پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں (او ایم سیز) نے ای20 پیٹرول میں نمی اور کلورائیڈ کی موجودگی کی جانچ کی؛ 500 پی پی ایم کلورائیڈ اور نمی کی موجودگی کے دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی

प्रविष्टि तिथि: 08 AUG 2026 11:20AM by PIB Delhi

حالیہ دنوں میں ذرائع ابلاغ میں ای بی ایم ایس (ای20 پیٹرول) میں نمی اور کلورائیڈ کی موجودگی سے متعلق شائع ہونے والی خبروں کے پیش نظر، تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں (او ایم سیز) نے ملک بھر میں اضافی اور انتہائی جامع جانچ کا عمل انجام دیا، جس میں ای بی ایم ایس کی پوری سپلائی چین کا احاطہ کیا گیا۔ اس جانچ کے نتائج سے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ایندھن کا معیار مقررہ حدود کے اندر مسلسل برقرار ہے۔ بعض دعوؤں کے برعکس، سائنسی بنیادوں پر مرتب کردہ طریقۂ کار کے تحت وسیع پیمانے پر بے ترتیب نمونوں کی جانچ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ایندھن کی آلودگی کے حوالے سے تشویش کی کوئی وجہ موجود نہیں۔

او ایم سیز اپنے تمام معزز صارفین کو یقین دلانا چاہتی ہیں کہ ایندھن کے معیار کو وہ نہایت اعلیٰ ترجیح دیتی ہیں اور ایسا کوئی بھی معاملہ جو گاڑی کی کارکردگی یا صارفین کے اعتماد کو متاثر کر سکتا ہو، اس کا فوری طور پر سائنسی تحقیقات اور اصلاحی اقدامات کے ذریعے تدارک کیا جاتا ہے۔

حکومتِ ہند نے پیٹرول میں آمیزش کے لیے استعمال ہونے والے ایتھنول میں کلورائیڈ کی مقدار کے لیے سخت معیارات مقرر کیے ہیں اور پوری سپلائی چین میں ان معیارات کی پابندی یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ تعدد پر نگرانی کا مؤثر نظام نافذ کیا ہے۔ کلورائیڈ کی نگرانی سپلائی چین کے متعدد مراحل پر کی جا رہی ہے، جن میں ریفائنریاں، ڈسٹلریاں، ڈپو اور ٹرمینلز، نیز ملک بھر کے خردہ فروخت مراکز شامل ہیں۔ اس نگرانی سے یہ تصدیق ہوئی ہے کہ پوری سپلائی چین میں ایندھن کا معیار مسلسل برقرار رکھا جا رہا ہے۔

پہلے سے نافذ معیار کی یقین دہانی کے نظام کے علاوہ، تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں نے نگرانی کے عمل کو مزید مضبوط بناتے ہوئے ہر خردہ فروخت مرکز پر روزانہ 8 سے 12 مرتبہ پانی کے داخلے اور کثافت کے ٹیسٹ شروع کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر ایندھن کے معیار کی جانچ کرنے والی موبائل تجربہ گاہیں بھی تعینات کی گئی ہیں، جبکہ ٹیسٹ کے نتائج کی آزاد ایندھن تجربہ گاہوں سے بھی تصدیق کرائی جا رہی ہے تاکہ معیار کی یقین دہانی کے اعلیٰ ترین تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

پوری سپلائی چین میں نافذ کیے گئے یہ کثیرالجہتی اور مزید سخت جانچ کے طریقہ کار اس امر کی توثیق کرتے ہیں کہ ایندھن کے معیار کے حوالے سے ہمارے اعلیٰ ترین معیارات پوری طرح برقرار ہیں۔

  1. ریفائنری سے حاصل ہونے والے موٹر اسپرٹ (ایم ایس) میں کلورائیڈ کی اصل مقدار 1 پی پی ایم سے بھی کم ہے۔

ملک کی مختلف ریفائنریوں سے بے ترتیب طور پر منتخب کیے گئے پیٹرول کے 100 سے زائد اضافی نمونوں کی جانچ سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ کلورائیڈ کی مقدار مسلسل انتہائی کم سطح پر برقرار ہے اور تمام نمونوں میں یہ مقدار 1 پی پی ایم یا اس سے کم پائی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کے مضبوط ریفائننگ اور ترسیلی نظام میں نافذ معیار کی جانچ کے انتظامات مؤثر طور پر کام کر رہے ہیں۔

 

  1. ڈسٹلری سے فراہم کیا جانے والا خالص ایتھنول:

