی تقسیم سے ٹوٹی ہوئی ہے، تو یہ فلسفہ پلوں کی تعمیر کا مطالبہ کرتا ہے، دیواروں کا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں لنگر انداز اور کل کے وژن سے چلنے والی دو جمہوری قوموں کے طور پر ہمیں مل کر ایک ایسا راستہ طے کرنا چاہیے، جو ہمارے لوگوں میں امن اور خوشحالی لائے۔
صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزیر مملکت محترمہ اس موقع پر نیوبین جینتی بھائی بامبھنیا اور اراکین پارلیمنٹ ڈاکٹر دنیش شرما اور شری وجے بگھیل بھی موجود تھے۔
صدر جمہوریہ کی تقریر دیکھنے کے لیے براہ کرم یہاں کلک کریں
*******
(ش ح۔ع و۔ ن ع)
U- 2933
(ریلیز آئی ڈی: 2305963)
وزیٹر کاؤنٹر : 3