بجلی کی وزارت
بھارت نے برکس کی صدارت کے دوران آٹھویں برکس یوتھ انرجی سمٹ 2026 کی میزبانی کی
نوجوان برکس توانائی تعاون کے مرکز میں
प्रविष्टि तिथि:
19 AUG 2026 2:35PM by PIB Delhi
بھارت نے 17 اگست 2026 کو برکس کی اپنی صدارت کے تحت آٹھویں برکس یوتھ انرجی سمٹ 2026 کی ورچوئل وسیلے سے میزبانی کی۔ اس سربراہ اجلاس میں 100 سے زائد شرکا نے شرکت کی، جن میں برکس کے رکن ممالک کی یونیورسٹیوں، سرکاری اداروں اور توانائی کی وزارتوں سے وابستہ نوجوان توانائی ماہرین شامل تھے۔ برکس یوتھ انرجی ایجنسی (برکس وائی ای اے) کے نمائندوں کے علاوہ پائیدار توانائی سب کے لیے (ایس ای فارآل)، بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے) اور بین الاقوامی قابل تجدید توانائی ایجنسی (آئی رینا) سمیت مختلف بین الاقوامی تنظیموں نے بھی سربراہ اجلاس میں شرکت کی۔
2026 میں بھارت کی برکس صدارت کاوسیع موضوع ‘‘استحکام، جدت طرازی، تعاون اور پائیداری کی تشکیل’’ ہے۔ توانائی کے شعبے کے تحت بھارت نے ”सर्वेषां ऊर्जम्“ (سب کے لیے توانائی) کا موضوع اپنایا ہے، جو برکس ممالک میں سب کے لیے سستی، قابل رسائی اور جامع توانائی کی فراہمی کو فروغ دینے کے بھارت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سربراہ اجلاس میں برکس توانائی تعاون کے مرکز میں نوجوانوں کو رکھا گیاہے اور جدت طرازی، کاروباری سرگرمیوں، تکنیکی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں ان کے اہم کردار کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں برکس ممالک کے نوجوان ماہرین، تعلیمی اداروں، سرکاری اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
مذاکرات میں اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا کہ مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی کے عملی مظاہرے، معلومات کے تبادلے اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے ذریعے نوجوانوں کی شمولیت کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ تین ترجیحی شعبوں، یعنی (1) توانائی کا تحفظ اور پائیداری، (2) توانائی تک رسائی اور مساوات اور (3) ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے تحت 20 سے زائد نوجوان پینلسٹس نے توانائی کے ذرائع میں تنوع، توانائی کی مضبوط اور پائیدار فراہمی کے سلسلے، توانائی تک رسائی اور اختراعی مالی اعانت، نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور توانائی کے نظاموں کی ڈیجیٹلائزیشن سمیت اہم موضوعات پر اپنے اپنے ممالک کے تجربات اور نقطۂ نظر پیش کیے۔
مذاکرات میں اس امر پر وسیع اتفاقِ رائے سامنے آیا کہ ماحولیات کے لیے سازگار توانائی کے فروغ کے لیے مضبوط اور متنوع توانائی نظام، سستی اور سب کے لیے یکساں توانائی تک رسائی، نیز اختراعی اور قابلِ استطاعت مالی اعانت ضروری ہے۔ قابلِ اعتماد توانائی سے متعلق اعداد و شمار، مختلف نظاموں کے باہمی مطابقت، سائبر سکیورٹی اور ہنرمند افرادی قوت سے تعاون یافتہ تکنیکی جدت طرازی اور ڈیجیٹلائزیشن کو مؤثر، پائیدار اور مضبوط توانائی نظاموں کے قیام میں اہم معاون عوامل قرار دیا گیا۔
بھارت کے نوجوان نمائندوں نے توانائی کی یقینی فراہمی، توانائی تک رسائی، ماحولیات کے لیے سازگار توانائی کے فروغ اور بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے ملک کے اہم اقدامات اور کامیابیوں کو اجاگر کیا۔ ان میں پی ایم کُسُم، پی ایم سوریہ گھر، شانتی ایکٹ، بجلی کی تقسیمِ کے شعبے کی نظرثانی شدہ اسکیم اور انڈیا انرجی اسٹیک شامل ہیں۔ انہوں نے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے، بجلی کی تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور غیر مرکزی قابلِ تجدید توانائی اور ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے کے حوالے سے بھارت کے تجربات بھی پیش کیے۔ اس کے ساتھ ہی اسمارٹ گرڈز اور توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے میں برکس ڈیجیٹل سینٹر آف ایکسیلنس کو معلومات کے تبادلے، صلاحیت سازی اور اسمارٹ گرڈز، توانائی ذخیرہ کرنے اور گرڈ کی مضبوطی کے حوالے سے باہمی تعاون کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا گیا۔
آٹھویں برکس یوتھ انرجی سمٹ 2026 نے‘‘سب کے لیے توانائی’’کے تصور کے مطابق ایک محفوظ، پائیدار، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ توانائی کے شعبے کو آگے بڑھانے اور اس کی تشکیل میں برکس ممالک کے نوجوانوں کے اہم کردار کی ایک بار پھر توثیق کی۔
*****
ش ح۔ م ع –ت ع
U.No. 2314
(रिलीज़ आईडी: 2301209)
आगंतुक पटल : 12