ڈسٹلریوں سے فراہم کیا جانے والا ایتھنول، جو پیٹرول میں آمیزش کا بنیادی جزو ہے، اس میں بھی کلورائیڈ کی مقدار مسلسل مقررہ معیار سے نمایاں طور پر کم پائی گئی ہے، جو پیداوار کے مرحلے پر مضبوط معیار کنٹرول نظام کی عکاسی کرتی ہے۔

او ایم سیز اور سی ایچ ٹی کے ارکان پر مشتمل ایک خصوصی ٹاسک فورس نے گزشتہ 10 دنوں کے دوران ملک بھر کی 80 ڈسٹلریوں سے ایتھنول کے نمونوں کی جانچ کی اور تمام نمونوں میں کلورائیڈ کی مقدار 3 پی پی ایم سے کم پائی گئی۔

 

  1. او ایم سیز کے مارکیٹنگ ڈھانچے کے ذریعے تقسیم کیا جانے والا ایتھنول آمیز موٹر اسپرٹ (ای20):

ڈپو اور ٹینک ٹرک: ڈپو اور ٹرمینلز پر جانچے گئے ایتھنول اور ای20 کے نمونے مقررہ کلورائیڈ معیارات پر پورا اترے ہیں۔ اس مرحلے پر باقاعدہ نگرانی کے ذریعے یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ذخیرہ اور تقسیم کے پورے نظام میں ایندھن کا معیار برقرار رہے۔ ملک بھر کے مختلف او ایم سی ٹرمینلز سے جمع کیے گئے 80 سے زائد نمونوں میں کلورائیڈ کی مقدار 3 پی پی ایم سے کم پائی گئی۔

خردہ فروخت مراکز (ریٹیل آؤٹ لیٹس): سخت نگرانی کے پروگرام کے تحت ایک ہزار سے زائد نمونے حاصل کیے گئے، جن میں سے گزشتہ چند دنوں کے دوران 160 جانچ رپورٹوں کا کلورائیڈ کے لحاظ سے تجزیہ کیا گیا۔ ان میں کلورائیڈ کی مقدار 0 سے 3 پی پی ایم کے درمیان رہی، جو کئی سو پی پی ایم کی مقدار کے دعوؤں کے بالکل برعکس ہے۔

نگرانی کے نظام میں صرف چار الگ تھلگ واقعات سامنے آئے جن میں کلورائیڈ کی نسبتاً زیادہ مقدار پائی گئی۔ ایسے تمام مقامات پر فوری طور پر سپلائی معطل کر دی گئی، اس کے بعد بنیادی اسباب کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا اور مناسب اصلاحی اقدامات نافذ کرنے کے بعد ہی سپلائی بحال کی گئی۔

 

  1. پانی کے داخلے کی جانچ:

ملک کے تقریباً 90 ہزار خردہ فروخت مراکز پر زیر زمین ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کی لازمی جانچ اور نگرانی شروع کر دی گئی ہے۔ ان ٹینکوں کا روزانہ 8 سے 12 مرتبہ معائنہ کیا جا رہا ہے، اور اب تک کسی بھی مقام پر پانی کے داخلے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

مذکورہ بالا تمام جانچ کے نتائج کا جدول بند خلاصہ سی ایچ ٹی کی سرکاری ویب سائٹwww.cht.gov.inپر دستیاب ہے۔ مزید جانچ رپورٹیں موصول ہونے پر اس معلومات کو وقتاً فوقتاً تازہ کیا جاتا رہے گا۔

تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیاں صارفین کو ایک بار پھر یقین دلانا چاہتی ہیں کہ ایندھن کا معیار ان کی اعلیٰ ترین ترجیح ہے۔ سپلائی چین کے ہر مرحلے پر معیار کی نگرانی مسلسل کی جاتی ہے اور جہاں بھی مقررہ معیار سے کسی قسم کا انحراف سامنے آتا ہے، وہاں فوری اور مؤثر اصلاحی اقدامات کیے جاتے ہیں۔

ان حقائق کی روشنی میں صارفین بلا جھجھک ای20 پیٹرول کا استعمال جاری رکھ سکتے ہیں، کیونکہ او ایم سیز کے نیٹ ورک کے ذریعے فراہم کیا جانے والا ایندھن مقررہ معیار کے مطابق ہے اور اس کی پشت پر مضبوط معیار کی یقین دہانی اور نگرانی کا ایسا مؤثر نظام موجود ہے جو سپلائی چین کے ہر مرحلے پر صارفین کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-1639


(रिलीज़ आईडी: 2296473) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Assamese , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam