الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹکنالوجی (این آئی ای ایل آئی ٹی) نے سائبر کشتی 2026 کا آغاز کیا: قومی سائبر سیکورٹی اور اے آئی ہیکاتھن میں کھوج کی رفتار کے بجائے درست فیصلے کو ترجیح دی جائے گی
ہیکاتھن کے آخری راؤنڈ کا اہتمام سائبر سلامتی، ڈیجیٹل فارینسک اور انٹیلی جینس پر تیسری قومی کانفرنس (این سی سی ڈی ایف آئی 2026)کے دوران کیا جائے گا
प्रविष्टि तिथि:
16 AUG 2026 12:17PM by PIB Delhi
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی تکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی)، حکومتِ ہند کے تحت کام کرنے والے ادارے 'نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی' (این آئی ای ایل آئی ٹی) نے 15 اگست کو 'سائبر کشتی 2026' کا آغاز کیا، جو کہ ایک قومی سائبر سیکیورٹی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) ہیکاتھن ہے جسے سائبر سیکیورٹی کی تشخیص میں انسانی فیصلے کو جانچنے اور اسے تسلیم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس ہیکاتھن کا باقاعدہ آغاز این آئی ای ایل آئی ٹی کے ڈائریکٹر جنرل اور این آئی ای ایل آئی ٹی ڈیمڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر (ڈاکٹر) ایم ایم ترپاٹھی نے کیا۔ یہ مقابلہ 'سائبر سیکورٹی، ڈیجیٹل فورینزکس اور انٹیلیجنس پر تیسری قومی کانفرنس' (این سی سی ڈی ایف آئی 2026) کے ایک باضابطہ اور متوازی تکنیکی شعبے کے طور پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس مقابلے کا انعقاد نیشنل سیکیورٹی ڈیٹا بیس (این ایس ڈی) کے تحت 'انفارمیشن شیئرنگ اینڈ انالیسس سینٹر' (آئی ایس اے سی فاؤنڈیشن) کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جس میں 'سی ای آر ٹی-ان' نالج پارٹنر کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔



'سائبر کشتی 2026' کے لیے رجسٹریشن کا آغاز 15 اگست سے ہو چکا ہے، اور یہ 10 ستمبر 2026 تک کھلی رہے گی۔ اس مقابلے میں شرکت بالکل مفت ہے اور اس میں طلبہ اور خود مختار محققین تین تین ارکان پر مشتمل ٹیموں کی شکل میں حصہ لے سکتے ہیں۔
ایک ہیکاتھن جو صرف تفتیش پر ہی نہیں بلکہ تیصلے پر بھی مرتکز ہو
روایتی سائبر سیکیورٹی مقابلوں کے برعکس—جو بنیادی طور پر سیکیورٹی کی خامیوں کی تلاش یا 'کیپچر دی فلیگ' (سی ٹی ایف) جیسے چیلنجز پر توجہ مرکوز کرتے ہیں—'سائبر کشتی 2026' کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس میں شرکاء کی سائبر سیکورٹی سے متعلق فیصلوں کی جانچ کرنے، انہیں ترجیح دینے اور ان کا دفاع کرنے کی صلاحیت کا اندازہ لگایا جا سکے۔
مقابلے میں حصہ لینے والی ہر ٹیم کو ایک جیسا اور جان بوجھ کر ادھورا یا ناقص بنایا گیا 'سیکورٹی اسیسمنٹ پیکیج' دیا جائے گا، جو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے تیار کردہ نتائج، اسٹیٹک انالیسس آؤٹ پٹس، ڈیپینڈینسی اور سیکریٹس اسکینز، آرکیٹیکچر کی دستاویزات، سورس کوڈ اور ایپلی کیشن لاگز پر مشتمل ہوگا۔
