امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
سی سی پی اے کی جانب سے آن لائن فروخت میں شامل کرنے اور دھماکہ خیز مادے کی فروخت پر ڈائل 4 ٹریڈ پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا
پلیٹ فارم کو لائسنس کی تصدیق، خریدار کی اہلیت کی جانچ اور لازمی حفاظتی معلومات فراہم کیے بغیر امونیم نائٹریٹ کی آن لائن فروخت کی سہولت فراہم کرنے کا ذمہ دار پایا گیا
یہ کارروائی آن لائن پلیٹ فارمز پر ضابطے کے تحت آنے والے خطرناک اور دھماکہ خیز مادوں کی لسٹنگ اور فروخت کے حوالے سے کی جانے والی ملک گیر جانچ کے بعد کی گئی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 SEP 2026 3:08PM by PIB Delhi
صارفین کے امور کے تحفظ سے متعلق اتھارٹی (سی سی پی اے) نے ڈائل 4 ٹریڈ ٹیکنا لوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ کمپنی نے اپنے ای کامرس پلیٹ فارم پر امونیم نائٹریٹ کی آن لائن لسٹنگ ، اسے پلیٹ فارم پر دستیاب کرنے ، اس کی تشہیر اور فروخت میں سہولت فراہم کی، جب کہ قانون کے تحت مطلوبہ لازمی ضابطہ جاتی حفاظتی اقدامات موجود نہیں تھے۔ سی سی پی اے نے چیف کمشنر محترمہ ندھی کھرے اور کمشنر جناب انوپم مشرا کی سربراہی میں صارفین کے امور کے تحفظ سے متعلق ایکٹ، 2019 کی دفعات 10، 20 اور 21 کے تحت حتمی حکم جاری کیا۔
سی سی پی اے نے ڈائل 4 ٹریڈ کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر امونیم نائٹریٹ یا ایکسپلوسِوز ایکٹ، 1884 کے تحت دھماکہ خیز مادے کے طور پر درجہ بند کسی بھی دوسرے مادے کی لسٹنگ ، اسے پلیٹ فارم پر دستیاب رکھنے ، اس کی تشہیر یا اس کی فروخت میں سہولت فراہم کرنے کا عمل فوری طور پر بند کرے۔
سی سی پی اے کو لازمی معلومات اور تصدیق کا فقدان ملا
پلیٹ فارم کی جانچ کے دوران ، سی سی پی اے نے پایا کہ امونیم نائٹریٹ کو مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر لسٹنگ کے لیے شامل کیا گیا تھا اور خریداری کے لیے دستیاب کرایا گیا تھا۔ ان حفاظتی اقدامات میں درج ذیل شامل ہیں:
- فروخت کنندہ کے پی ای ایس او (پیٹرولیم اینڈ ایکسپلوسِوز سیفٹی آرگنائزیشن) کے درست لائسنس کی تفصیلات ظاہر کرنا۔
- خریداری سے قبل خریدار کی شناخت اور اس کے لائسنس یافتہ ہونے کی حیثیت کی تصدیق کرنا۔
- امونیم نائٹریٹ ضابطہ ، 2012 کے تحت مطلوبہ لین دین کی مکمل پیروی اور اس کا ریکارڈ رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے مناسب طریقۂ کار موجود ہونا۔
- مادے کو رکھنے اور استعمال کرنے پر عائد قانونی پابندیوں اور غیر مجاز طور پر رکھنے کے قانونی نتائج کے بارے میں واضح انتباہات فراہم کرنا۔
لسٹنگ میں ایسی تصاویر بھی شامل تھیں ، جن میں دھماکوں اور دھماکوں کے اثرات کو دکھایا گیا تھا۔ سی سی پی اے نے مشاہدہ کیا کہ ایسی تصاویر ممکنہ طور پر مادے کی خطرناک اور ضابطے کے تحت آنے والی نوعیت کے بارے میں آگاہ کرنے کے بجائے مصنوعات کی جانب توجہ مبذول کرانے کا سبب بن رہی تھیں۔

سی سی پی اے نے کہا کہ ڈیجیٹل مارکیٹ پلیس پر موجود ایسی مصنوعات کی فہرست، جو انٹرنیٹ کے ذریعے عوام تک پہنچائی اور ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے، صارفین کے امور کے تحفظ سے متعلق ایکٹ، 2019 کی دفعہ 2(1) کے تحت ’’ اشتہار‘‘ کی تعریف کے دائرے میں آتی ہے۔ اتھارٹی نے مزید بتایا کہ کسی ضابطے کے تحت آنے والے دھماکہ خیز مادے کو عام صارف مصنوعات کے طور پر فروخت کے لیے پیش کرنا اور صارفین کو یہ اطلاع نہ دینا کہ اس کی قانونی طور پر خریداری کے لیے مقررہ لائسنس کا ہونا ضروری ہے، ایک گمراہ کن اشتہار اور غیر منصفانہ تجارتی عمل کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ ایکٹ کی دفعات 2 ( 28 ) اور 2 ( 47 ) میں بیان کیا گیا ہے۔

