وزارت خزانہ
محکمۂ مالیاتی خدمات کے زیر اہتمام پی ایس بی کنفلوئنس 2026:پہلے روز کی بات چیت میں چار موضوعات پر توجہ—جمع رقوم میں اضافہ، نوجوانوں کے لیے بینکاری خدمات، سرمایہ کاری کے چکر میں معاونت اور عالمی صلاحیت کے مراکز
مرکزی وزیرخزانہ محترمہ نرملا سیتارمن نے بینکاری کے مستقبل کے لیے نوجوانوں کو اہم ترجیح قرار دیا
وِکسِت بھارت کے لیے بینکاری اصلاحات سے متعلق اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کا جلد اعلان کیا جائے گا:محترمہ نرملا سیتارمن
پی ایس بی کنفلوئنس کے نتائج وِکسِت بھارت کے لیے مجوزہ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کو بینکاری اصلاحات سے متعلق اہم معلومات اور تجاویز فراہم کریں گے
کنفلوئنس نے ہندوستان کی بدلتی ہوئی ترقیاتی ضروریات کی تکمیل کے لیے سرکاری شعبے کے بینکوں اور سرکاری مالیاتی اداروں کے لیے مستقبل کی سمت متعین کی
प्रविष्टि तिथि:
17 AUG 2026 5:08PM by PIB Delhi
وزارتِ خزانہ کے محکمۂ مالیاتی خدمات کے زیر اہتمام دو روزہ پی ایس بی کنفلوئنس 2026 کے پہلے روز سرکاری شعبے کے بینکوں اور سرکاری مالیاتی اداروں کی اعلیٰ قیادت، حکومت کے اعلیٰ افسران اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں بینکاری اور مالیاتی شعبے میں ابھرتے ہوئے مواقع اور حکمتِ عملی سے متعلق ترجیحات پر تبادلہ ٔخیال کیا گیا ۔
اس کنفلوئنس کو سات موضوعات کے گرد ترتیب دیا گیا ہے، جن میں سرکاری شعبے کے بینکوں اور سرکاری مالیاتی اداروں کے لیے مواقع کے اہم شعبے شامل ہیں۔ غور و خوض کا مقصد عملی حکمتِ عملی اور ایسے حل تلاش کرنا ہے جنہیں آگے بڑھایا اور مختلف اداروں میں وسیع پیمانے پر نافذ کیا جا سکے۔

پہلے روز کنفلوئنس سے مرکزی وزیر خزانہ و کارپوریٹ امور محترمہ نرملا سیتارمن اور محکمۂ مالیا تی خدمات کے سکریٹری نے خطاب کیا۔
مرکزی وزیرخزانہ نے دو روزہ کنفلوئنس کے دوران غور و خوض کے لیے منتخب کیے گئے سات موضوعات کی بینکاری شعبے، مالی شمولیت اور قرض کی فراہمی کو آگے بڑھانے میں اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دیا کہ غیر فعال اثاثوں کی تاریخی طور پر کم سطح نے بینکاری شعبے کو آئندہ مرحلے کی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا ہے۔

نوجوانوں کے لیے بینکاری خدمات کے موضوع پر مرکزی وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ بینکاری کا مستقبل ہندوستان کے نوجوانوں کی امنگوں کی عکاسی کرنے والا ہونا چاہیے، کیونکہ ہندوستان کی15 سے 29 سال کی عمر کی آبادی ملک کی مجموعی آبادی کا 29 فیصد ہے۔
محکمۂ مالیاتی خدمات کے سکریٹری نے کنفلوئنس کے مقاصد اور غور و خوض کو ٹھوس اور قابلِ عمل نتائج میں تبدیل کرنے کی اہمیت کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبے کے بینکوں اور سرکاری مالیاتی اداروں کو ابھرتے ہوئے مواقع کا پیشگی اندازہ لگانے، ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، مختلف اداروں میں کامیاب طریقۂ کار سے استفادہ کرنے اور اپنے اجتماعی تجربے کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ اقتصادی ترقی کے اگلے مرحلے میں مؤثر معاونت فراہم کی جا سکے۔

