وزارت دفاع
بھارت-جاپان مشترکہ پریس بیان
प्रविष्टि तिथि:
20 AUG 2026 1:06PM by PIB Delhi
دفاعی امور کے وزیر جناب راج ناتھ سنگھ اور جاپان کے وزیردفاع جناب شن جیرو کوئزومی نے 20 اگست 2026 کو نئی دہلی میں دو طرفہ ملاقات کی۔ مشترکہ پریس بیان درج ذیل ہے:
’’20 اگست 2026 کو جاپان کے وزیردفاع جناب شن جیرو کوئزومی اور جمہوریۂ ہند کے وزیردفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے نئی دہلی میں جاپان-بھارت وزرائے دفاع کا اجلاس منعقد کیا۔‘‘
دونوں وزرائے دفاع نے ’’جاپان-بھارت خصوصی کلیدی اور عالمی شراکت داری‘‘ کے تحت دفاعی تعاون میں مسلسل مضبوطی کا خیرمقدم کیا، جس میں دونوں ممالک کی متعلقہ وزارتوں اور مسلح افواج کے درمیان تعاون بھی شامل ہے۔ دونوں ممالک کے مشترکہ اسٹریٹیجک نقطۂ نظر پر مبنی یہ شراکت داری ہند-بحرالکاہل خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے۔
دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے جولائی 2026 میں جاری کیے گئے جاپان-بھارت مشترکہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے، دونوں وزرائے دفاع نے آزاد اور کھلے ہند-بحرالکاہل خطے کے قیام کے مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی قیادت میں دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں وزرائے دفاع نے اس امر سے اتفاق کیا کہ عالمی کشیدگی میں اضافے کے موجودہ دور میں دونوں ممالک کے درمیان علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے ماحول سے متعلق جائزوں کا تبادلہ انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے جہازرانی اور فضائی پرواز کی آزادی و سلامتی میں رکاوٹ ڈالنے والے کسی بھی یک طرفہ اقدام کی سخت مخالفت کا اظہار کیا، نیز طاقت یا جبر کے ذریعے موجودہ صورت حال کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کی بھی شدید مخالفت کی۔
دونوں وزرائے دفاع نے بحری سلامتی کے شعبے میں عملی اور مؤثر انداز میں عملیاتی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔ اسی مناسبت سے انہوں نے بحری سلامتی کے تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور جاپان کی وزارتِ دفاع اور بھارت کی وزارتِ دفاع کے درمیان بحری سلامتی کے تعاون سے متعلق انتظامی مفاہمت نامے پر دستخط کیے۔
یہ انتظامی مفاہمت نامہ دونوں ممالک کے درمیان بحری سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ خاص طور پر، اس میں جاپان کی میری ٹائم سیلف ڈیفنس فورس اور بھارتی بحریہ کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا شامل ہے، جس میں بحری حدود سے متعلق آگاہی (ایم ڈی اے) کے شعبے میں معلومات کا تبادلہ، نیز تلاش اور بچاؤ (ایس اے آر) اور انسانی امداد و آفات سے نمٹنے (ایچ اے ڈی آر) جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینا شامل ہے۔
دونوں وزرائے دفاع نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بحری جہازوں اور یونٹس کے باہمی دوروں، مشترکہ مشقوں، اہلکاروں اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کے تبادلے، نیز بندرگاہوں کے استعمال، دیکھ بھال اور مرمت کی سہولیات سمیت رسدی معاونت کے ذریعے بحری مواصلاتی راستوں کے تحفظ کے لیے دونوں ممالک کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ اس طرح کا تعاون نہ صرف جاپان اور بھارت بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
دونوں وزرائے دفاع نے اس بات پر اتفاق کیا کہ لائحہ عمل اور عملیاتی ضروریات کو پورا کرنے والے ٹھوس بحری سلامتی تعاون کو تیزی سے عملی شکل دی جانی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاقِ رائے کا اظہار کیا کہ بارودی سرنگوں سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے دونوں ممالک کو باہمی تعاون سے زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کرنی چاہیے اور اپنی متعلقہ پالیسیوں کے مطابق جاپان کی تکنیکی مہارت اور بھارت کی پیداواری صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے بحری جہازوں کی تیاری اور ڈیزائن کے شعبے میں مشترکہ ترقی کے امکانات تلاش کرنے چاہئیں۔دونوں وزرائے دفاع نے مزید اس امر سے اتفاق کیا کہ دفاعی جہاز سازی اور متعلقہ شعبوں میں ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے اور ’’میک اِن انڈیا‘‘ کے فریم ورک کے تحت جاپان کی جانب سے بھارت کی پیداواری صلاحیتوں کے استعمال کے امکانات پر مزید تفصیلی بات چیت کی جائے۔ دونوں وزرائے دفاع نے مستقبل قریب میں بحری جہازوں کی مرمت سے متعلق انتظامات کو حتمی شکل دینے سمیت ایک دوسرے کو جہازوں کی مرمت کی سہولیات فراہم کرنے کے عمل کو آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
دونوں وزراءنے جاپان اور بھارت کے درمیان منعقد ہونے والی دو طرفہ فوجی مشقوں کے دائرۂ کار میں مسلسل توسیع اور ان میں بڑھتے ہوئے تعاون کا خیرمقدم کیا، جن میں جاپان-بھارت بری فوج کی مشق ’’دھرما گارجین‘‘ اور جاپان-بھارت بحری مشق ’’جیمیکس‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر اس سال ہونے والی جاپان-بھارت فضائی مشق ’’ویر گارجین 26‘‘ کے لیے رابطہ کاری میں ہونے والی مسلسل پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ اس مشق کے تحت جاپان کی فضائی سیلف ڈیفنس فورس کے لڑاکا طیارے پہلی بار بھارت کا دورہ کریں گے اور مشق میں حصہ لیں گے۔دونوں وزراء نے دو طرفہ فوجی مشقوں میں مزید پیچیدگی اور جدیدیت پیدا کرنے، بغیر پائلٹ کے نظاموں کو مربوط کرنے اور مواقع دستیاب ہونے پر مختصر نوٹس پر مشترکہ مشقیں کرنے کے ذریعے تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے لیے، دونوں وزرائے دفاع نے اپنی متعلقہ خصوصی آپریشنز فورسز کے درمیان تبادلوں کو فروغ دینے اور بھارت میں مربوط تھیٹر کمانڈز کے قیام کے بعد ان کے ساتھ تعاون کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
دفاعی امور کے وزیر جناب راج ناتھ سنگھ نے دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے اپنے فریم ورک کے جاپان کی جانب سے حالیہ جائزے کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ جاپان ہند-بحرالکاہل خطے اور وسیع تر دنیا میں امن و استحکام کے لیے مزید مؤثر رول ادا کرے گا۔ انہوں نے خاص طور پر دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور ٹیکنالوجی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کی توقع کا اظہار کیا۔
دونوں وزراء نے اس بات پر اتفاقِ رائے کا اظہار کیا کہ بحری جہازوں پر نصب کیے جانے والے ’’یونیکورن‘‘ مربوط مواصلاتی اینٹینا نظام سے متعلق منصوبہ، جو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی سازوسامان کی منتقلی کا پہلا منصوبہ ہے، دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبے میں جاپان اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی علامت ہے۔ دونوں وزرائے دفاع کی قیادت میں انہوں نے اس منصوبے کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں دیگر منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے، دونوں وزرائے دفاع نے دونوں ممالک کی متعلقہ مسلح افواج کے درمیان عملیاتی ضروریات سے متعلق بات چیت کو مزید آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں وزرائے دفاع نے جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں ڈی آر ڈی او اور اے ٹی ایل اے کے درمیان دفاعی تحقیق و ترقی کے تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ دونوں وزرائے دفاع نے دفاعی صنعت سے متعلق فورم منعقد کرنے کے ارادے کی بھی تصدیق کی۔
دونوں وزرائے دفاع نے اس سال فروری میں جاپان، بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان پہلی سہ فریقی بحری پی اے ایس ایس ای ایکس (پاسیکس) مشق کے انعقاد کا خیرمقدم کیا۔ ہند-بحرالکاہل خطے کے بارے میں جامع نقطۂ نظر اپنانے اور خطے و دنیا میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ طور پر اپنا رول ادا کرنے کے مقصد سے، دونوں وزرائے دفاع نے اعلیٰ سطحی تبادلوں، فوجی مشقوں اور دیگر متعلقہ اقدامات کے ذریعے تیسرے ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں وزراء نے ہند-بحرالکاہل لاجسٹکس نیٹ ورک (آئی پی ایل این) کے ذریعے تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا، تاکہ قدرتی آفات کی صورت میں شراکت دار ممالک کو اہلکاروں اور ضروری سامان کی منتقلی کے ذریعے معاونت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے اس امر کا خیرمقدم کیا کہ آئی پی ایل این کی دوسری ٹیبل ٹاپ مشق رواں سال ستمبر میں جاپان کی وزارتِ دفاع میں منعقد ہونے والی ہے۔
جولائی 2026 میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے جاری کیے گئے جاپان-بھارت مشترکہ بیان میں دی گئی رہنمائی کا حوالہ دیتے ہوئے، دونوں وزرائے دفاع نے رواں سال ٹوکیو میں چوتھے جاپان-بھارت وزرائے خارجہ و دفاع کے اجلاس’’2+2‘‘کے انعقاد کی جانب بات چیت کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں وزراء نے مزید اتفاق کیا کہ جاپان اور بھارت دونوں ممالک کی سلامتی اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضرورت کے مطابق باہمی مشاورت کریں گے۔
دونوں وزراءنے ایک ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا، جس کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل/جوائنٹ سکریٹری سطح کے افسران کریں گے۔ اس گروپ کا مقصد دونوں ممالک کی متعلقہ پالیسیوں اور خودمختار فیصلوں کا مکمل احترام کرتے ہوئے عملیاتی، انٹیلی جنس، دفاعی سازوسامان، ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں میں مربوط انداز میں تعاون کو آگے بڑھانا ہے۔ ورکنگ گروپ دونوں وزرائے دفاع کی جانب سے طے کردہ تعاون کی سمتوں کے لیے مجموعی تال میل کرے گا، تعاون کے مختلف شعبوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کرے گا اور ان کے نفاذ کو تیز کرے گا۔
ملاقات سے قبل وزیردفاع کوئزومی نے نئی دہلی میں نیشنل وار میموریل پر گلہائے عقیدت نذر کیے اور بھارت کے شہید فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہیں تینوں افواج کی جانب سے رسمی گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ وزیرِ دفاع کوئزومی نے ممبئی میں ویسٹرن نیول کمانڈ (ڈبلیو این سی) اور بھارتی بحریہ کے جہاز چنئی کا بھی دورہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ ش ب ۔ع ن)
U. No. 2362
(रिलीज़ आईडी: 2301489)
आगंतुक पटल : 12