امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے مہابلی پورم، تمل ناڈو میں جنوبی زونل کونسل کی 31ویں میٹنگ کی صدارت کی


وزیراعظم مودی نے یومِ آزادی کے موقع پر کہا کہ جو کچھ گزشتہ 5 سے 7 دہائیوں میں حاصل نہیں کیا جا سکا، اسے ہمیں آئندہ 5 سے 7 برسوں میں حاصل کرنا ہوگا؛ تب ہی ہم عالمی مسابقت میں اپنا مقام بنانے کے قابل ہو سکیں گے

مودی حکومت نے علاقائی کونسلز کو ایک بااثر اور بامقصد پلیٹ فارم بنا دیا ہے؛ 2014 سے اب تک ہونے والے 70 اجلاسوں میں، 1869 مسائل میں سے تقریباً 80 فیصد مسائل حل کیے جا چکے ہیں

بھارت کی ترقی کی بنیاد جنوبی ریاستوں کی ترقی پر ہے، جس کا دارومدار تین ستونوں پر ہے—شرحِ خواندگی کی بلند سطح، تربیت یافتہ افرادی قوت، اور گہرے سمندر کے وسائل سے استفادے کی تکنیکی مہارت —جبکہ ان ریاستوں کی ترقی کا انحصار پانی پر ہے

مرکزی وزیرِ داخلہ نے وزارتِ جل شکتی، وزارتِ داخلہ اور بین ریاستی کونسل کے تعاون سے متعلقہ ریاستوں کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد کر کے، جنوبی ریاستوں کے پانی کے دیرینہ مسائل کو جلد از جلد حل کرنے پر زور دیا ہے

ہم پورے شمالی بھارت میں پانی سے متعلق مسائل کو تنازعات سے مبرا بنانے میں کامیاب رہے ہیں؛ ہمیں جنوبی بھارت میں پانی کی تقسیم کے مسائل پر بھی نئے سرے سے غور کرنا ہوگا

ریاستوں نے باہمی بات چیت اور تنازعات کے حل کے لیے مثبت نقطہ نظر اپناتے ہوئے، جنوبی ریاستوں کے مابین پانی کے زیرِ التوا تنازعات کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے مرکزی وزیرِ داخلہ کی جانب سے دی گئی تجاویز سے اتفاق کیا ہے

آندھرا پردیش اور تلنگانہ نے وزارتِ داخلہ کے ساتھ مشاورت کے ذریعے اثاثوں اور واجبات کی تقسیم سے متعلق مسائل کو حل کرنے پر اتفاق کیا ہے

اپنی ریاست کے مفادات کا تحفظ کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے، لیکن اگر ان مفادات کے تحفظ کا مطلب یہ ہو کہ ریاستوں کو برسوں تک پانی ہی نہ ملے، تو پھر حقیقت میں کسی کے بھی مفادات کا تحفظ نہیں ہو رہا ہے

اگر بھارت کے بڑے دریاؤں کو، برہم پتر سے لے کر کاویری اور گوداوری تک، آپس میں جوڑ دیا جائے، تو شاید آئندہ 100 برسوں تک بھارت کو پانی کی کسی بھی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے

فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی فوری تحقیقات اور عصمت دری اور پوکسو(پی او سی ایس او) کے مقدمات کے تیز رفتار تصفیے کے لیے ایک انتہائی حساس اور اہم معاملہ ہے

مستقبل کی نسلوں کے لیے غذائی قلت، نشوونما میں رکاوٹ اور اسکول چھوڑنے کی شرح انتہائی اہم معام

प्रविष्टि तिथि: 20 AUG 2026 6:25PM by PIB Delhi

امور داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے تمل ناڈو کے شہر مہابلی پورم میں جنوبی زونل کونسل کی 31ویں میٹنگ کی صدارت کی۔ اس میٹنگ میں تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ جناب سی جوسف وجے، آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب چندربابو نائیڈو، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ جناب ڈی کے شیو کمار، کیرلم کے وزیر اعلیٰ جناب وی ڈی ستیشان، پڈوچیری کے لیفٹیننٹ گورنر جنا ب کے کیلاش ناتھن، انڈمان اور نکوبار جزائر کے لیفٹیننٹ گورنر ایڈمیرل (ریٹائرڈ) ڈی کے جوشی، لکشدیپ کے ایڈمنسٹریٹر جناب پرافل پٹیل، اور تلنگانہ کے نائب وزیر اعلیٰ جناب بھٹی وکرمرکا ملو نے شرکت کی۔ ریاستی حکومتوں کے چیف سکریٹریز، مشیران اور دیگر سینئر افسران کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کے سینئر افسران نے بھی اس میٹنگ میں شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، امور داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ جنوبی بھارت کا یہ خطہ ملک کی ترقی کے لیے ایک انتہائی اہم خطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادب ہو، تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی)، خلائی شعبہ، آئی ٹی، اے آئی، صنعتی ترقی یا زراعت، جنوبی بھارت نے ہمیشہ ہر شعبے میں اپنا تعاون پیش کیا ہے۔ جنوبی بھارت نے ملک کے آئی ٹی، آٹوموبائلز، فارماسیوٹیکلز اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے تمام شعبوں میں ایک بہت بڑا کردار ادا کیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ جنوبی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری بھی آئی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2026-08-20at6.29.32PMSXCV.jpeg