پہلے دن سات میں سے چار موضوعات پر تفصیلی بات چیت کی گئی:ڈپازٹ موبلائزیشن ، نوجوانوں کے لیے بینکنگ ، سرمایہ کاری کی حمایت اور عالمی صلاحیت کے مراکز (جی سی سی)۔ بات چیت میں صارفین کی گہری مصروفیت کے ذریعہ ڈپازٹ بیس کو مضبوط کرنے کے طریقوں پر روشنی ڈالی گئی۔ ہندوستان کے نوجوانوں کی امنگوں اور مالی ضروریات کے مطابق بینکنگ تجاویز تیار کرنا، ابھرتے ہوئے سرمایہ کاری کے چکر کی حمایت کے لیے ادارہ جاتی صلاحیتوں اور مالی حل کو بڑھانا اور توسیع پذیر جی سی سی ماحولیاتی نظام میں ابھرتے ہوئے مواقع پر قبضہ کرنے کے لیے پی ایس بی اور پی ایف آئی کی پوزیشن ۔ ماہر مقررین کے نقطۂ نظر سے بھی بات چیت کو تقویت ملی ، جن میں جناب سیشاگیری راؤ ایم وی ایس ، گروپ سی ایف او ، جے ایس ڈبلیو ، سرمایہ کاری سائیکل کی حمایت پر ، اور جناب تنے کیڈیال ، جی سی سی انٹرپرائز ٹرانسفارمیشن ایکسپرٹ ، جی سی سی ماحولیاتی نظام کے ارتقا پر شامل ہیں ۔

بات چیت میں ماہرین کی آراء نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ جن میں سرمایہ کاری کے چکر میں معاونت کے موضوع پر جے ایس ڈبلیو کے گروپ چیف فنانشل آفیسر جناب شیشاگیری راؤ ایم وی ایس اور عالمی صلاحیت کے مراکز کے بدلتے ہوئے ماحولیاتی نظام پر عالمی صلاحیت مرکز کے ادارہ جاتی تبدیلی کے ماہر جناب تنئے کیڈیال کی آراء شامل تھیں۔
نوجوانوں کے لیے بینکاری خدمات سے متعلق غور و خوض کے ایک حصے کے طور پر نوجوانوں کی وسیع تر شمولیت کے لیے محکمہ امورِ نوجوانان، وزارتِ امورِ نوجوانان و کھیل کے قومی پلیٹ فارم ’’میرا یوا بھارت‘‘سے استفادہ کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ ’’میرایوا بھارت‘‘ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر پرینکا شکلا نے ماہر مقرر کی حیثیت سے شرکت کی اور نوجوانوں تک رسائی کے حوالے سے اپنی آراء پیش کیں۔ 2.60 کروڑ سے زائد رجسٹرڈ صارفین اور وسیع رسائی کے نیٹ ورک کے ساتھ ’’میرا یوا بھارت‘‘ نوجوانوں کو رسمی مالیاتی نظام سے جوڑنے اور مالی شعبے میں تعلیمی مالی معاونت، کاروبار، انٹرن شپ اور روزگار کے مواقع سے متعلق ان کی آگاہی بڑھانے میں مدد کر سکتا ہے۔
دوسرے روز باقی تین موضوعات پر غور و خوض کیا جائے گا: زرعی و باغبانی کی قدر کی زنجیر سے متعلق بنیادی ڈھانچہ، ترجیحی شعبے کو قرض کی فراہمی اور کریڈٹ کارڈ کاروبار کو نئے انداز میں تشکیل دینا۔ اس کے بعد ساتوں موضوعاتی گروپوں سے سامنے آنے والی قابلِ عمل حکمتِ عملیوں اور اختراعی حل پر پیشکشیں دی جائیں گی۔
یہ کنفلوئنس حکومت سرکاری شعبے کے بینکوں اور سرکاری مالیاتی اداروں کی اس مشترکہ کوشش کی عکاسی کرتا ہے کہ بینکاری شعبے میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو مزید آگے بڑھایا جائے اور ابھرتے ہوئے مواقع کے لیے تیاری کی جائے۔ غور و خوض کا مقصد ادارہ جاتی صلاحیتوں اور مسابقت کو مضبوط بنانا اور سرکاری شعبے کے بینکوں و مالیاتی اداروں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ ہندوستان کی بدلتی ہوئی ترقیاتی امنگوں اور 2047 تک وکست بھارت کے سفر میں مؤثر معاونت فراہم کر سکیں۔

******
ش ح۔م ح ۔اش ق
U. No. 2232
(रिलीज़ आईडी: 2300569)
आगंतुक पटल : 19