امور داخلہ کی وزارت
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے گجرات کے گاندھی نگر لوک سبھا حلقے کی لائبریریوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے تیار کردہ ’ گرامین گیان سیتو‘ایپ کا افتتاح کیا
’گرامین گیان سیتو‘ایک نئی پہل؛ اس کا مقصد بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا کرنے کے لیے ہر گاؤں میں ایک لائبریری قائم کرنا ہے
اب تک 752 لائبریریاں’گرامین گیان سیتو’ ایپ سےمنسلک
دولاکھ80؍ہزار کتابوں پر مشتمل چار لائبریریوں کو ان دیہی لائبریریوں سے منسلک کیا گیا ہے
گاندھی نگر، کالول اور سانند اسمبلی حلقوں کے تمام گاؤں میں پ5سے 6 ہزار کتابوں پر مشتمل 63 لائبریریاں قائم کرنے کا عمل شروع
وزیر داخلہ نے ذاتی طور پر لائبریریوں کے لیے کتابوں کی ایک فہرست تیار کی ہے، جن سے بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا ہوگا اور وہ علم کے وسیع سمندر میں غوطہ لگانے کی ترغیب پائیں گے
ایم پی ایل اے ڈی ایس کے تحت فراہم کی گئی گاڑیاں ہر پندرہ دن بعد گاؤں کا دورہ کریں گی، پہلے تقسیم کی گئی کتابیں واپس جمع کریں گی اور ایپ پر درج کتابیں گاؤں کی لائبریریوں تک پہنچائیں گی
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 8:48PM by PIB Delhi
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے گجرات کے گاندھی نگر لوک سبھا حلقے کی لائبریریوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے تیار کردہ ’ گرامین گیان سیتو‘ایپ کا افتتاح کیا۔
تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ آج ایس آر رنگناتھن کا یوم پیدائش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پورا ملک پدم شری رنگناتھن کا یوم پیدائش کو قومی یوم کتب خانہ کے طور پر منا رہا ہے اور اسی موقع پر ان کے لوک سبھا حلقے میں ایک نئے تصور اور پہل ’ گرامین گیان سیتو‘کا آغاز کیا گیا ہے۔جناب شاہ نے کہا کہ اس کا مقصد ہر گاؤں میں ایک لائبریری قائم کرنا ہے، جو مرکزی مقام پر اور اسکول کے قریب ہو، تاکہ بچوں میں مطالعے اور سیکھنے کا شوق پیدا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 63 لائبریریاں پہلے ہی قائم کی جا چکی ہیں۔ گاندھی نگر، کالول اور سانند اسمبلی حلقوں کے تمام گاؤں میں 5 سے 6 ہزار کتابوں پر مشتمل چھوٹی لائبریریاں کھولنے کی پہل بھی شروع کی گئی ہے۔مرکزی وزیر داخلہ نے بتایا کہ انہوں نے ذاتی طور پر ان کثیر المقاصد اور ہمہ جہت لائبریریوں کے لیے کتابوں کی فہرست تیار کی ہے۔ ان کتابوں کا مقصد بچوں میں مطالعے کے شوق کو بیدار کرنا اور رفتہ رفتہ انہیں علم کے وسیع سمندر میں غوطہ لگانے کی ترغیب دینا ہے۔اس کے علاوہ ان لائبریریوں میں نوعمروں اور نوجوانوں کی تعلیمی و پیشہ ورانہ ترقی کے لیے مفید کتابیں، نیز ریاستی اور قومی سطح کے مسابقتی امتحانات کی تیاری سے متعلق مطالعاتی مواد بھی دستیاب ہوگا۔ یہ انتظام بھی کیا گیا ہے کہ گاؤں ہی میں گجرات کی تاریخ، ملک کی تاریخ، تحریک آزادی کی داستان اور 1857 کے انقلاب سے متعلق کتابیں بھی دستیاب ہوں۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ بچوں میں مطالعے کی عادت پیدا کرنا والدین کی حوصلہ افزائی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ تاہم جو بچے پڑھائی کا شوق رکھتے ہیں، ان کے لیے2؍لاکھ 80؍ہزار کتابوں پر مشتمل چار لائبریریوں کو ان دیہی لائبریریوں سے منسلک کیا گیا ہے، جن سے انہیں مستقبل میں بہت فائدہ ہوگا۔مرکزی وزیر داخلہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ایم پی لوکل ایریا ڈیولپمنٹ فنڈس(ایم پی ایل اے ڈی) سے گاڑیوں کا انتظام کرکے یہ سہولت فراہم کی ہے۔ یہ گاڑیاں ہر پندرہ دن بعد گاؤں کا دورہ کریں گی، پہلے جاری کی گئی کتابیں واپس جمع کریں گی اور ایپ پر درج کتابیں گاؤں کی لائبریریوں تک پہنچائیں گی۔انہوں نے کہا کہ جو بچے اب تک 6,000 سے 7,000 کتابوں والی لائبریریوں میں جانے کے عادی ہیں، انہیں اب 2.80 لاکھ کتابوں کے وسیع ذخیرے تک رسائی حاصل ہوگی۔
مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ اگرچہ ’ گرامین گیان سیتو‘کا تصور انہوں نے پیش کیا تھا، لیکن وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر پٹیل اور حکومت گجرات نے اسے ایک نئے سائنسی طریقۂ کار کے ساتھ مربوط کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب 752 لائبریریاں ’ گرامین گیان سیتو‘ایپ سے منسلک ہو چکی ہیں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مطالعے کے بغیر بنیادی معلومات حاصل کرنا بھی ناممکن ہے، کسی بھی مضمون میں مہارت حاصل کرنا تو دور کی بات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسے جیسے افراد بچپن سے لڑکپن، پھر جوانی اور بالآخر بالغت کی طرف قدم بڑھاتے ہیں، مطالعے اور اس کے مختلف پہلوؤں سے متعلق قابل لائبریرینز کی رہنمائی لائبریریوں کو ملک کے لیے مفید اور کارآمد شہری بنانے میں ایک کلیدی کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔
جناب امت شاہ نے بتایا کہ مانسا کی مہاتما گاندھی لائبریری کو اس لائبریری سے متعلق اسکیم کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی لائبریری میں انہوں نے 16 برس کے عرصے میں مختلف موضوعات کا بنیادی علم حاصل کیا اور بعض موضوعات کی گہری سمجھ بھی پیدا کی۔ مانسا سے احمد آباد منتقل ہونے کے بعد وہ گجرات ودیا پیٹھ کی لائبریری سے وابستہ ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ کاکاصاحب کالیلکر نے گجرات ودیا پیٹھ کی لائبریری اس مقصد سے قائم کی تھی کہ ان جیسے بہت سے نوجوان علم کے سمندر میں غوطہ لگا سکیں۔ ہر موضوع کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی خواہش رفتہ رفتہ عادت میں تبدیل ہوئی اور بعد میں یہی عادت باقاعدہ مطالعے میں ڈھل گئی۔ انہوں نے کہا کہ اسی مطالعے کی عادت نے انہیں ایک مخصوص شعبے میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنایا اور اس پورے عمل میں لائبریری نے کلیدی کردار ادا کیا۔
وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ اب’ہب اینڈ اسپوک‘ماڈل کے ذریعے یہ لائبریریاں اور کتابیں نوجوانوں کے لیے دستیاب کرائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے زمانے میں اس طرح کی سہولیات موجود نہیں تھیں، لیکن اب یہ پروگرام موجودہ نسل کے لیے سائنسی طریقے سے قابلِ رسائی بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ سستو ساہتیہ منڈل، گیتا پریس، بھوپین ہزاریکا انسٹی ٹیوٹ اور تروولّور انسٹی ٹیوٹ جیسے مختلف ادارے آن لائن گجرات کے گاندھی نگر ضلع اور ریاستی سطح کی لائبریریوں سے منسلک ہوں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے یہ سہولت طلبہ اور قارئین کو دستیاب ہو جائے گی۔
جناب امت شاہ نے ملک اور ریاست کی گھریلو خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنے فارغ وقت کا مفید استعمال کرتے ہوئے مختلف موضوعات پر علم حاصل کریں اور اپنے بچوں کو مطالعے کی ترغیب دیں۔
****
ش ح۔م ع ن۔ ع د
U. No .1999
(रिलीज़ आईडी: 2298769)
आगंतुक पटल : 8