اس پیکیج میں غلط، دہرا دیے گئے اور حقیقی نتائج شامل ہوں گے، جبکہ کچھ اصل سیکورٹی خامیوں کو جان بوجھ کر چھوڑ دیا جائے گا۔ ٹیموں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ ایک درست اور ترجیحی بنیادوں پر ترتیب دی گئی سیکیورٹی اسیسمنٹ رپورٹ تیار کریں اور اپنے لیے گئے فیصلوں کا دفاع کریں۔ اس مقابلے میں شرکاء کو نہ صرف حقیقی مسائل کی شناخت کرنے پر، بلکہ غلط نتائج کو درست طریقے سے مسترد کرنے پر بھی انعامات دیے جائیں گے۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے این آئی ای ایل آئی ٹی کے ڈائرکٹر جنرل پروفیسر (ڈاکٹر) ایم ایم ترپاٹھی نے کہا، ’’ سیکورٹی کے کام کا سب سے مشکل پہلو اب بدل چکا ہے۔ ایک پوری نسل کے لیے، نایاب ترین مہارت سیکیورٹی کے مسئلے یا خامی کو تلاش کرنا تھی۔ آج مشینیں کسی بھی ٹیم کی پڑھنے کی رفتار سے کہیں زیادہ تیزی سے نتائج پیدا کر رہی ہیں۔ وہ اب تک جو کام قابلِ اعتماد طریقے سے نہیں کر سکتیں، وہ ہمیں یہ بتانا ہے کہ کون سے نتائج حقیقی ہیں، کون سے سب سے زیادہ اہم ہیں، اور کس مسئلے کو سب سے پہلے ٹھیک کیا جانا چاہیے۔ یہی فیصلہ سازی اب وہ مہارت ہے جو ہمارے اداروں کو پیدا کرنی چاہیے، اور یہ مقابلہ صرف اور صرف اسی ایک چیز کی جانچ کرتا ہے۔‘‘
ٹولز کے ذریعے تیار کردہ ایک جیسا مواد تمام ٹیموں کو بیک وقت فراہم کیا جائے گا، تاکہ مہنگے سیکیورٹی ٹولز کا فائدہ کم سے کم کیا جا سکے۔ شرکاء اپنی پسند کے کسی بھی مصنوعی ذہانت کے آلات استعمال کرنے کے لیے آزاد ہوں گے۔
پروفیسر (ڈاکٹر) ترپاٹھی نے مزید کہا، ’’ ملک کے کسی بھی حصے سے تعلق رکھنے والا کالج کا ایک طالب علم، کارپوریٹ ٹیم کے ساتھ مکمل طور پر مساوی شرائط پر مقابلہ کر سکتا ہے۔ اس کا آغاز یومِ آزادی پر کیا گیا ہے، کیونکہ جدید مشینوں کے دور میں آزادی کا مطلب اپنے سامنے پیش کیے گئے مواد کو پرکھنے، اختلاف کرنے، اور اس کی قطعی وجہ بتانے کا اعتماد ہے۔‘‘
تین راؤنڈس: اکھاڑا، دنگل اور کیسری
سائبر کشتی 2026 کا اہتمام تین تدریجی مراحل میں کیا جائے گا:
پہلا مرحلہ- اکھاڑا: یہ آن لائن مرحلہ 15 ستمبر 2026 کو منعقد ہوگا، جس سے 50 ٹیمیں اگلے مرحلے میں داخل ہوں گی۔
دوسرا مرحلہ- دنگل: اس آن لائن مرحلے کا اہتمام 24 ستمبر 2026 کو ہوگا، جہاں سے 10 فائنلسٹ ٹیموں کو منتخب کیا جائے گا۔
آخری مرحلہ – کیسری: اس کا اہتمام ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر واقع نئی دہلی میں 9 اکتوبر 2026 کو کیا جائے گا، جہاں دس فائنلسٹ ٹیمیں این سی سی ڈی ایف ٹی 2026 کے اصل مرحلے میں اپنے جائزے پیش کرنے اور دفاع کرنے سے قبل زیر سرپرستی کام کریں گی۔
آخری مرحلے کے دوران، ٹیموں کی پریزنٹیشنوں کے ساتھ ہی اسی اسیسمنٹ مواد کا ایک خودکار تجزیہ بھی دکھایا جائے گا۔ اس سے مندوبین کو یہ دیکھنے کا موقع ملے گا کہ مشین کا تیار کردہ تجزیہ اور ماہر انسان کا فیصلہ کہاں ایک دوسرے سے میل کھاتے ہیں اور کہاں ان میں فرق پایا جاتا ہے۔
اعتراف اور ایوارڈس
فائنل میں پہنچنے والے امیدواروں کی جانچ این آئی ای ایل آئی ٹی اور آئی ایس اے سی کے اشتراک سے تشکیل دی گئی ایک ممتاز جیوری کرے گی، جو حکومت، صنعت اور تعلیمی شعبے کے سینئر سائبر سیکیورٹی ماہرین اور پیشہ ور افراد پر مشتمل ہوگی، بشمول نیشنل سیکورٹی ڈیٹا بیس کے تحت تسلیم شدہ 'نیشنل سائبر سیکورٹی اسکالرز' کے۔
کامیاب ہونے والی ٹیم کو "سائبر کیسری 2026" کے اعزاز سے نوازا جائے گا اور روایتی ’گدا‘ پیش کیا جائے گا۔ دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیموں کو بالترتیب "رستم" اور "پہلوان" کے خطابات سے سرفراز کیا جائے گا۔
پہلے راؤنڈ کے شرکاء کو شرکت کا سرٹیفکیٹ اور ایک انفرادی اسکور کارڈ دیا جائے گا، جبکہ پہلے راؤنڈ سے آگے بڑھنے والے شرکاء کو این ایس ڈی ریکگنیشن کریڈٹس ملیں گے۔ ایک خصوصی انعام سب سے زیادہ سبق آموز اور غلط جمع کرائی گئی رپورٹ کو بھی دیا جائے گا، جس کا مقصد واضح طور پر دستاویزی شکل میں لکھی گئی اس منطق کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو تدریسی اہمیت رکھتی ہو۔
منظم اور محفوظ مقابلے کا ماحول
'سائبر کشتی 2026' کی تمام سرگرمیاں منتظمین کی طرف سے فراہم کردہ منظم ماحول کے اندر ہی منعقد کی جائیں گی۔ مقابلے کے کسی بھی مرحلے پر شرکاء کو نہ تو کسی لائیو سسٹم، فریقِ ثالث یا عوامی انفراسٹرکچر کی طرف جانے کی ہدایت کی جائے گی اور نہ ہی ان کے ساتھ منسلک ہونے کی اجازت ہوگی۔
این سی سی ڈی ایف آئی 2026 کے بارے میں
سائبر سیکورٹی، ڈیجیٹل فورینزکس اور انٹیلی جنس پر قومی کانفرنس (این سی سی ڈی ایف آئی) ایک کثیر الجہتی (ملٹی ڈسپلنری) پلیٹ فارم ہے جو حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ، صنعت، تعلیمی شعبے، محققین اور طلبہ کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔ این سی سی ڈی ایف آئی کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد این آئی ای ایل آئی ٹی کی جانب سے 9 اور 10 اکتوبر 2026 کو ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں کیا جا رہا ہے۔

این آئی ای ایل آئی ٹی کے بارے میں
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی تکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی)، حکومتِ ہند کی ایک خودمختار سائنسی سوسائٹی 'نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی' (این آئی ای ایل آئی ٹی)، مہارت کی ترقی (اسکل ڈیولپمنٹ) اور ڈیجیٹل بااختیاریت کے شعبے میں ہمیشہ سے پیش پیش رہی ہے۔
اپنے 56 این آئی ای ایل آئی ٹی مراکز، 700 سے زائد تسلیم شدہ اداروں، اور 8,000 سے زیادہ سہولتی مراکز کی وسیع موجودگی کے ساتھ، نائلٹ نے الیکٹرانکس اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں لاکھوں طلبہ کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں ہنر مند اور سند یافتہ بنایا ہے۔
وزارتِ تعلیم کی جانب سے این آئی ای ایل آئی ٹی کو ایک منفرد زمرے کے تحت 'ڈیمڈ یونیورسٹی' کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس کا مرکزی کیمپس روپڑ (پنجاب) میں واقع ہے جبکہ اس کے گیارہ جزوی کیمپسز آئزول، اگرتلا، کالی کٹ، چھترپتی سمبھاجی نگر، گورکھپور، امپھال، ایٹانگر، اجمیر، کوہیما، پٹنہ اور سری نگر میں قائم ہیں۔ اس کا مقصد ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے الیکٹرانکس اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم میں انقلابی تبدیلیاں لانا ہے۔
آئی ایس اے سی فاؤنڈیشن اور نیشنل سیکورٹی ڈیٹا بیس کے بارے میں
'انفارمیشن شیئرنگ اینڈ انالیسس سینٹر' (آئی ایس اے سی فاؤنڈیشن) سائبر سیکورٹی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) اور پیشہ ورانہ اخلاقیات پر مرکوز، ایک غیر منافع بخش رجسٹرڈ سائبر سیکورٹی فاؤنڈیشن ہے، جو بھارت میں ایک 'سیکشن 8' ادارے کے طور پر کام کر رہی ہے۔
نیشنل سیکورٹی ڈیٹا بیس (این ایس ڈی) انفارمیشن سیکورٹی کے پریکٹشنرز کے لیے پیشہ وارانہ شناخت اور سرٹیفکیشن کا پروجیکٹ ہے۔
سی ای آر ٹی اِن، حکومت ہند علمی شراکت دار ہے۔
****
(ش ح –ا ب ن)
U.No:2177
(रिलीज़ आईडी: 2300147)
आगंतुक पटल : 9