جناب امت شاہ نے کہا کہ جنوبی بھارت کا پورا ترقیاتی سفر تین ستونوں پر مبنی رہا ہے—شرحِ خواندگی کی بلند سطح، تربیت یافتہ افرادی قوت، اور گہرے سمندر کے استعمال میں تکنیکی مہارت۔ ان تین ستونوں نے جنوبی بھارت کو ملک کی ترقی میں سب سے بڑا تعاون دینے والا خطہ بنا دیا ہے۔ جنوبی بھارت کے عوام اور حکومتوں نے جدت طرازی اور آمدنی پیدا کرنے کے شعبوں میں بھی کئی بہترین روایات قائم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے بھارت کو ان دو شعبوں میں جنوبی بھارت سے سیکھنا چاہیے۔

مرکزی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر، وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے واضح کیا ہے کہ جو کچھ گزشتہ سات دہائیوں میں حاصل نہیں کیا جا سکا، اسے ہمیں اگلے پانچ سے سات سالوں میں حاصل کرنا ہوگا؛ تب ہی ہم عالمی مقابلے میں اپنی جگہ محفوظ کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔ ایسی ترقی حاصل کرنے کے لیے، ہر ریاست کو اس میں اپنا تعاون دینا ہوگا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2026-08-20at6.29.32PM(1)RFFW.jpeg

جناب امت شاہ نے کہا کہ 2014 سے زونل کونسل کو ایک بااثر اور بامقصد پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ زونل کونسل بنیادی طور پر ایک آئینی نظام ہے، جو ایک طویل عرصے کے دوران رفتہ رفتہ محض ایک رسمی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ 2004 سے 2014 اور 2014 سے 2026 کے ادوار کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں پہلے کونسل کے سالانہ اوسطاً ڈھائی اجلاس ہوتے تھے، اب ہر سال چھ اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔ انہوں نے ذکر کیا کہ 2014 سے اب تک زونل کونسل کے کل 70 اجلاس ہو چکے ہیں، جن کے دوران 1869 مسائل میں سے 1445 یعنی تقریباً 80 فیصد مسائل حل کیے گئے۔ جناب شاہ نے مزید کہا کہ زونل کونسل کے ان اجلاسوں کے ذریعے 60 سال سے زیرِ التوا کئی معاملات کو بھی سلجھایا گیا ہے۔

مرکزی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ شمالی بھارت میں دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق آٹھ میں سے پانچ مسائل برطانوی دور سے پہلے کے چلے آ رہے تھے۔ پانچ ماہ قبل ایک حتمی معاہدہ طے پا گیا، اور کشمیر سے لے کر اتر پردیش تک پھیلے ہوئے تمام 100 فیصد مسائل کو حل کر کے ایک تنازعات سے پاک شمالی بھارت کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2026-08-20at6.29.32PM(2)7FHA.jpeg

جناب امت شاہ نے کہا کہ جنوبی ریاستیں ملک کی ترقی کا بنیادی ستون ہیں، اور جنوبی ریاستوں کی ترقی کا انحصار پانی پر ہے۔ زراعت ہو، صنعت، شہریوں کی صحت یا ماحولیات—پانی ان تمام چاروں شعبوں میں اس خطے کی روح کی حیثیت رکھتا ہے۔

جناب امت شاہ نے یہ بات نوٹ کی کہ اپنی ریاست کے مفادات کا تحفظ کرنا غلط نہیں ہے؛ تاہم، اگر مفادات کے تحفظ کے اس عمل کا نتیجہ یہ نکلے کہ ریاستیں برسوں تک پانی سے محروم رہیں جبکہ وہ پانی محض بہہ کر سمندر میں گر جائے، تو پھر حقیقت میں کسی بھی مفاد کا تحفظ نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ برہم پتر سے لے کر کاویری اور گوداوری تک کے بڑے دریاؤں کو آپس میں جوڑنے سے یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ بھارت کو آئندہ 100 برسوں تک پانی کی کسی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ اقدام متعدد آبی گزرگاہوں کی تعمیر میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف ایندھن کی بچت ہوگی اور ماحولیات میں بہتری آئے گی بلکہ ایک سستا اور کفایتی ٹرانسپورٹ سسٹم بھی فراہم ہوگا۔

