زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
زرعی تحقیق کے بھارتی کونسل (آئی سی اے آر) کی 97ویں سالانہ جنرل میٹنگ میں زرعی شعبے میں یکسر تبدیلی کے لیے روڈ میپ تیار
’مانگ پر مبنی تحقیق‘ میں کسانوں، منڈیوں اور صارفین کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے: مرکزی وزیر زراعت
چھوٹے اور معمولی کسانوں کی آمدنی کو متنوع بنانے کے لیے مربوط کاشتکاری کلیدی اہمیت رکھتی ہے: جناب شیوراج سنگھ چوہان
لیبارٹری سے کھیت تک: ٹیکنالوجی کی تیز تر منتقلی کے لیے آئی سی اے آر اور صنعت کے درمیان مضبوط شراکت داری ضروری: جناب شیوراج سنگھ چوہان
آئی سی اے آر کے لیے نیا وژن: زیادہ مکالمے، واضح ترجیحات اور بہتر نتائج: جناب چوہان
’خیالات بیج کی مانند ہوتے ہیں‘: جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اختراع کو عملی اقدامات اور مؤثر نتائج میں تبدیل کرنے پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 AUG 2026 5:20PM by PIB Delhi
زرعی تحقیق کے بھارتی کونسل (آئی سی اے آر) سوسائٹی کی 97ویں سالانہ جنرل میٹنگ آج نئی دہلی کے نیشنل ایگریکلچرل سائنس کمپلیکس (این اے ایس سی) میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت زراعت اور کسانوں کی بہبود نیز دیہی ترقیات کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ ’’ترقی یافتہ زراعت کے بغیر ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو شرمندۂ تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو صرف پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ’’کھیت سے عالمی منڈی تک‘‘ اپنی ایک مضبوط شناخت قائم کرنی چاہیے۔ انہوں نے کسانوں کی ضروریات، بازار کی مانگ اور صارفین کی ضروریات سے ہم آہنگ طلب پر مبنی تحقیقی نظام قائم کرنے پر زور دیا، تاکہ تحقیق کے نتائج کسانوں کے لیے براہِ راست اور قابلِ پیمائش فوائد کا باعث بنیں۔
انہوں نے کہا کہ زرعی تبدیلی کے اگلے مرحلے میں زرعی آمدنی میں اضافے اور چھوٹے و معمولی کسانوں کی معاشی مضبوطی اور مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مربوط کاشتکاری کے نظام کے ساتھ ساتھ معیاری بیج اور پودے لگانے کے مواد کی بروقت دستیابی، کھاد کے متوازن استعمال، مٹی کی زرخیزی میں بہتری اور پائیدار زرعی طریقہ کار کی اہمیت پر زور دیا۔
جناب چوہان نے معیار، غذائیت، زرعی مصنوعات کی ڈبہ بندی، پیکیجنگ، ذخیرہ کرنے کی مدت اور عالمی معیارات کی پابندی کے ذریعے ہندوستان کی برآمدی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ انہوں نے آئی سی اے آر اور صنعت کے درمیان مضبوط شراکت داری پر زور دیا تاکہ تحقیق کے ذریعے تیار کی جانے والی ٹیکنالوجیز زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں کسانوں تک منتقل کی جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’صرف تحقیق کافی نہیں؛ درست تحقیق، درست وقت پر، درست مسئلے کو حل کرے اور تیزی سے کسان تک پہنچے، یہی حقیقی کامیابی کا پیمانہ ہے۔‘‘
نتائج پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے والے تحقیقی نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جناب چوہان نے سائنس دانوں، پالیسی سازوں، کسانوں، صنعت اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ مکالمے کے ساتھ ساتھ تحقیقی مقاصد کی واضح ترجیحات متعین کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اختراعی خیالات کو صرف لیبارٹریوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں عملی طور پر حل میں تبدیل کرکے زمینی سطح پر قابلِ پیمائش نتائج میں ڈھالا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہماری محنت، ہماری تحقیق اور ہماری کوششیں ہندوستان کی شبیہ کوتبدیل کرنے اور ہمارے کسانوں کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔‘‘

