زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نئی دہلی میں  زرعی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں  کی36ویں  سالانہ  کانفرنس کا آغاز


زرعی تعلیم کی کامیابی کا اندازہ صرف ڈگریوں کی تقسیم سے نہیں ، بلکہ کسانوں پر ہونے والے اس کے اثرات سے لگایا جانا چاہیے: جناب  شیوراج سنگھ چوہان

تحقیق کو تجربہ گاہوں  سے نکل کر کھیتوں تک پہنچنا چاہیے اور کسانوں کو مسائل کا حل فراہم کرنا چاہیے: جناب  چوہان

نوجوانوں کو صرف ملازمتوں کے لیے نہیں، بلکہ کاروباری ، اختراع کار اور ملازمت  پیدا کرنے والا بنانے کے لیے تیار کریں: مرکزی وزیر زراعت

ہر کانفرنس سے واضح قراردادیں، ایکشن پلان  اور نتائج حاصل ہونے چاہئیں: جناب  شیوراج سنگھ چوہان

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 AUG 2026 6:52PM by PIB Delhi

زرعی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کی 36 ویں سالانہ کانفرنس کا افتتاح آج نئی دہلی میں مرکزی وزیر برائے زراعت و کسانوں کی بہبود  اور دیہی ترقیات  جناب  شیوراج سنگھ چوہان نے کیا۔ وکست بھارت @2047 کے لیے زرعی اعلیٰ تعلیم کا ازسرنو تصور‘‘  کے موضوع پر منعقدہ اس  دو روزہ کانفرنس (25-26 اگست 2026) میں  زرعی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، ڈی اے آر ای اور آئی سی اے آرکے سینئر حکام، ڈپٹی ڈائریکٹرز جنرل، ایڈیشنل ڈائریکٹرز جنرل اور سینئر سائنسداں ایک ساتھ جمع ہوئے   تاکہ مستقبل کی ضروریات کے مطابق زرعی تعلیمی نظام کے لیے اصلاحات اور ترجیحات پر غور و خوض کیا جا سکے۔

افتتاحی اجلاس میں  جناب  بھاگیرتھ چودھری اورجناب  رام ناتھ ٹھاکر، مرکزی وزرائے مملکت برائے زراعت و کسانوں کی بہبود  اور ڈاکٹر ایم ایل جاٹ، سکریٹری ڈی اے آر ای اور ڈائریکٹر جنرل، آئی سی اے آر  کے ساتھ ساتھ دیگر سینئر حکام اور معززین نے بھی شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  مرکزی وزیر جناب  شیوراج سنگھ چوہان نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی تعلیم کی کامیابی کا اندازہ  تقسیم کی جانے والی  ڈگریوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ پیدا کردہ علم و مہارت اور کسانوں کی زندگیوں میں رونما ہونے  والی واضح تبدیلی سے لگایا جانا چاہیے۔ انہوں نے زرعی تعلیم کو عملی، ٹیکنالوجی  پر مبنی  اور کسانوں کی ضروریات کے عین مطابق بنانے کے لیے اس کا ازسرنو تصور کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ زرعی یونیورسٹیوں، آئی سی اے آر، کے وی کے، ایف پی او ، صنعت اور کسانوں کے درمیان مضبوط  اشتراک کے ذریعے تحقیق کو تجربہ گاہوں  سے نکل کر کھیتوں تک پہنچنا چاہیے۔ وزیر موصوف نے  یونیورسٹیوں پر زور دیا کہ وہ واضح اہداف مقرر کریں، قابلِ عمل روڈ میپ تیار کریں اور نتائج کا اندازہ لگائیں ، تاکہ ہر کانفرنس ٹھوس فیصلوں پر منتج ہو اور وِکست بھارت کے لیے ایک جدید، لچکدار اور خوشحال زرعی شعبے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال سکے۔

مرکزی وزیرِ مملکت برائے زراعت و کسانوں کی بہبود جناب  بھاگیرتھ چودھری نے زور دیا کہ ایک ترقی یافتہ بھارت کے لیے ایک مضبوط و خوشحال زرعی شعبہ اور بااختیار کسان ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غذائی قلت سے خود کفالت تک کا بھارت کا سفر کسانوں، سائنسدانوں، اساتذہ اور اداروں کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے  اور اب اگلی ترجیح زراعت کو ٹیکنالوجی  پر مبنی  ، اختراعی اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق بنانا ہے۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، کاروبار  اور زرعی کاروبار  میں مواقع پیدا کر کے نوجوانوں کو زراعت کی طرف راغب کرنے کی ضرورت پر زور دیا  اور زرعی یونیورسٹیوں سے کہا کہ وہ تعلیم اور تحقیق کو کسانوں کی ضرورتوں سے ہم آہنگ کریں ۔ انہوں نے  اعتماد کا اظہار کیا  کہ وائس چانسلروں کی  کانفرنس  میں ہونے والے اس تبادلہ خیال سے  زرعی تعلیم  مضبوط ہو  گی، نئی سوچ کو فروغ حاصل ہو گا اور وکست بھارت کے ویژن کے مطابق ایک لچکدار،  پائیدار اور خوشحال زرعی شعبے کی تعمیر میں مدد ملے گی۔

مرکزی وزیرِ مملکت برائے زراعت و کسانوں کی بہبود جناب رام ناتھ ٹھاکر نے اس بات پر زور دیا کہ زراعت کو مضبوط کرنا اور کسانوں کو بااختیار بنانا 'وِکست بھارت' کے ویژن  کو حاصل کرنے کے لیے بنیادی اصول ہیں۔ انہوں نے زرعی تعلیم کو جدید بنانے، اختراع  کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو نئے چیلنجوں  سے نمٹنے کے لیے ضروری علم اور مہارتوں سے لیس کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دیا کہ تحقیق اور تعلیم کو کسانوں کی ضرورتوں سے مربوط  ہونا چاہیے اور کسانوں کے مسائل کا عملی اور زمینی حل فراہم کرنا چاہیے۔ انہوں نے زرعی یونیورسٹیوں اور اداروں سے اپیل کی کہ وہ پائیدار اور ٹیکنالوجی پر مبنی زراعت پر توجہ دیتے ہوئے اختراع، کاروبار اور عمدگی  کے کلچر کو فروغ دیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ تعلیم، تحقیق اور اختراع میں اجتماعی کوششیں زرعی شعبے کی تبدیلی میں تیزی لائیں  گی اور کسانوں کی آمدنی اور روزگار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

سکریٹری، ڈی اے آر ای اور   ڈائریکٹر جنرل، آئی سی اے آر ڈاکٹر ایم ایل جاٹ نے اس بات پر زور دیا کہ 'وِکست بھارت' کے وژن کو حاصل کرنے کے لیے زرعی اعلیٰ تعلیم میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے—یعنی روایتی طریقوں کو چھوڑ کر ایک ایساایکو سسٹم  بنایا جائے  جو مہارت اور اختراع  پر مبنی ہو۔ انہوں نے انڈسٹری اور تعلیمی اداروں کی شراکت داری کو مضبوط کرنے، کسانوں اور مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق تحقیق کو فروغ دینے،  منظوری کے مضبوط نظام  کو یقینی بنانے اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی سے  فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سائنسی علم کو کسانوں کے لیے زمینی حل اور حقیقی فائدے میں بدلنے کے لیے تعلیم، تحقیق اور توسیعی خدمات  کا آپس میں مضبوطی سے جڑا ہونا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "مستقبل کی زرعی تعلیم کا مقصد صرف ڈگریاں  تقسیم کرنا نہیں  ہونا چاہیے، بلکہ ایک ایسا ہنرمند، اختراعی اور عالمی سطح پر مسابقتی   انسانی سرمایہ تیار کرنا ہونا چاہیے جو قومی ترجیحات اور  ہندوستانی  زراعت کی بدلتی ہوئی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔

یہ کانفرنس پانچ اجلاسوں   پر مشتمل ہے جن میں 14 ایجنڈا آئٹم  کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان  اجلاسوں   میں طلبہ پر مرکوز اصلاحات، اعلیٰ تعلیم، فیکلٹی کی ترقی، اداروں کی مضبوطی، معیار میں بہتری، تعلیمی اصلاحات، تحقیق، اختراع اور ادارہ جاتی  عمدگی  پر توجہ دی جا رہی ہے۔

بات چیت میں زرعی تعلیم کو  مزید قابل رسائی اور شمولیتی بنانے   کے لیے بروقت آئی سی اے آر ، اے آئی کیو  کونسلنگ اور تصدیقی عمل ، ویٹرنری سائنسز کے لیے علیحدہ پی ایچ ڈی کونسلنگ  اور زراعت کی اہلیت رکھنے والے اور ہندی میڈیم کے طلبہ کے لیے انڈر گریجویٹ کی اہلیت جیسے مسائل پر بھی غور کیا گیا۔

کانفرنس میں جے آر ایف/ ایس آر ایف تحقیق کو قومی ترجیحات کے مطابق ڈھالنے، منظوری کے نظام   اور معیار کی یقین دہانی کو مضبوط کرنے  اور مالیاتی انتظام، جوابدہی و کارکردگی پر مبنی فنڈنگ کو بہتر بنانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ انڈسٹری اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط روابط، اپرنٹس شپ اور انٹرن شپ، نصاب پر  نظرثانی اور  مشترکہ ڈگری پروگراموں اور تعلیمی تبادلے کے فروغ پر خصوصی زور دیا گیا۔

فیکلٹی کی ترقی اور اداروں کو مضبوط بنانے کے تحت  شرکاء نے زراعت اور اس سے وابستہ علوم میں ڈگریوں کی برابری ، ٹریننگ کی  ضروریات کی نشاندہی، ٹریننگ ماڈیولز کی تیاری اور ماہرین/ڈومین میپنگ پر تبادلہ خیال کیا۔ تعلیمی ایکو سسٹم میں   پیشہ ورانہ مہارت اور عملی علم لانے کے لیے زرعی یونیورسٹیوں میں  پروفیسرز آف پریکٹس کو شامل کرنے کی تجویز پر بھی  تبادلہ خیال کیا گیا۔

کانفرنس میں شواہد پر مبنی منصوبہ بندی، نگرانی اور فیصلہ سازی کے لیے ایک جامع زرعی تعلیمی ڈیٹا ایکو سسٹم تیار کرنے پر بھی غور وخوض  کیا گیا۔ دیہی زرعی کام کے تجربے کو مضبوط بنانے پر روشنی ڈالی گئی، جو طلبہ کو دیہی حقائق سے جوڑنے اور دیہی تبدیلیوں میں مدد فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

تعلیمی اصلاحات، تحقیق، اختراع اور ادارہ جاتی  عمدگی  پر ہونے والی بات چیت میں انڈین ایگریکلچرل یونیورسٹیز ایسوسی ایشن ( آئی اے یو اےکے  مشترکہ ایجنڈا آئٹم ، یو جی سی پی ایچ ڈی ریگولیشنز 2016 کے یکساں نفاذ  اور ریاستی زرعی یونیورسٹیوں میں ٹیکنالوجی کی تیاری کی سطح  کا فروغ شامل تھا تاکہ تحقیق کو عملی ٹیکنالوجیز اور اختراعات  میں بدلنے کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔

ان مذاکرات نے مجموعی طور پر اس ضرورت پر زور دیا کہ زرعی یونیورسٹیوں کو ایک ایسے متحرک، ٹیکنالوجی سے لیس اور نتائج پر مبنی ایکو سسٹم  میں تبدیل کیا جانا چاہئے  جو تعلیم، تحقیق، اختراع، صنعت اور دیہی روابط کو باہم مربوط کرتا  ہو۔ عالمی سطح پر مسابقتی  اداروں کی تعمیر کے لیے مضبوط تعلیمی شراکت داری، معیار کی یقین دہانی، ڈیٹا پر مبنی گورننس اور قومی ترجیحات کے مطابق تحقیق کو انتہائی اہم قرار دیا گیا۔

قبل ازیں ، آئی سی اے آر کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (زرعی تعلیم) ڈاکٹر یشپال ملک نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور کانفرنس کا پس منظر واضح کیا۔ افتتاحی  اجلاس   میں پچھلی کانفرنس کی  ایکشن ٹیکن رپورٹ کی پیشکش اور اس پر بحث کے ساتھ ساتھ پرانے فیصلوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔

*****

(ش ح- ن  ا)

U.N:2602


(ریلیز آئی ڈی: 2303357) وزیٹر کاؤنٹر : 12