مرکزی وزیرِ داخلہ جناب امت شاہ نے وزارتِ جل شکتی، وزارتِ داخلہ، بین ریاستی کونسل اور متعلقہ ریاستوں کے مابین مشترکہ اجلاسوں کے انعقاد کے ذریعے، جنوبی ریاستوں سے متعلق پانی کے زیرِ التوا مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جنوبی ریاستوں نے باہمی بات چیت اور تعمیری حل کے ذریعے پانی کے ان زیرِ التوا تنازعات کو تیز رفتاری سے حل کرنے کی وزیرِ داخلہ کی تجویز سے اتفاق کیا۔ آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے مابین اثاثوں اور واجبات کی تقسیم سے متعلق مسائل کے بارے میں، دونوں ریاستوں نے وزارتِ داخلہ کی مشاورت سے ان معاملات کو سلجھانے پر اتفاق کیا۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف عصمت دری کے معاملات کی تیز رفتار تفتیش، اور فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس کے نفاذ کے ذریعے ریپ اور پوکسو کے مقدمات کا جلد تصفیہ انتہائی حساس مسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزرائے اعلیٰ کی سطح پر ان مسائل کو بڑی حساسیت کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ نئے فوجداری قوانین کے نفاذ کے بعد، اس پورے عمل کو تیز کرنے کے لیے ہمارے پاس بہت سے نئے طریقے اور وسائل دستیاب ہو گئے ہیں۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ غذائی قلت، نشوونما میں رکاوٹ اور اسکول چھوڑنے کی شرح ہماری مستقبل کی نسلوں کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اسکول چھوڑنے کی شرح کے مسئلے کو حل کرنے کے معاملے میں ہمیں 100 فیصد سے کم کسی بھی چیز پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔ جناب شاہ نے کہا کہ فی الحال پورے ملک میں اسکول چھوڑنے کی شرح 9.5 فیصد ہے، اور اگر تمام ریاستیں اس میں بتدریج بہتری بھی لائیں، تو ہم اسے 3 فیصد سے نیچے لا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسکول چھوڑنے کی قومی شرح 3 فیصد سے نیچے چلی جاتی ہے، تو بچے تعلیم یافتہ شہری بنیں گے اور ملک میں نچلی سطح تک حقیقی معنوں میں آئین کی روح کو نافذ کرنے کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا ہوگا۔

مرکزی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ہمیں غذائی قلت پر بھی خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ ایک طرح سے، غذائیت کی اسکیمیں اسکول چھوڑنے کی شرح سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نشوونما میں رکاوٹ یعنی بچوں کے قد و قامت کے رک جانے کے ایک اور بھی خطرناک مسئلے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ رفتہ رفتہ ایک قومی مسئلہ بنتا جا رہا ہے جو ہماری مستقبل کی نسلوں کی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے، ہمیں غذائی قلت اور نشوونما میں رکاوٹ کے مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ جناب شاہ نے کہا کہ غذائی قلت کے خلاف جنگ کی شروعات تمل ناڈو اور آندھرا پردیش نے کی تھی، جسے بعد میں پورے ملک نے قبول کیا۔ اب اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آزادی کے 80 سال بعد، ہم اس ملک پر غذائی قلت کے شکار بچوں کا بوجھ نہیں ڈال سکتے۔ اگر وزرائے اعلیٰ کی سطح پر اس مسئلے پر حساسیت کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے تو ملک کو اس مسئلے سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ اور صحت مند بھارت کی تعمیر میں اپنا تعاون دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ آج منشیات سے مبرا بھارت ہر حکومت اور ہمارے معاشرے کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ حکومتِ ہند کی وزارتِ داخلہ نے ایک تین سالہ روڈ میپ تیار کیا ہے جس میں ریاستوں اور مرکز کے متعدد محکموں کے کردار کی وضاحت کی گئی ہے۔ جب تک مرکزی حکومت کے تمام محکمے اور تمام ریاستی حکومتوں کے تمام محکمے اس تحریک کا حصہ نہیں بنتے، ہم آنے والی نسل کو اس برائی سے نہیں بچا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ اور صحت مند بھارت کی تعمیر میں اپنا تعاون دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:2393


(रिलीज़ आईडी: 2301724) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam