ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

منگولیا کے دارالحکومت اولان باتور میں یو این سی سی ڈی  سی او پی 17 میں بھارت نے خشک سالی سے نمٹنے کے طریقۂ کار سے خشک سالی کے مقابلے میں مضبوط استحکام پیدا کرنے کی جانب منتقلی پر زور دیا


خشک سالی کو بار بار آنے والی آفت کے بجائے قابل پیش گوئی اور قابل تدارک خطرے کے طور پر دیکھا جائے:جناب بھوپیندریادو

تیاری کو ردعمل پر، روک تھام کو بحران کے انتظام پر اوراستحکام کو بحالی پر ترجیح دینا ہمارا مقصد ہونا چاہیے: مرکزی وزیر ماحولیات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 AUG 2026 12:59PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی جناب بھوپیندریادو نے آج خشک سالی سے نمٹنے کے عالمی طریقۂ کار میں بنیادی تبدیلی پر زور دیتے ہوئے  کہا کہ ردعمل پر مبنی امدادی اقدامات کے بجائے پیشگی منصوبہ بندی اور ٹیکنالوجی سے مزین استحکام پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔ وزیر موصوف نے منگولیا کے دارالحکومت اولان باتور میں صحرائی کاری سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشن (یو این سی سی ڈی) کےشراکت داروں کی17ویں کانفرنس (کوپ 17) کے دوران ’خشک سالی کے مقابلے میں استحکام پیدا کرنے کے عمل کو تیز کرنے‘ کے موضوع پر وزارتی مذاکرات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خشک سالی ’’اب کوئی کبھی کبھار پیش آنے والا واقعہ نہیں رہی بلکہ ترقی کے لیے ایک فیصلہ کن چیلنج بن چکی ہے‘‘، جو آبی تحفظ، غذائی نظام، حیاتیاتی تنوع اور معاشی استحکام کو متاثر کر رہی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image001_20260825130014_239476.jpg

جناب یادو نے بھارت کے مربوط اور کثیر ادارہ جاتی طریقۂ کار کو اجاگر کیا، جس میں ابتدائی انتباہ، تخفیفِ اثرات، امداد اور برادری کی سطح پراستحکام پیدا کرنے کے اقدامات کو یکجا کیا گیا ہے۔ بارش کی نگرانی اور سیٹلائٹ پر مبنی خشک سالی کے جائزوں کے ذریعے بین وزارتی اور ریاستی سطح پر پیشگی تیاری کے اقدامات شروع کیے جاتے ہیں، تاکہ خشک موسم کی مختصر مدت کسی بڑے بحران میں تبدیل نہ ہو۔زمین اور پانی کے درمیان اہم تعلق پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا،‘‘پانی کے بہاو سے پہلےجنگلات کو بحال کریں’’۔ اس کے ذریعے انہوں نے زمین کے کٹاؤ میں کمی، پانی کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے اور زیرزمین پانی کی سطح کو دوبارہ بہتر بنانے کے لیے آبی گزرگاہوں کے بالائی علاقوں اور دریائی مناظر میں شجرکاری و جنگلات کی بحالی پر بھارت کی توجہ کو اجاگر کیا۔ دریاؤں کی بحالی اور روایتی آبی ذخائر کی تجدید بھی آبی تحفظ اور دیہی علاقوں میں خشک سالی کے مقابلے میں استحکام کو مزید مضبوط بناتی ہے۔

وزیر موصوف نے بتایا کہ بھارت کے پہاڑی علاقوں میں چشموں اور زیرزمین پانی کی بحالی والے مقامات کی پانی سطح کو پھر سے عوام کی قیادت میں بلند کیا جا رہا ہے، جبکہ میدانی علاقوں میں ملک گیر آبی گزرگاہی پروگرام کے تحت بارانی اور متاثرہ زمینوں کی بحالی کے لیے پہاڑی ڈھلوانوں سے وادیوں تک کے مربوط طریقۂ کار کو اپنایا گیا ہے۔ اس عمل میں مقامی برادریوں کے اداروں اور دیہی روزگار کے پروگراموں کے ساتھ باہمی اشتراک کو بھی شامل کیا گیا ہے۔گھریلو سطح پر پینے کے پانی کے پروگراموں کا مقصد خشک سالی یا دیگر مشکل حالات کے دوران پانی کی قابلِ اعتماد فراہمی یقینی بنانا ہے، جس کے لیے مقررہ خدماتی معیار، مقامی سطح پر پانی کے معیار کی جانچ اور حساس و متاثرہ علاقوں کو ترجیح دینے کا طریقۂ کار اپنایا گیا ہے۔ انہوں نے فصل بیمہ کا بھی ذکر کیا، جو فصل کے پورے دورانیے میں کسانوں کو خشک سالی اور دیگر ایسے نقصانات سے تحفظ فراہم کرتا ہے جنہیں روکا نہیں جا سکتا۔ اس نظام میں رعایتی بیمہ پریمیم کے ساتھ ٹیکنالوجی پر مبنی نقصانات کے جائزے کو شامل کیا گیا ہے، تاکہ دعووں کی تیز رفتار اور شفاف ادائیگی یقینی بنائی جا سکے۔وزیر موصوف نے زور دیا کہ برادریوں کی ملکیت و شمولیت، صلاحیت سازی اور روزگار کے ذرائع میں تنوع، ردعمل پر مبنی امداد سے پیشگی اقدامات اور ٹیکنالوجی سے مزین استحکام کی جانب منتقلی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

جناب یادو نے کہا کہ بھارت کا بنیادی یقین یہ ہے کہ ’’خشک سالی کو ایک قابلِ پیش گوئی اور قابل تدارک خطرے کے طور پر منظم کیا جانا چاہیے، نہ کہ ایک بار بار آنے والی ایسی آفت کے طور پر جس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ردِعمل درکار ہو۔‘‘ انہوں نے خشک سالی کی روک تھام کے لیے آبی گزرگاہوں کی ترقی، پانی جمع کرنے، شجرکاری، زیرزمین پانی کی سطح کو دوبارہ بلند کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں مضبوط فصلوں کو فروغ دینے جیسے اقدامات کو اجاگر کیا۔ ان اقدامات کے ساتھ ضرورت پڑنے پر آفات سے متعلق فنڈز، روزگار کی ضمانت، مویشیوں کے لیے چارے کی فراہمی اور ہنگامی طور پر پانی کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے۔عالمی سطح پر مزید مضبوط اقدامات کی اپیل کرتے ہوئے جناب یادو نے ماحولیاتی نظام کی بحالی میں زیادہ سرمایہ کاری، ابتدائی انتباہ کے مضبوط نظام اور مربوط کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ردعمل کے بجائے پیشگی تیاری، بحران کے انتظام کے بجائے روک تھام اور بحالی کے بجائےاستحکام پیدا کرنا ہمارا مقصد ہونا چاہیے۔‘‘انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ دنیا کے سب سے زیادہ کمزور طبقوں کے لیے خشک سالی کے مقابلے میں استحکام پیدا کرنا کوئی اختیاری معاملہ نہیں بلکہ یہ وجودکا سوال ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بھارت خشک سالی سے محفوظ مستقبل کی تعمیر کے لیے ابتدائی انتباہ سمیت اپنے علم، تجربات اور صلاحیتوں کو دنیا کے ساتھ بانٹنے کے لیے تیار ہے۔

******

ش ح۔م ش۔اش ق

U. No. 2563


(ریلیز آئی ڈی: 2303130) وزیٹر کاؤنٹر : 6