زراعت کے مرکزی وزیر مملکت جناب بھاگیرتھ چودھری نے کہا کہ 2014 سے ہندوستان نے زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اب اگلی ترجیح زراعت کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنا ہے۔
انہوں نے دالوں، تلہن، بیج، مویشی پروری اور قدر میں اضافے والی زرعی مصنوعات کی تیاری کے شعبوں میں خود کفالت کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ آب و ہوا کی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت، مٹی کی زرخیزی اور وسائل کے پائیدار انتظام کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے فصلوں کی پیداوار کرنے والے کسانوں کی تنظیموں (ایف پی اوز) کو مضبوط بنانے اور منڈیوں سے بہتر روابط قائم کرنے پر بھی زور دیا۔
جناب چودھری نے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کو کسانوں تک پہنچانے میں آئی سی اے آر اور کرشی وگیان کیندروں (کے وی کے) کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ خود کفیل زراعت 2047 تک خود کفیل ہندوستان اور ترقی یافتہ ہندوستان کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے نہایت اہم ہے۔

ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر مملکت جناب ایس پی سنگھ بگھیل نے زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں، بشمول غذائی اجناس، باغبانی، ڈیری، ماہی پروری، گوشت اور انڈوں کی پیداوار میں ہندوستان کی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس تبدیلی کا سہرا سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی اور سائنس دانوں، کسانوں اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کی مشترکہ کوششوں کو دیا۔
سبز انقلاب اور سفید انقلاب کی وراثت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب بگھیل نے کہا کہ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہے اور ماہی پروری کی پیداوار اور برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے زراعت، مویشی پروری، ڈیری، ماہی پروری اور پولٹری کے شعبوں کے درمیان مزید بہتر ہم آہنگی اور انضمام پر زور دیا۔

اس اجلاس میں زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے مرکزی اور ریاستی وزرا اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں موجود دیگر معزز شخصیات میں اروناچل پردیش حکومت کے وزیر زراعت، مویشی پروری و ویٹرنری، باغبانی اور ماہی پروری جناب گیبریئل ڈان وانگسو؛ آسام حکومت کی وزیر مویشی پروری و ویٹرنری اور ماہی پروری محترمہ نیلیما دیوی؛ بہار حکومت کے وزیر زراعت جناب وجے کمار سنہا؛ ہریانہ حکومت کے وزیر زراعت و کسانوں کی بہبود، مویشی پروری و ڈیری، ماہی پروری اور باغبانی جناب شیام سنگھ رانا؛ جموں و کشمیر حکومت کے وزیر زرعی پیداوار جناب جاوید احمد ڈار؛ مدھیہ پردیش حکومت کے وزیر باغبانی و خوراک کی ڈبہ بندی جناب نارائن سنگھ کشواہا؛ ناگالینڈ حکومت کے رکن اسمبلی اور محکمہ زراعت کے مشیر جناب میتھوتھنگ یانتھن؛ پنجاب حکومت کے وزیر زراعت و کسانوں کی بہبود، مویشی پروری، ماہی پروری اور ڈیری ترقیات جناب گرمیت سنگھ کھڈیان؛ سکم حکومت کے وزیر زراعت، مویشی پروری و ویٹرنری خدمات، باغبانی اور ماہی پروری جناب پورن کمار گرونگ؛ اتراکھنڈ حکومت کے وزیر زراعت و باغبانی جناب گنیش جوشی؛ اتر پردیش حکومت کے وزیر زراعت، زرعی تعلیم اور زرعی تحقیق جناب سوریہ پرتاپ شاہی؛ اتر پردیش حکومت کے وزیر مویشی پروری و ڈیری ترقیات جناب دھرم پال سنگھ؛ اتر پردیش حکومت کے وزیر ماہی پروری جناب سنجے نشاد؛ اور مغربی بنگال حکومت کے محکمہ زراعت کے وزیر جناب دودھ کمار مونڈل شامل تھے۔
محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم کے سکریٹری اور زرعی تحقیق کے بھارتی کونسل کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ایل جاٹ نے آئی سی اے آر کی اہم کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے گزشتہ ایک برس کے دوران سائنسی تحقیق پر مبنی اور کسانوں پر مرکوز زرعی تبدیلی کے شعبے میں کونسل کی تیز رفتار پیش رفت کو اجاگر کیا۔

غذائی اجناس کی پیداوار میں تقریباً 1.9 کروڑ ٹن کا اضافہ ہوا، جبکہ باغبانی، دودھ اور ماہی پروری کے شعبوں میں بھی نمایاں ترقی ریکارڈ کی گئی۔ مجموعی طور پر فصلوں کی 386 نئی اقسام متعارف کرائی گئیں، جن میں 94 فیصد موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ رہنے والی اور 29 حیاتیاتی طور پر مضبوط غذائیت سے بھرپور اقسام شامل ہیں۔ اس سے پیداواریت، موسمیاتی پائیداری اور غذائی تحفظ کو مزید تقویت ملی ہے۔
ڈاکٹر جاٹ نے جینومکس، جینوم ایڈیٹنگ، مویشیوں کی صحت، ماہی پروری، مٹی کی زرخیزی اور قدرتی کاشتکاری کے شعبوں میں ہونے والی اہم پیش رفت کو اجاگر کیا، جس سے ہندوستان کی زرعی پائیداری مزید مضبوط ہوئی ہے۔ مقامی طور پر تیار کردہ افریقی سوائن فیور ویکسین خنزیروں کی صحت اور کسانوں کی روزی روٹی کے تحفظ کے لیے ایک اہم سائنسی کامیابی کے طور پر سامنے آئی ہے۔
آئی سی اے آر نے تحقیق کو کھیتوں میں عملی استعمال اور مارکیٹ کے مواقع میں تبدیل کرنے کے عمل کو بھی تیز کیا ہے۔ گزشتہ ایک برس کے دوران تقریباً 805 دانشورانہ املاک کی درخواستیں دائر کی گئیں، جبکہ 36 اداروں میں ٹیکنالوجی کی تجارت کاری کو مزید مضبوط بنایا گیا۔ زرعی و غذائی نظام کے لیے قومی صنفی پلیٹ فارم اب 9,000 سے زائد اداروں کو ایک دوسرے سے جوڑ رہا ہے، جس سے زراعت میں خواتین کی شرکت کو مزید تقویت مل رہی ہے۔
ڈاکٹر جاٹ نے آئی سی اے آر کی سالانہ رپورٹ 26-2025 بھی پیش کی اور اس کی منظوری کے لیے قرارداد پیش کی۔
آئی سی اے آر کے ایڈیشنل سکریٹری اور مالیاتی مشیر جناب سندیپ سرکار نے 25-2024 کے سالانہ حسابات، آڈیٹر کی رپورٹ کے ساتھ پیش کیے، جس کے بعد ان کی منظوری کے لیے قرارداد پیش کی گئی۔

اس سے قبل اجلاس کا آغاز گزشتہ سالانہ جنرل میٹنگ کے بعد آئی سی اے آر کی جانب سے تحقیق کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت پر ایک پریزنٹیشن سے ہوا، جس میں زرعی تحقیق، اختراع اور ترقی کے لیے کونسل کی خدمات کو اجاگر کیا گیا۔
اس موقع پر صنعت اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے عطیہ دہندگان کے ساتھ آئی سی اے آر کے لیے سی ایس آر شراکت داری کے سلسلے میں ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) پر بھی دستخط کیے گئے، جس سے زرعی تحقیق اور ترقی کے لیے باہمی تعاون اور وسائل کو متحرک کرنے کی کوششوں کو مزید تقویت ملی۔
اس موقع پر آئی سی اے آر کی چار مطبوعات کا اجراء بھی عمل میں آیا ۔ اجلاس میں آئی سی اے آر سوسائٹی کے قواعد و ضوابط اور ضمنی قوانین میں ضروری ترامیم اور ان کو جدید بنانے پر بھی غور وخوض کیا گیا، جس کے بعد ان کی منظوری کے لیے تجویز پیش کی گئی۔
ارکان نے آئی سی اے آر کی کامیابیوں اور زرعی تحقیق کے حوالے سے مستقبل کی توقعات کے بارے میں اپنی تجاویز پیش کیں، جن سے کونسل کے تحقیقی و ترقیاتی ایجنڈے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے قیمتی معلومات حاصل ہوئیں۔
اجلاس میں شریک مرکزی اور ریاستی وزرا نے غذائی اجناس کی پیداوار میں اضافے اور زرعی شعبے میں مجموعی طور پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور کسانوں کی خوشحالی اور زراعت کی ترقی کے لیے اجتماعی طور پر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس کا اختتام محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم کے ایڈیشنل سکریٹری اور مالیاتی مشیر جناب سندیپ سرکار کی جانب سے باضابطہ طور پر پیش کی گئی اظہارِ تشکر کی قرارداد کے ساتھ ہوا، جس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا۔
سالانہ جنرل میٹنگ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے زرعی تحقیق، اختراع اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے آئی سی اے آر کے مسلسل عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے ساتھ کسانوں کی بہبود، غذائی اور تغذیاتی تحفظ اور ایک مضبوط، پائیدار اور خود کفیل زرعی شعبے کی تشکیل پر خصوصی توجہ دینے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا۔
***********
ش ح۔م ع ۔ ا ک م
U No. 2283
(ریلیز آئی ڈی: 2300946)
وزیٹر کاؤنٹر : 11