ڈائل 4 ٹریڈ نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ بزنس ٹو بزنس ( بی ٹو بی ) مارکیٹ پلیس کے ثالث کے طور پر کام کرتا ہے اور اسے تیسرے فریق کے فروخت کنندگان کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی فہرستوں کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔ سی سی پی اے نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پلیٹ فارم نے اس مادے کو صرف ایک یونٹ جتنی کم مقدار میں بھی خریدنے کی اجازت دی تھی اور اس پر کم از کم آرڈر کی مقدار یا ادارہ جاتی خریدار کی تصدیق کے ایسے طریقۂ کار موجود نہیں تھے ، جو عموماً بی ٹو بی ماڈل سے وابستہ ہوتے ہیں۔
سی سی پی اے نے یہ بھی بتایا کہ صارفین کے امور کے تحفظ (ای کامرس) سے متعلق ضابطہ ، 2020 کا اطلاق مارکیٹ پلیس ای کامرس اداروں پر ہوتا ہے، خواہ پلیٹ فارم اپنے کاروباری ماڈل کو کسی بھی طرح بیان کرے۔
سی سی پی اے نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ، 2000 کی دفعہ 79 کے تحت ثالث کو حاصل قانونی تحفظ پر ڈائل 4 ٹریڈ کے انحصار کا بھی جائزہ لیا۔ اتھارٹی نے مشاہدہ کیا کہ اس طرح کا تحفظ مقررہ احتیاطی تدابیر سے متعلق تقاضوں کی تکمیل سے مشروط ہے۔ اتھارٹی نے پایا کہ صرف خلاف ورزی کا پتا چلنے کے بعد لسٹنگ سے ہٹانے پر مبنی تعمیلی طریقۂ کار، لسٹنگ میں شامل کیے جانے کے وقت ہی تصدیق کرنے کے بجائے، ضابطے کے تحت آنے والے اور خطرناک مادوں کے معاملے میں ناکافی تھا۔
سی سی پی اے نے یہ بھی اجاگر کیا کہ ڈائل 4 ٹریڈ کے پاس فروخت کنندگان کو بلاک کرنے اور اپنی ویب سائٹ سے مصنوعات کو لسٹنگ سے ہٹانے کا اختیار موجود تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پلیٹ فارم پر موجود مواد پر پلیٹ فارم کا کنٹرول تھا۔
ای کامرس پلیٹ فارمز کی شعبہ جاتی جانچ
ڈائل 4 ٹریڈ کے خلاف یہ کارروائی سی سی پی اے کی جانب سے ای کامرس پلیٹ فارمز پر خطرناک کیمیکلز، دھماکہ خیز مادوں اور ان سے متعلقہ پیش خیمہ مادوں کی غیر مجاز آن لائن فروخت کے حوالے سے جاری جانچ کا حصہ ہے۔ جانچ کئے جا رہے مادوں میں امونیم نائٹریٹ، گن پاؤڈر، پکرک ایسڈ اور پینٹا اریتھریٹول ٹیٹرانیٹریٹ ( پی ای ٹی این ) شامل ہیں۔
اس معاملے میں فی الحال درج ذیل پلیٹ فارمز کے حوالے سے جانچ جاری ہے:
- انڈیا مارٹ
- جسٹ ڈائل
- سگما-ایلڈرچ انڈیا
- ایکسپورٹرز انڈیا
- آئی بائی کیمیکلز
- الفا کیمیکا
- ٹریڈ انڈیا
سی سی پی اے کی جانب سے ای کامرس پلیٹ فارمز کے لیے مناسب احتیاطی جانچ کی ضرورت پر زور
سی سی پی اے نے بتایا کہ امونیم نائٹریٹ ایک ضابطے کے تحت آنے والا مادہ ہے اور مقررہ حفاظتی اقدامات کے بغیر اس کی غیر مجاز فروخت یا قبضہ عوامی تحفظ کے لیے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ اتھارٹی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صارفین آن لائن خریداری کرتے وقت مصنوعات کی فہرستوں اور ان کی تفصیلات پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے ای کامرس پلیٹ فارمز پر لازم ہے کہ وہ ضابطے کے تحت آنے والی مصنوعات سے متعلق معاملات میں مناسب احتیاطی جانچ کریں۔
سی سی پی اے نے صارفین کے حقوق کے تحفظ، غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کی روک تھام اور ای کامرس پلیٹ فارمز کی جانب سے قوانین کی پابندی کو ، خصوصاً ضابطے کے تحت آنے والی اور خطرناک مصنوعات کے حوالے سے مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ۔
حتمی حکم سی سی پی اے کی ویب سائٹ ( https://ccpa.doca.gov.in/) پر دستیاب ہے۔
. ...................................................
) ش ح – ا ع خ - ع ا )
U.No. 2929
(ریلیز آئی ڈی: 2305914)
وزیٹر کاؤنٹر : 8